پاکستان نے ایشیا کپ اور بنگلہ دیش نے دل جیت لیے

پاکستان نے ایشیا کپ جیت کر 12 سال بعد اپنا کھویا ہوا اعزاز تو حاصل کر لیا لیکن میزبان بنگلہ دیش نے اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعے دنیا بھر کے کروڑوں شائقینِ کرکٹ کے دل جیت لیے۔ شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں ایک بہت بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل میں دونوں ٹیموں نے میچ کے شایان شان کارکردگی دکھائی حتیٰ کہ معاملہ آخری اوور میں 9 رنز درکار تک پہنچ گیا جہاں ’پاکستانی زنجیر میں کمزور کڑی‘ سمجھے جانے والے اعزاز چیمہ نے اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے پاکستان کو 2 رنز کی ایک تاریخی فتح سے ہمکنار کر دیا۔

شکیب الحسن کا بولڈ، میچ کا 'ٹرننگ پوائنٹ' ثابت ہوا (تصویر: AFP)

شکیب الحسن کا بولڈ، میچ کا 'ٹرننگ پوائنٹ' ثابت ہوا (تصویر: AFP)

اس شکست پر میزبان کھلاڑیوں اور میدان میں موجود ہزاروں اور باہر لاکھوں کروڑوں جذباتی بنگلہ تماشائیوں پر جو بیتی، اس کی عکاسی وہ مناظر تھے جو میچ کے اختتام پر دیکھے گئے۔ بنگلہ دیشی کھلاڑی جیت کے اتنے قریب پہنچ کر بھی اسے نہ حاصل کرنے پر بہت آزردہ تھے اور اُن کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ حالانکہ انہوں نے جس جرات رندانہ کے ساتھ تمام ٹیموں کا سامنا کیا اور اتنی شاندار فتوحات سمیٹیں اس پر سر فخر سے بلند کرنے کا وقت تھا لیکن شاید انہیں غم اس بات کا ہو کہ وہ فتح کی خوشبو پا کر بھی اس سے محروم رہ گئے۔

ایشیا کپ، جسے جنوبی ایشیا کپ کہنا زیادہ مناسب لگتا ہے، کے اس تاریخی فائنل نے کئی پیچ و خم کھائے۔ ایک ہی مقابلے میں کئی لمحات ایسے تھے جن سے میچ کا توازن دونوں ٹیموں کے حق میں پلٹا۔ امپائرز کے ہاتھوں پاکستان کے دو کلیدی بلے بازوں کو غلط آؤٹ دینا، سرفراز احمد کے 46 قیمتی بلکہ فیصلہ کن رنز، آخری اوورز میں پاکستان کا 19 رنز سمیٹنا، بنگلہ دیش کے اوپنرز کا 68 رنز کا شاندار آغاز، یونس خان کے تین عمدہ کیچ، شکیب الحسن کا بولڈ، عمر گل کا 47 ویں اوور میں 14 رنز کھانا اور بالآخر اعزاز چیمہ کا فیصلہ کن اوور، کس کس کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا جائے؟

حقیقت یہی ہے کہ یہ ایشیا کپ کی تاریخ کے یادگار ترین مقابلوں میں سے ایک تھا۔ میزبان بنگلہ دیش جو مسلسل دو مقابلوں میں گزشتہ عالمی کپ کی فاتح و رنر اپ ٹیموں بھارت و سری لنکا کو شکست دے کر فائنل میں پہنچا تھا، بلند حوصلوں کے علاوہ ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کی بدولت فیورٹ تھا جبکہ مقابل پاکستان گزشتہ معرکے میں بھارت کے ہاتھوں بدترین ہار کھانے کے بعد دل گرفتہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش ابتدا ہی سے مقابلے پر حاوی ہو گیا اور قسمت نے بھی اُس کا بھرپور ساتھ دیا کہ ٹاس جیت کر اُس نے ایک مرتبہ پھر ہدف کے تعاقب کا انتخاب کیا کیونکہ وہ بھارت و سری لنکا کے خلاف اہم میچز اسی حکمت عملی کے تحت جیت چکا تھا۔

