[گیارہواں کھلاڑی] کیا صرف ایشیا کپ جیت لینا کافی ہے؟

گزشتہ چند سالوں میں پاکستانی کرکٹ کافی نشیب و فراز سے گزری ہے، جن میں سب سے زیادہ افسوسناک واقعہ 2009ء کے اوائل میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں ہونے والا حملہ تھا جبکہ اس سے بھی شدید اور پاکستانی کرکٹ کی بنیادیں ہلا دینے والا حملہ 2010ء میں انگلستان میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی صورت میں کیا گیا۔ ان دونوں حملوں سے پاکستان کرکٹ مزید پستی کی جانب چلی گئی، ملک کے میدان اس عظیم کھیل کی میزبانی سے محروم ہو گئے اور اور ٹیم کے تین باصلاحیت کھلاڑیوں پر بھی طویل پابندیاں لگ گئیں۔ گو کہ روٹھی ہوئی کرکٹ کو واپس لانا حکومت کا کام تھا اور اب بھی وہ اس کے لیے کوششیں کر رہی ہے لیکن تین اہم کھلاڑیوں پرپابندیاں عائد ہونے کے بعد ملک کو فتوحات دلانا باقی کھلاڑیوں کا کام تھا جنہوں نے بہت ہی احسن طریقے سے اس فریضے کو انجام دیا، جس کا اظہار ہم نے سال 2011ء میں پاکستان کی شاندار کارکردگی کی صورت میں دیکھا ہے۔

ایشیا کپ جیت کر سکون کا سانس لینے کے بجائے 2015ء عالمی کپ کی تیاری کرنی چاہیے (تصویر: Getty Images)

ایشیا کپ جیت کر سکون کا سانس لینے کے بجائے 2015ء عالمی کپ کی تیاری کرنی چاہیے (تصویر: Getty Images)

اس نازک دور میں پاکستان کی عالمی کپ 2011ء کے سیمی فائنل تک رسائی، عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیريز میں کلین سویپ اور اب اب ایشیا کپ جیتنا بہت بڑی کامیابیاں ہیں اور یہ تمام فتوحات بیرون ملک حاصل کی گئیں جو کہ ایک شاندار ریکارڈ ہے۔

بہرحال، کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ کھیل ہمیشہ امن کا سفیر رہا ہے اور متحارب ممالک کے درمیان بھی تناؤ کو کم کرتا ہے جس کی واضح مثال پاک-بھارت کرکٹ ڈپلومیسی ہے جو بڑے نازک مواقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لائی۔ لیکن جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو یہ کھیل امن کی سفارت سے استعفیٰ دے دیتا ہے جیسا کہ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم، جب کل 12 سال کرکٹ دنیا سے دور ہی رہی۔ اب اگر پاکستان میں دیکھیں تو تقریباً کچھ ایسی ہی صورتحال ہے کہ امن کا سفیر (کرکٹ) ہمارے درمیان نہیں لیکن پھر بھی پاکستان کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کے باہر بھی کافی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں ۔

لیکن ان کامیابیوں کو تسلسل درکار ہے اور اس کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو غور کرنا ہوگا کہ دنیائے کرکٹ پر راج کرنے کے لیے کون سی خصوصیات ہیں جو ٹیم میں ہونی چاہئیں۔ماضی میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا نے بہت بڑے عرصے تک دنیائے کرکٹ پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کی ہے اور ان کی مثال کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو مسلسل فتوحات ان ٹیموں میں مندرجہ ذیل خوبیاں پیدا کریں گی:

• کھلاڑیوں کا کیریئر طویل ہوگا
• انجریز کم سے کم دیکھنے کو ملیں گی
• کھلاڑی ہمیشہ صرف ملک کے لیے کھیلیں گے
• ان کا بورڈ کھلاڑیوں کو ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کرے گا
• سلیکٹرز سینئرز کے ساتھ ساتھ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی گروم کرتے ہیں

اب اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑی انہی مثالوں کو سامنے رکھ کر ایک طویل المیعاد حکمت عملی مرتب کرے تو میں کرک نامہ کے توسط سے بورڈ کو ضمانت دیتا ہوں کہ پاکستان 2015ء کا عالمی کپ بھی جیتے گا اور 2017ء میں ٹیسٹ چیمپئن بھی بنے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ 2015ء عالمی کپ کے لیے ابھی سے کم از کم 13 کھلاڑی ایسے چنے جو 2015ء تک زیادہ سے زیادہ کھیلیں تاکہ ان کے پاس کافی تجربہ آ جائے۔ مسلسل کھیلنے سے کیریئر کبھی کم نہیں ہوتا اور نہ ہی کھلاڑی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

لیکن اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑی ایشیا کپ کے حصول پر ہی قناعت کر لیتے ہیں اور اس بات کو دماغ پہ سوار کر لیتے ہیں کہ ہم ایشین ٹائیگرز بن گئے ہیں تو یہ بہت بڑی بے وقوفی ہوگی اور اس فتح سے کوئی ثمرات حاصل نہیں ہوں گے۔ پاکستان کرکٹ کرتا دھرتا بھی شائقین کی طرح اس امر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ پاکستان نے کتنی مشکل سے ایشیا کپ کے مقابلے جیتے ہیں خصوصاً بھارت کے خلاف معرکے میں 330 رنز کے بھاری مجموعے کا دفاع کرنے میں ناکامی بڑی ٹیموں کے خلاف پاکستان کی صلاحیتوں کو آشکار کر چکی ہے۔

مصنف کا تعارف: شفقت ندیم سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹویٹر (@Shafqatcricket) پر کرکٹ کے حوالے سے ایک معروف نام ہیں، آپ نے کرک نامہ پر "گیارہویں کھلاڑی" کے نام سے تحاریر و معلومات کے سلسلے کا آغاز کیا ہے۔ آپ انہیں یہاں پر فالو کر سکتے ہیں اور کرکٹ کی تازہ ترین معلومات اور ریکارڈز سے آگہی حاصل کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments