[آج کا دن] ’جنگ موہالی‘ کو ایک سال مکمل

کہنے کو تو دنیائے کرکٹ میں آسٹریلیا و انگلستان کے درمیان مقابلے کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن جتنے بڑے پیمانے پر دنیا بھر کے شائقین کو پاک-بھارت ٹکراؤ اپنی جانب کھینچتا ہے ایسے مقابلے پوری دنیا میں خال خال ہی ہوتے ہیں۔ ایک ارب سے زائد شائقین کی جانیں روایتی حریفوں کی معرکہ آرائی میں اٹکی ہوتی ہیں اور اگر یہ مقابلہ عالمی کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں ہو تو گویا دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جانے کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی گزشتہ سال عالمی کپ کے سیمی فائنل کے موقع پر ہوا جہاں بھارت نے اپنی فتوحات کی روایت کو برقرار رکھا اور ایک سخت مقابلے کے بعد پاکستان کو 29 رنز سے شکست دے کر عالمی کپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ جس کے بعد سرحد کے ایک طرف خوشی کے شادیانے تھے تو دوسری جانب شکوے، گلے اور غم و غصے کا اظہار۔

چار زندگیاں ملنے کے باوجود سچن اپنے بین الاقوامی کیریئر کی 100 ویں سنچری نہ بنا پائے، لیکن ان کی اننگز نے میچ میں فیصلہ کن کردار ضرور ادا کیا (تصویر: AFP)

چار زندگیاں ملنے کے باوجود سچن اپنے بین الاقوامی کیریئر کی 100 ویں سنچری نہ بنا پائے، لیکن ان کی اننگز نے میچ میں فیصلہ کن کردار ضرور ادا کیا (تصویر: AFP)

آج سے ٹھیک ایک سال قبل پی سی اے اسٹیڈیم، موہالی، چندی گڑھ میں ہونے والے مقابلے نے آغاز سے لے کر آخر تک پاک و ہند میں کروڑوں لوگوں کی دلوں کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کیا۔ وریندر سہواگ کے عمر گل کو رسید کیے گئے پے در پے چوکے، پاکستانی فیلڈرز کا سچن تنڈولکر کے کئی کیچ چھوڑنا، وہاب ریاض کا یووراج سنگھ کو بولڈ کرنا اور آخر میں مصباح الحق کا حالات کے تقاضوں کے عین برعکس ایک سست اننگز کھیلنا، بھلا کون سا کرکٹ شائق بھول سکتا ہے۔ یہ مقابلہ کروڑوں افراد کے حافظے کا ایسا حصہ بن چکا ہے جو تاعمر انہیں یاد رہے گا۔

اس سیمی فائنل تک رسائی کے لیے ’غیر متوقع‘ نتائج دینے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم نے حیران کن کارکردگی دکھائی اور اپنے گروپ میں سرفہرست آ کر سب کو حیران کر دیا۔ اُس نے آسٹریلیا اور سری لنکا جیسے مضبوط حریفوں کو زیر اور کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کو با آسانی ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ پائی۔ دوسری جانب بھارت جنوبی افریقہ سے ہارنے اور انگلستان کے خلاف مقابلہ برابر کھیلنے کے بعد کوارٹر فائنل مرحلے تک پہنچا اور دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو باہر کر کے ایک تاریخی مقابلے کا اہتمام کر دیا یعنی ”پاک بھارت سیمی فائنل“۔

اس مقابلے کے لیے خصوصی اہتمام کیے گئے، حکومت ہند کی جانب سے پاکستان کے وزیر اعظم کو میچ دیکھنے کی خصوصی دعوت دی گئی جسے قبول کیا گیا اور پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے ساتھ اس یادگار مقابلے کو دیکھا۔ ان کے علاوہ بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی، ان کے صاحبزادے راہول گاندھی، عامر خان، سنیل سیٹھی اور پریتی زنتا سمیت بھارتی فلم صنعت کے کئی ستارے اور پاکستان سے آئے ہوئے متعدد خاص مہمانوں نے میدان میں رہ کر اپنی اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی۔