بہرحال، پاکستان نے پہلے بلے بازی شروع کی تو اسے ابتداء ہی سے مشکلات کا سامنا رہا اور ٹورنامنٹ میں ایک سنچری اور ایک ڈبل سنچری شراکت جڑنے والی اوپننگ جوڑی اس مرتبہ کوئی بہتر آغاز فراہم نہ کر سکی اور بالآخر پانچویں اوور میں ناصر جمشید کی مشرفی مرتضیٰ کے ہاتھوں روانگی نے بنگلہ دیش کو پہلا ہدف دلا دیا۔ ناصر جمشید کی وکٹ اِس لیے قیمتی تھی کہ وہ مسلسل فارم میں تھے اور اس ٹورنامنٹ میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے تھے۔ لیکن اگلے ہی اوور میں نظم الحسین کی گیند پر امپائر کا انتہائی ناقص فیصلہ یونس خان کی روانگی کا سبب بن گیا اور پاکستان ایسے دباؤ میں آ گیا کہ پھر اس کی اننگز آخری اوور کے آغاز تک سحرِ بنگال کے اثر سے نہ نکل پائی۔

دونوں اہم کھلاڑیوں کی روانگی نے کریز پر موجود محمد حفیظ اور آنے والے بلے باز مصباح الحق پر دباؤ میں اضافہ کر دیا اور رنز بنانے کی رفتار سست سے سست تر ہوتی چلی گئی۔ دونوں کے درمیان محض 36 رنز کی شراکت نے تقریباً 10 اوورز ضایع کر دیے۔ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی گیند بازی کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ بھی بہت عمدہ تھی اور اس کا سب سے اعلیٰ ثبوت پاکستان کے کپتان مصباح الحق کا خوبصورت رن آؤٹ تھا۔ ناصر حسین نے پوائنٹ پر پھرتیلی فیلڈنگ اور براہ راست تھرو نے رنز لینے کا فیصلہ کرنے میں شش و پنج کا مظاہرہ کرتے پاکستانی قائد کے کریز میں واپس پہنچنے سے قبل ہی اُن کی وکٹیں بکھیر دیں۔

کپتان کی روانگی نے حوصلوں کو مزید پست کر دیا اور رنز بنانے کی رفتار مزید ناتوانی کا شکار ہو گئی۔ جس کا لحاظ کریز پر موجود محمد حفیظ کو بارہا ہو رہا تھا کیونکہ ان کی اننگز بہت ہی سست روی کا شکار تھی اور بالآخر وہ عبد الرزاق کی گیند کو مڈ آن کے اوپر سے پھینکنے کی کوشش میں نظم الحسین کو کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے 87 گیندوں پر 40 رنز کی ’کچھوا چال‘ چلی اور ان کے لوٹتے ہی تمام تجربہ کار و سینئر کھلاڑی پویلین پہنچ گئے اور ذمہ داری نوجوان کاندھوں پر آ گئی۔ عمر اکمل اور حماد اعظم نے کسی حد تک اس کو نبھایا خصوصاً رنز بنانے کی رفتار میں کچھ اضافہ کیا۔ سب سے پہلے تو حماد اعظم نے اگلے اوور میں ملنے والی ایک فری ہٹ کو ڈیپ ایکسٹرا کور باؤنڈری سے باہر پھینک کر چھ رنز حاصل کیے۔ لیکن پاکستان مزید کوئی وکٹ گرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے روایتی انداز سے ہٹ کر بری گیندوں کا انتظار کیا اور انہی پر گیند بازوں کو عتاب کا نشانہ بنایا۔ پہلے حماد اعظم نے دو چوکے حاصل کیے اور پھر عمر اکمل نے اپنے بلے کا جادو دکھاتے ہوئے شکیب الحسن کو مڈ وکٹ پر زبردست چھکا رسید کیا۔ اب دونوں بلے باز باؤنڈریز کے ساتھ ساتھ ایک اور دو رنز بھی لینے لگے اور اسکور بورڈ پر رنز کی رفتار میں بہتری آ گئی لیکن حماد اعظم لڑکھڑا گئے اور مڈوکٹ پر ایک بھرپور شاٹ کھیلنے کی کوشش میں شکیب کی گیند پر وہ انہی کو کیچ تھما بیٹھے۔ گو کہ ان کی روانگی شاہد آفریدی کی آمد کا سبب بنی لیکن مسئلہ پاکستان کا بقیہ پورے 17 اوورز کھیلنا اور ان میں زیادہ سے زیادہ اسکور حاصل کرنا تھا اور اس کے لیے کریز پر موجود بلے بازوں کو بہت ذمہ داری کے ساتھ کھیلنا تھا۔

