چھکوں کی بارش میں ویسٹ انڈیز فتح یاب، سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل

کیرون پولارڈ کی زندگی کی یادگار ترین اننگز اور بعد ازاں ویسٹ انڈین گیند بازوں اور فیلڈروں کی نپی تلی گیند بازی اور پھرتیلی کارکردگی نے ویسٹ انڈیز کو حیران کن طور پر آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں 2-1 کی ناقابل شکست برتری دلا دی ہے۔ گروس آئی لیٹ، سینٹ لوشیا میں ہونے والے چوتھے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے کا سب سے شاندار مرحلہ وہ تھا جب کیرون پولارڈ کریز پر موجود تھے جنہوں نے 8 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے محض 70 گیندوں پر 102 رنز بنائے اور میچ کو مکمل طور پر آسٹریلیا کی گرفت سے نکال لیا اور ویسٹ انڈیز کو 294 رنز کے زبردست مجموعے تک پہنچا دیا۔ انہوں نے زاویئر ڈوہرٹی، شین واٹسن اور کلنٹ میک کو بلند و بالا چھکے رسید کیے اور بالآخر بریٹ لی کی ایک شارٹ گیند پر چھکا لگا کر ہی اپنی سنچری مکمل کی۔

کیرون پولارڈ کی ایک اور اننگز نے ویسٹ انڈین فتح کی راہ ہموار کی (تصویر: AP)

کیرون پولارڈ کی ایک اور اننگز نے ویسٹ انڈین فتح کی راہ ہموار کی (تصویر: AP)

ان کے علاوہ ایڈرین بارتھ کے 31 گیندوں پر 41 رنز اور آخری لمحات میں کپتان ڈیرن سیمی کے 13 گیندوں پر 31 رنز نمایاں رہے جس کی بدولت ویسٹ انڈیز نے 294 رنز کا بہت بڑا مجموعہ اکٹھا کیا اور آسٹریلیا کو اس میدان پر فتح کے لیے ریکارڈ ہدف دیا۔ آسٹریلیا کے اسٹرائیک باؤلر بریٹ لی گو کہ 2 وکٹیں سمیٹنے میں کامیاب رہے لیکن ان کے 10 اوورز میں ویسٹ انڈین بلے بازوں نے 72 رنز لوٹے جن میں اننگز کی آخری گیند پر لگایا گیا ڈیرن سیمی کا چھکا بھی شامل تھا۔ لی کے علاوہ شین واٹسن اور زاویئر ڈوہرٹی کو بھی دو، دو وکٹیں ملیں جبکہ میک کے ایک وکٹ حاصل کر پائے۔ بریٹ لی کے آخری اوور میں ویسٹ انڈیز نے 23 رنز بنائے جس میں ایک چھکا پولارڈ نے اور دو چھکے اور ایک چوکا سیمی نے لگایا۔

295 رنز کے نسبتاً مشکل ہدف کے تعاقب کی ابتداء ہی میں آسٹریلیا کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس موقع پر آسٹریلیا کو جس بلے باز کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہی دوسرے اوور کی پہلی گیند پر پویلین لوٹ گیا، یعنی ڈیوڈ وارنر جو محض ایک رن بنا پائے۔ اب کریز پر موجود کپتان شین واٹسن اور پیٹر فورسٹ نے برق رفتاری کے ساتھ اسکور کو آگے بڑھایا اور اگلے 7 اوورز میں 55 رنز بنا لیے۔ لیکن نویں اوور کی پہلی ہی گیند پر واٹسن اپنے ہم منصب سیمی کی ایک شارٹ گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش میں ایک آسان کیچ تھما بیٹھے اور میچ آسٹریلیا کی گرفت سے نکلنے لگا۔