پاکستان میں اس موقع پر خصوصی تعطیل کا اعلان کیا گیا، اور موقع کی مناسبت سے ہوٹلوں اور میدانوں میں بڑی اسکرینوں پر میچ دکھانے کے خصوصی انتظامات کیے گئے جہاں سینکڑوں و ہزاروں افراد نے مل کر اس مقابلے کا بھرپور لطف اٹھایا۔

سیمی فائنل سے قبل ہی بھارت کو ہوم گراؤنڈ، ہوم کراؤڈ اور مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے باعث فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا جبکہ پاکستان گو کہ اپنے گروپ میں زیادہ بہتر کارکردگی پیش کر کے سیمی فائنل تک پہنچا تھا لیکن ماضی کے پیش نظر اس کی فتح کے امکانات کم ہی تھے۔ پاکستان تاریخ میں کبھی کسی عالمی کپ کے مقابلے میں بھارت کو نہیں ہرا پایا۔ عالمی کپ مقابلوں میں دونوں روایتی حریف 5 مرتبہ آمنے سامنے آئے اور ہر مرتبہ فتح ہندوستان ہی کی جھولی میں گری ہے۔

توقعات کے عین مقابلے کا آغاز بہت ہی شاندار انداز میں ہوا، بھارت نے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی کمزوری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور وریندر سہواگ نے عمر گل کے دوسرے ہی اوور میں انہیں پانچ چوکے رسید کر کے اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کر دیا اور یہیں سے پاکستان کے کھلاڑیوں کے ہاتھ پیر پھول گئے اور مقابلے پر ان کی گرفت کمزور پڑ گئی۔ سہواگ کا بلّا رنز اگلنے لگا یہاں تک کہ وہاب ریاض کو چھٹے اوور میں طلب کیا گیا جنہوں نے آتے ہی سہواگ کو پویلین کا راستہ دکھایا اور پاکستان نے سکھ کا سانس لیا لیکن اس عرصے میں بھارت محض 6 اوورز میں 49 رنز بنا چکا تھا۔

لیکن اس مرحلے پر ایک ایسی چیز بھارت کے ساتھ تھی، جس کی ہر ٹیم تمنا کرتی ہے، یعنی ’قسمت‘۔ سچن سعید اجمل کے دوسرے اوور ایک خوبصورت گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے، امپائر نے انگلی فضا میں بلند کر دی اور میدان پر سکوت طاری ہو گیا۔ سچن نے اپنے ساتھی گوتم گمبھیر سے مشورہ کیا اور کچھ گفت و شنید کے بعد امپائر کے فیصلے پر نظر ثانی کروانے کی ٹھانی۔ تیسرے امپائر نے ایل بی ڈبلیو کو جانچنے کے لیے ’ہاک آئی‘ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جس نے ثابت کیا کہ گیند جو بظاہر درمیانی وکٹ کو ٹکراتی ہوئی نظر آ رہی تھی، لیگ اسٹمپ سے بھی نہیں لگ رہی تھی اور یوں سچن کو زندگی مل گئی۔ اسٹیڈیم میں زندگی جاگ اٹھی۔ اگلی گیند پر سچن سعید اجمل کی ’دوسرا‘ کو سمجھنے میں ناکام رہے اور کامران اکمل کے اسٹمپ کیے جانے کے بعد تیسرے امپائر نے ’شک کا فائدہ‘ سچن کو دیا اور یہیں سے یہ عظیم بلے باز سمجھ گیا کہ آج کوئی غیر معمولی دن ہے۔

دو مسلسل گیندوں پر سچن کو مواقع ملنے کے بعد پاکستان کے حوصلے مزید پست ہو گئے اور پھر ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا، کیچ چھوڑنے کا۔ پاکستان سچن کی سعید اجمل کو سمجھنے میں تمام تر ناکامی کے باوجود اُن کی وکٹ حاصل کرنے میں جلد کامیاب نہ ہوا اور بالآخر 4 کیچ چھوڑے جانے کے بعد اس وقت انہیں آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوا جب وہ 115 گیندوں پر 85 رنز بنا چکے تھے۔