پھر وہ لمحہ آیا جو پاکستان کم از کم یونس خان کے آؤٹ ہونے کے بعد دوبارہ نہیں چاہتا تھا، جی ہاں! عمر اکمل بھی امپائر کے ایک انتہائی ناقص فیصلے کا شکار ہو گئے۔ اک ایسے وقت میں جب عمر پاکستان پاور پلے کے آغاز سے قبل پر تول رہے تھے۔ امپائر نے محمود اللہ کی باہر جاتی ہوئی گیند پر انہیں وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ قرار دیا حالانکہ گیند ان کے تھائی پیڈ سے لگ کر وکٹ کیپر کے پاس گئی تھی۔ عمر اکمل بہت برہم ہو گئے اور شدید غصے میں میدان سے باہر چلے گئے۔

آخری پاور پلے کے آغاز سے محض ایک گیند قبل پاکستان کے دونوں سیٹ بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے اور اسکور بورڈ پر بھی صرف 134 رنز جگمگا رہے تھے۔ امید کی آخری کرن شاہد آفریدی تھی جن کے بلے نے ایشیا کپ 2010ء میں ہونے والے آخری پاک-بنگلہ مقابلے میں برق رفتار سنچری بنائی تھی۔ گو کہ انہوں نے اسی کارنامے کو دہرانے کی کوشش کا آغاز کیا اور 4 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 22 گیندوں پر 32 رنز بنانے میں کامیاب ہو گئے لیکن شکیب کی گیند پر ناصر حسین کی پھرتی نے شاہد کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ پاکستان کی امیدوں کا آخری چراغ گل ہو گیا۔

سرفراز احمد کی 46 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے پاکستانی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: AFP)

سرفراز احمد کی 46 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے پاکستانی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: AFP)

اب تمام تر کوششوں کا محور یہ تھا کہ کسی طرح پورے 50 اوورز کھیلے جائیں اور یوں جتنے زیادہ رنز بن پائیں بنائے جائیں اور اس مہم کے سرخیل سرفراز احمد تھے۔ جنہوں نے شاہد کی روانگی کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ گو کہ اس وقت تک وہ 25 گیندوں پر صرف 10 رنز بنا پائے تھے لیکن یہ ذمہ داری کاندھوں پر پڑتے ہی انہوں نے فیلڈنگ پابندیوں کا پورا فائدہ اٹھایا اور اگلے اوور میں شہادت حسین کو دو چوکے جڑ کر ایک تاریخی اننگز کا آغاز کیا۔ درمیان میں عمر گل اور سعید اجمل ان کا ساتھ چھوڑ گئے لیکن سرفراز ایک اینڈ سے جمے رہے یہاں تک کہ اننگز کا آخری اوور آ گیا جس میں سرفراز نے پہلے کمر سے بلند نو بال گیند پر چوکا رسید کیا۔ شہادت نے ایک اور نو بال پھینکی جبکہ فری ہٹ پر بھی سرفراز نے دو رنز حاصل کیے اور پانچویں گیند پر پاکستان کے آخری سپاہی اعزاز چیمہ نے بھی چوکا مار کر اپنی اہمیت ظاہر کی اور آخری اوور میں 19 رنز مل کر پاکستان 236 رنز کے ایک معقول مجموعے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے عبد الرزاق نے سب سے عمدہ باؤلنگ کی جنہوں نے اپنے 10 اوورز میں محض 26 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ مشرفی مرتضیٰ اور شکیب الحسن نے بھی دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ایک، ایک وکٹ نظم الحسین اور محمود اللہ کو بھی ملی۔

