عامر کی پابندی کے خلاف کھیلوں کی ثالثی عدالت میں اپیل

اسپاٹ فکسنگ کیس میں قصور وار ٹھہرائے گئے پاکستان کے تیز گیند باز محمد عامر نے پابندی کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ محمد عامر نے نجی پاکستانی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے وکیل شاہد کریم کے ذریعہ اینٹی کرپشن ٹریبونل کی عائد کردہ پانچ سالہ پابندی کے خلاف کھیلوں کی ثالثی عدالت میں ایپل بھیج دی ہے جو آئندہ روز عدالت کو موصول ہوجائے گی۔

گزشتہ سال ماہ اگست میں انگلستان کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر دانستہ نو بالز کرانے پر اسپاٹ فکسنگ کا الزام عائد کی گیا تھا۔ واقعہ کی مکمل تحقیقات کے لیے آئی سی سی کی جانب سے مائیکل بیلوف کی سربراہی میں اینٹی کرپشن ٹربیونل قائم کیا گیا جس نے قطر دارالحکومت دوحہ میں 6 تا 11 جنوری تک سماعت کی اور 5 فروری کو فیصلہ سناتے ہوئے تین پاکستانی کھلاڑیوں پر پانچ پانچ سال کی مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

فیصلہ کے بعد ملوث قرار دیے گئے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں نے سزا کے خلاف کھیلوں کی ثالثی عدالت کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم سلمان بٹ اور محمد آصف کی جانب سے اب تک اپیلوں کے متعلق کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی آئی سی سی کو محمد عامر کی سزا پر نظر ثانی کی درخواست کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں مذکورہ تینوں کھلاڑیوں برطانوی پراسیکیوٹرز نے رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کے الزام میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

کھیلوں کی ثالثی عدالت (Court of Arbitration for Sport) سویٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں واقع ایک بین الاقوامی ثالثی ادارہ ہے جسے کھیلوں سے متعلق تنازعات کو حل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) کے صدر ہوان انتونیو سمارانچ کی تجویز پر 1984ء میں اس عدالت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ابتداء میں یہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا حصہ تھی تاہم اسے آزاد تر بنانے کے لیے ایک علیحدہ ادارے کی حیثیت دی گئی۔

اگر محمد عامر کا معاملہ واقعتا کھیلوں کی ثالثی عدالت میں جاتا ہے تو یہ ممکنہ طور پر ثالثی عدالت میں کرکٹ کا پہلا مقدمہ ہوگا۔ واضح رہے کہ محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کے خلاف آئی سی سی کی تفتیش اور فیصلہ بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔

Facebook Comments