ویسٹ انڈیز نے میچ میں اپنی فیلڈنگ کا پہلا خوبصورت نظارہ اگلی وکٹ پر دکھایا جب سیمی کے اگلے ہی اوور میں تھرڈ مین پر موجود جانسن چارلس نے پیٹر فورسٹ کا ایک زبردست کیچ لیا۔ اس کیچ کو تھامنے کی کوشش میں اپنا کندھا بھی زخمی کر بیٹھے کیونکہ انہوں نے آگے کی جانب جست لگائی تھی اور زمین پر گرنے سے محض چند انچ پہلے گیند کو جکڑ لیا۔

آسٹریلیا اب کسی بڑے نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا اس لیے ٹی ٹوئنٹی کپتان جارج بیلے اور مائیکل ہسی کو بہت سمجھ بوجھ کر کھیلنے کی ضرورت تھی۔ دونوں نے رنز بنانے کی رفتار کو ضرورت کے عین مطابق رکھا اور ابتداء میں باؤنڈریز پر کم انحصار کیا البتہ اس دوران انہوں نے ڈیرن سیمی کے ایک اوور میں ایک چھکا اور ایک چوکا ضرور حاصل کیا اور 13 رنز سمیٹ کر حریف کپتان کو پریشانی میں ڈال دیا لیکن سیمی نے اپنا 'ترپ کا پتہ' یعنی آندرے رسل پھینکا جس نے اپنے دوسرے ہی اوور میں پہلے جارج بیلے اور پھر مائیکل ہسی کو ٹھکانے لگا کر آسٹریلیا کی آدھی ٹیم ٹھکانے لگا دی۔ جارج بیلے ایک بہت باہر جاتی ہوئی گیند کو چھیڑنے کی پاداش میں 25 رنز بنا کر پویلین لوٹے جبکہ ہسی پل کرنے کی کوشش میں لیگ سائیڈ پر وکٹ کیپر کو کیچ تھما بیٹھے۔ انہوں نے 26 رنز بنائے۔ اس اوور نے ویسٹ انڈیز کو میچ پر ایسی فیصلہ کن گرفت دے دی جس سے آسٹریلیا تمام تر سعی و جدوجہد کے باوجود نہیں نکل پایا۔

بہرحال، 5 وکٹیں گرنے کے بعد اب تمام تر امیدوں کا محور 'مرد بحران' ڈیوڈ ہسی تھے جن کو وکٹ کیپر اور نچلے آرڈر میں چند مفید کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل رہا۔ ہسی نے اپنی بساط کے مطابق بھرپور کوشش کی اور وقتاً فوقتاً باؤنڈریز اور اپنے روایتی ایک، دو رنز کے ساتھ اسکور بورڈ کو متحرک رکھنے والے انداز کے ذریعے بڑھتے ہوئے درکار اوسط کو کم کرنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی مرحلہ آخری 20 اوورز کا آیا انہوں کا بلا بھی تیزی سے حرکت کرنے لگا پہلے انہوں نے مارلون سیموئلز کو دو گیندوں پر مسلسل دو چوکے جڑے اور پولارڈ کے اوور میں بھی یہی کارنامہ انجام دیا۔ لیکن رنز کی بڑھتی ہوئی اس رفتار میں وکٹ کیپر ویڈ ان کا ساتھ چھوڑ گئے جنہیں پولارڈ کے کیچ چھوڑنے کے باعث ایک زندگی پہلے بھی ملی تھی، اور 34 ویں اوور کی آخری گیند پر وہ لانگ آف پر کیچ دے کر 67 رنز کی شراکت کا خاتمہ کر گئے۔ اگلے ہی اوور میں ڈیوڈ ہسی ڈیپ مڈ وکٹ پر کیچ تھما بیٹھے لیکن ان کی حاضر دماغی دیکھئے کہ انہوں نے آؤٹ ہوتے ہی امپائر کی توجہ دلائی کہ دائرے کے اندر زیادہ فیلڈرز موجود ہیں جس پر امپائر نے اس گیند کو نو بال قرار دیا اور ہسی کو نئی زندگی ملی۔ لیکن ان کی کہانی بہت زیادہ دیر تک نہ چل سکی اور بالآخر 39 ویں اوور میں وہ کیمار روچ کی گیند کو کھیلنے کے لیے جگہ بنانے کی کوشش میں کچھ زیادہ ہی وکٹیں چھوڑ بیٹھے اور بولڈ ہو گئے۔ یہاں سے آسٹریلیا کی فتح امیدیں معدوم ہونا شروع ہو گئیں۔