بنگلہ دیشی بلے بازوں کی گزشتہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 237 رنز کا ہدف آسان لگتا تھا لیکن بنگلہ دیش کو فائنل کھیلنے کا دباؤ اور سری لنکا اور بھارت کی نسبت پاکستان کے بہتر باؤلنگ اٹیک کا چیلنج درپیش تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ایک نسبتاً کم ہدف کا تعاقب بنگلہ دیش نے محتاط انداز میں شروع کیا بلکہ اگر اسے حد سے زیادہ سست کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا خصوصاً ناظم الدین نے جیسی سست رفتار اننگز اس نے آنے والے بلے بازوں پر دباؤ میں اضافہ کیا اور رہی سہی کسر بعد ازاں ناصر حسین کی ایک اور ڈھیلی اننگز نے پوری کر دی۔ اگر ایک اینڈ سے اِن فارم تمیم اقبال تیز نہ کھیلتے تو بنگلہ دیش ابتدا ہی میں اچھی بھلی مشکل کا شکار ہو جاتا۔ مسلسل تین نصف سنچریاں داغ کر فائنل کے لیے میدان میں اترنے والے تمیم کے بلے سے رنز اگلنے کا سلسلہ بدستور جاری رہا جنہوں نے محض 68 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 60 رنز کی ایسی اننگز کھیلی جو وقت کی ضرورت تھی۔ ان کی اسی اننگز کی بدولت اسکور بورڈ ضرورت کے عین مطابق رفتار سے بڑھتا رہا یہاں تک کہ 17 ویں اوور میں ناظم الدین 52 گیندیں ضایع کر کے شاہد آفریدی کی گیند پر یونس خان کے ایک شاندار کیچ کا نشانہ بن گئے۔ آنے والے بلے باز ظہور الاسلام اگلے ہی اوور میں سعید اجمل کی ’دوسرا‘ پر سلپ میں کھڑے یونس کے ایک اور عمدہ کیچ کے ہاتھوں صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ پے در پے دو وکٹیں گرنے سے پاکستانی باؤلرز کے حوصلے بلند ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پہلا ہدف یعنی کہ تمیم اقبال کو نشانہ بنانا حاصل کر لیا۔ 24 ویں اوور کی پہلی گیند کو ایک اور خوبصورت کور ڈرائیو کے ذریعے باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش تمیم کو مہنگی پڑ گئی کیونکہ پاکستان کا ’گولڈن آرم‘ یعنی یونس وہاں موجود تھے جنہوں نے آگے کی جانب جست لگا کر ایک اور شاندار کیچ تھاما اور 81 رنز پر بنگلہ دیش کی تین وکٹیں گر گئیں۔ تشویش کی اصل بات رنز بنانے کی رفتار تھی جو اس وقت محض ساڑھے تین تھی۔

اس موقع پر بنگلہ دیش کی امیدوں کے دو مینار ناصر حسین اور شکیب الحسن کریز پر موجود تھے جنہوں نے اپنی پوری توانائیاں اس کوشش میں کھپا دیں کہ کسی طرح میچ میں ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں لے آئیں۔ دونوں نے 89 رنز کی بہت عمدہ شراکت داری قائم کی لیکن اس رفاقت کا ایک تاریک پہلو ناصر حسین کی سست اننگز تھی جو 63 گیندوں پر صرف 28 رنز بنا کر عمر گل کا شکار بنے۔ یہی وجہ ہے کہ درکار اوسط بڑھتا چلا گیا اور جب ناصر پویلین لوٹے تو اس وقت ساڑھے آٹھ اوورز میں بنگلہ دیش کو 67 رنز کا مشکل ہدف درکار تھا۔ رنز اور گیندوں کی اسی مساوات کو کم کرنے کی شکیب نے کوشش کی لیکن اگلے اوور میں اعزاز چیمہ کی ایک گیند پر وکٹوں کے پیچھے ایک اور چوکا حاصل کرنے کی کوشش انہیں مہنگی پڑ گئی اور گیند ان کی لیگ اسٹمپ اڑا گئی۔ 72 گیندوں پر ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے کھیلی گئي 68 رنز کی یہ اننگز میچ کو پاکستان کی گرفت سے تقریباً نکال گئی تھی لیکن اہم موقع پر اس وکٹ کا حصول پاکستان کو امیدِ تازہ بخش گیا۔

شکیب کی روانگی سے پاکستان کو بنگلہ دیشی لوئر مڈل آرڈر میں دراڑ ڈالنے کا موقع ملا۔ پہلے کپتان مشفق الرحیم اعزاز چیمہ کی گیند پر باؤنڈری پر دھر لیے گئے تو 48 ویں اوور میں محمود اللہ اور مشرفی مرتضیٰ کی خطرے کے نشان کو چھوتی شراکت داری کا سعید اجمل کے ہاتھوں خاتمہ ہوا۔ یہی پاکستان کی بنگلہ دیش پر فیصلہ کن ضرب تھی کیونکہ مشرفی نے جس عمدگی کے ساتھ گزشتہ اوور میں عمر گل کو تین چوکے رسید کیے تھے اس نے بنگلہ دیش کو فتح کے کنارے تک پہنچا دیا تھا۔ عمر گل کے اس اوور میں بنگلہ دیش نے 14 رنز سمیٹے اور اس کے بعد اسے 18 گیندو ں پر 25 رنز درکار تھے لیکن سعید اجمل کا عمدہ اوور اور مشرفی کی وکٹ بنگلہ دیش کو مشکلات سے دوچار کر گئی۔

اب صرف اور صرف ایک امید تھی اور وہ محمود اللہ سے وابستہ تھی جو بہت عمدگی کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ 49 ویں اوور میں عمر گل نے ایک نو بال کر کے پاکستانی تماشائیوں کو دل کے دورے کا شکار کر ہی دیا تھا اور ان کے اوور میں 10 رنز حاصل کرنے کے بعد اب بنگلہ دیش کو آخری اوور میں 9 رنز درکار تھے اور گیند اعزاز چیمہ کے ہاتھ تھی۔ جو عمدہ کارکردگی کے باوجود شائقین کرکٹ کی تنقید کی زد میں رہتے ہیں اور آج انہوں نے اپنی ثابت کی۔ بہت ہی عمدگی کے ساتھ انہوں نے ابتدائی چار گیندوں پر صرف چار رنز دیے اور پانچویں وکٹ پر عبد الرزاق کو بولڈ کر کے بنگلہ دیش کو سخت مشکل میں ڈال دیا جسے آخری گیند پر 4 رنز درکار تھے۔ شہادت حسین میدان میں اترے جن کے کاندھوں پر پاکستانی اننگز کے آخری اوورز میں 19 رنز کھانے کا بوجھ بھی تھا، اور اب اس کا قرضہ اتارنے کا موقع بھی لیکن اعزاز کی عمدہ یارکر کے سامنے ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور پاکستان محض 2 رنز سے فتح یاب ٹھیرا۔

اعزاز چیمہ نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں اور دو، دو وکٹیں عمر گل اور سعید اجمل کو ملیں۔ شاہد آفریدی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

یوں پاکستان 2000ء کے بعد پہلی بار ایشیائی چیمپئن بننے میں کامیاب ہوا اور بنگلہ دیش 2009ء کے بعد کسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے کے باوجود فتح کے خواب کو تعبیر نہ دے سکا۔