اسی اوور میں روچ کی ایک گیند براہ راست بریٹ لی کے بازو پر لگی تھی، اور اس خطرناک گیند کا پورا بدلہ بریٹ لی نے اگلے اوور میں بڑی بے رحمی سے لیا اور روچ مسلسل گیندوں پر تین چوکے اور پھر دو چھکے رسید کیے۔ اس اوور میں مجموعی طور پر لی نے 24 رنز لوٹے۔ اس کے بعد تو انہوں نے ویسٹ انڈین باؤلرز کو کے چھکے چھڑا دیے۔

بریٹ لی نے برق رفتار نصف سنچری کے ذریعے کوشش ضرور کی لیکن ہدف تک پہنچنا ان کے بس کی بات نہ تھی (تصویر: AP)

بریٹ لی نے برق رفتار نصف سنچری کے ذریعے کوشش ضرور کی لیکن ہدف تک پہنچنا ان کے بس کی بات نہ تھی (تصویر: AP)

اگلے اوور میں انہوں نے ڈیرن براوو کو بھی ایکسٹرا کور پر ایک زبردست چھکا رسید کیا جو سیدھا تماشائیوں کے درمیان جا گرا۔ ان بلند و بالا شاٹس کے ساتھ میدان میں موجود ہزاروں تماشائیوں پر خاموشی طاری ہوجاتی لیکن بہرحال مقابلہ اب بھی ویسٹ انڈیز کی گرفت میں تھا کیونکہ آسٹریلیا کی صرف تین وکٹیں باقی تھیں جن میں سے کوئی بھی باقاعدہ بلے باز نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے اینڈ سے انہوں نے اپنا دباؤ برقرار رکھا اور بالآخر ڈیوین براوو کی دھیمی گیند نے میک کے کو باہر کا راستہ دکھا کر فتح کو اور نزدیک کر دیا۔

اب تو بریٹ لی 'آخری سپاہی' کے طور پر رہ گئے، انہوں نے اگلے اوور میں آندرے رسل کو مسلسل دو گیندوں پر دو چھکے مارے اور اپنی نصف سنچری مکمل کی تاہم دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کو روکنا ان کے بس کی بات نہ تھی اور سنیل نرائن نے ڈوہرٹی کی صورت میں آسٹریلیا کی نویں وکٹ گرا کر فتح کو محض ایک گیند کی بات بنا دیا۔ ڈوہرٹی کا خوبصورت کیچ کپتان ڈیرن سیمی نے دائیں جانب جست لگا کر لیا۔ بریٹ لی مزید دباؤ نہ جھیل پائے اور اگلے ہی اوور میں گیند کو لانگ آف باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے اور یوں ویسٹ انڈیز نے 42 رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز میں 2-1 کی ناقابل شکست بلکہ ناقابل یقین برتری حاصل کر لی۔ بریٹ لی کیریئر کی بہترین اننگز کھیل کر 59 رنز پر آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 48 گیندوں پر 5 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے یہ کارآمد اننگز کھیلی لیکن ہدف کا حصول ان کے بس سے باہر کی بات تھی۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیمار روچ، ڈیوین براوو، ڈیرن سیمی اور آندرے رسل نے 2،2 وکٹیں سمیٹیں لیکن قابل ذکر باؤلنگ اسپنر سنیل نرائن کی تھی جنہوں نے 10 اوورز میں محض 21 رنز دیے اور ایک کھلاڑی کو بھی آؤٹ کیا۔ ایک وکٹ کیرون پولارڈ کو بھی ملی۔

یہ ویسٹ انڈیز کے لیے اس لحاظ سے ایک تاریخی موقع ہے کہ اس نے عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کے خلاف زبردست فتوحات حاصل کیں اور اگر وہ تیسرے ایک روزہ میں غلطی نہ کرتا تو شاید اس وقت سیریز جیت چکا ہوتا کیونکہ اس میچ میں ویسٹ انڈیز کی آخری جوڑی کی غلطی کی وجہ سے مقابلہ ٹائی ہو گیا تھا لیکن آج ویسٹ انڈیز نے جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ کیا اس نے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ یہ ٹیم عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر موجود ہے۔ نہ صرف بلے بازی بلکہ گیند بازی اور فیلڈنگ میں بھی کیریبین کھلاڑیوں نے اپنی جان لڑا دی۔

میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد پولارڈ نے اسے اپنے کیریئر کی بہترین اننگز قرار دیا۔

دونوں ٹیمیں اب اسی میدان میں 25 مارچ کو پانچواں و آخری ایک روزہ مقابلہ کھیلیں گی جس میں فتح ویسٹ انڈیز کو عرصہ دراز کے بعد آسٹریلیا پر فتح یاب کرے گی جبکہ شکست کی صورت میں سیریز برابری کی بنیاد پر ختم ہو جائے گی۔

ویسٹ انڈیز بمقابلہ آسٹریلیا

چوتھا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

23 مارچ 2012ء

بمقام: بوسیجور اسٹیڈیم، گروس آئی لیٹ، سینٹ لوشیا

نتیجہ: ویسٹ انڈیز 42 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: کیرون پولارڈ

ویسٹ انڈیز رنز گیندیں چوکے چھکے
جانسن چارلس ک لی ب ڈوہرٹی 37 62 3 1
ایڈرین بارتھ ک ویڈ ب میک کے 41 31 9 0
مارلون سیموئلز ک ویڈ ب لی 11 41 1 0
ڈیرن براوو ک ڈیوڈ ہسی ب واٹسن 25 50 3 0
ڈیوین براوو ایل بی ڈبلیو ب ڈوہرٹی 0 1 0 0
کیرون پولارڈ ک مائیکل ہسی ب لی 102 70 5 8
آندرے رسل ک بیلے ب واٹسن 34 32 4 0
ڈیرن سیمی ناٹ آؤٹ 31 13 3 2
کارلٹن با ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 3، و 10 13
مجموعہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 294

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
بریٹ لی 10 0 72 2
بین ہلفنیاس 10 1 43 0
کلنٹ میک کے 10 1 57 1
شین واٹسن 10 0 55 2
زاویئر ڈوہرٹی 10 1 64 2

 

آسٹریلیاہدف: 295 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
شین واٹسن ک روچ ب سیمی 28 24 2 2
ڈیوڈ وارنر ک نرائن ب ڈیوین براوو 1 4 0 0
پیٹر فورسٹ ک چارلس ب سیمی 24 28 4 0
جارج بیلے ک با ب رسل 25 36 1 1
مائیکل ہسی ک با ب رسل 26 30 3 0
ڈیوڈ ہسی ب روچ 57 54 7 0
میتھیو ویڈ ک رسل ب پولارڈ 15 36 2 0
بریٹ لی ک متبادل ب روچ 59 48 5 5
کلنٹ میک کے ک پولارڈ ب ڈیوین براوو 2 12 0 0
زاویئر ڈوہرٹی ک سیمی ب نرائن 1 6 0 0
بین ہلفنیاس ناٹ آؤٹ 0 3 0 0
فاضل رنز ل ب 1، و 11، ن ب 2 14
مجموعہ 46.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 252

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کیمار روچ 9.3 0 74 2
ڈیوین براوو 6 0 47 2
سنیل نرائن 10 0 21 1
ڈیرن سیمی 9 0 42 2
آندرے رسل 7 0 34 2
مارلون سیموئلز 3 0 17 0
کیرون پولارڈ 2 0 16 1

Facebook Comments