پاکستان کی اس تاریخی فتح میں جہاں تمام ہی کھلاڑیوں کا کردار اہم تھا وہیں خاص طور پر دو ایسے کھلاڑیوں کی کارکردگی فیصلہ کن رہی جنہیں عام طور پر اہم نہیں سمجھا جاتا ایک سرفراز احمد، جنہوں نے دباؤ میں ایک یادگار اننگز کھیلی اور اعزاز چیمہ، جنہوں نے آخری لمحات میں زبردست مہارت کا مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب بنگلہ دیش نے اس ٹورنامنٹ کے افتتاحی و اختتامی میچ میں پاکستان کو جتنی سخت مشکل میں ڈالا اور اس کے درمیان بھارت اور سری لنکا کے خلاف جس عمدگی سے میچ جیتے، اس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ بنگلہ دیش کے عالمی منظرنامے پر ایک قوت بننے کے لیے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیشی شائقین کی اس کھیل سے محبت کا اظہار تو اس ٹورنامنٹ میں ہو ہی گیا جس کے دوران بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر ٹیموں کے مقابلوں میں بھی تماشائی جوق در جوق میدان میں آئے۔

شاہد آفریدی کو تیز رفتار اننگز اور عمدہ گیند بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ مسلسل زبردست کارکردگی دکھانے پر شکیب الحسن ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز لینے میں کامیاب رہے۔

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان

ایشیا کپ 2012ء: فائنل

22 مارچ 2012ء

بمقام: شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم، میرپور، ڈھاکہ، بنگلہ دیش

نتیجہ: پاکستان 2 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: شاہد آفریدی

سیریز کے بہترین کھلاڑی: شکیب الحسن

پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک نظم الحسین ب عبد الرزاق 40 87 4 0
ناصر جمشید ک محمود اللہ ب مشرفی 9 8 2 0
یونس خان ایل بی ڈبلیو ب نظم الحسین 1 5 0 0
مصباح الحق رن آؤٹ 13 23 1 0
عمر اکمل ک مشفق الرحیم ب محمود اللہ 30 45 0 1
حماد اعظم ک و ب شکیب 30 37 3 1
شاہد آفریدی ک ناصر ب شکیب 32 22 4 1
سرفراز احمد ناٹ آؤٹ 46 52 4 0
عمر گل ک شکیب ب مشرفی 4 6 0 0
سعید اجمل ب عبد الرزاق 4 7 0 0
اعزاز چیمہ ناٹ آؤٹ 9 11 1 0
فاضل رنز ب 2، ل ب 8، و 4، ن ب 4 18
مجموعہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 236

 

بنگلہ دیش (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
مشرفی مرتضی 10 0 48 2
نظم الحسین 8 1 36 1
عبد الرزاق 10 3 26 2
شہادت حسین 9 0 63 0
شکیب الحسن 10 1 39 2
محمود اللہ 3 0 14 1

 

بنگلہ دیشہدف: 237 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
تمیم اقبال ک یونس ب عمر گل 60 68 8 0
ناظم الدین ک یونس ب آفریدی 16 52 0 0
ظہور الاسلام ک یونس ب اجمل 0 5 0 0
ناصر حسین ک مصباح ب عمر گل 28 63 1 0
شکیب الحسن ب اعزاز 68 72 7 1
مشفق الرحیم ک ناصر جمشید ب اعزاز 10 8 1 0
محمود اللہ ناٹ آؤٹ 17 16 1 0
مشرفی مرتضی ک ناصر جمشید ب اجمل 18 9 2 0
عبد الرزاق ب اعزاز 6 8 0 0
شہادت حسین ناٹ آؤٹ 0 1 0 0
فاضل رنز ل ب 5، و 4، ن ب 2 11
مجموعہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 234

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد حفیظ 10 0 30 0
عمر گل 10 2 65 2
سعید اجمل 10 2 40 2
شاہد آفریدی 10 1 28 1
اعزاز چیمہ 7 0 46 3
حماد اعظم 3 0 20 0

ٹویٹر پیغامات

 

 

 

Facebook Comments