پاکستان کے لیے میچ کا سب سے حوصلہ افزا اوور 26 واں تھا جب 141 کے مجموعے پر وہاب ریاض نے دو مسلسل گیندوں پر ویراٹ کوہلی اور یووراج سنگھ کو آؤٹ کر کے پاکستان کو مقابلے میں واپس آنے کا راستہ دیا۔ ان میں سے یووراج سنگھ کا بولڈ ایک بہت ہی خوبصورت گیند پر ہوا جو ہوا میں تیرتی ہوئی سیدھا ”بلاک ہول“ میں گری اور یووراج کی لیگ اسٹمپ کو اڑا گئی۔

سچن کے بعد پاکستانی فیلڈرز نے مہندر سنگھ دھونی کا بھی ایک کیچ چھوڑا، گو کہ وہ زیادہ مہنگا ثابت نہیں ہوا اور دھونی اگلی ہی گیند کھیلتے ہوئے ایل بی ڈبلیو ہو گئے لیکن حریف ٹیم کو مواقع فراہم کرنے سے پاکستان کے اعتماد کو کافی ٹھیس پہنچی۔ اور ایک ایسے مقابلے میں جہاں سارا کھیل ہی ”دباؤ“ کا ہو، اس طرح کی فراخدلی میچ کو گنوانے کے برابر تھی۔

بہرحال، بھارت نے سریش رینا کے 36 رنز کی بدولت اسکور بورڈ پر 260 رنز کا مجموعہ اکٹھا کر لیا، جو کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے تو کوئی بہت بڑا ہدف نہیں تھا لیکن پاکستان کی نازک اندام بیٹنگ لائن اپ کے لیے کسی ہمالیہ سے کم نہ تھا۔

پاکستانی فیلڈرز نے گیند بازوں خصوصاً سعید اجمل اور شاہد آفریدی کی تمام تر محنتوں پر پانی پھیر دیا، لیکن وہاب ریاض 5 وکٹیں لے کر نمایاں رہے (تصویر: AFP)

پاکستانی فیلڈرز نے گیند بازوں خصوصاً سعید اجمل اور شاہد آفریدی کی تمام تر محنتوں پر پانی پھیر دیا، لیکن وہاب ریاض 5 وکٹیں لے کر نمایاں رہے (تصویر: AFP)

پھر بھی پاکستان نے ایک عمدہ آغاز لیا۔ اوپنرز محمد حفیظ اور کامران اکمل نے ابتدائی بھارتی گیند بازوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جن کی کارکردگی پورے ٹورنامنٹ میں بہت ناقص رہی تھی اور وہ زبردست تنقید کی زد میں تھے۔ کامران اور حفیظ نے پہلی وکٹ پر 9 اوورز میں 44 رنز بنائے یہاں تک کہ ظہیر خان کی گیند پر کامران اکمل کی واپسی کا پروانہ جاری ہوگیا۔ لیکن پاکستان کو جو سب سے بڑی ضرب لگی وہ 16 ویں اوور میں تھی جب مناف پٹیل کی ایک آف اسٹمپ سے کہیں باہر پڑنے والی فل لینتھ گیند کو پیڈل سویپ کرنے کی بے وقوفانہ کوشش نے حفیظ کی ایک اچھی اننگز کا خاتمہ کر دیا، انہوں نے 43 رنز بنائے۔ اب ذمہ داری سینئرز کے کاندھوں پر تھی کہ وہ نہ صرف خود کھیلیں بلکہ نوجوان اسد شفیق اور عمر اکمل کا بھی بھرپور استعمال کریں۔

جب پاکستان نصف منزل پر پہنچا تو اس کے 103 رنز پر دو کھلاڑی آؤٹ تھے اور میچ کافی حد تک متوازن تھا لیکن ٹورنامنٹ میں شاندار آل راؤنڈ کارکردگی دکھانے والے یووراج سنگھ نے اپنے دو مسلسل اوورز میں اسد شفیق (30 رنز) اور یونس خان (13 رنز) کو ٹھکانے لگا کر پاکستان کو بہت بڑی مصیبت میں ڈال دیا۔ اسد ایک سیدھی آنے والی گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے جبکہ یونس ایک آہستہ پھینکی گئی گیند کو ڈرائیو کرتے ہوئے کور پر سریش رینا کو کیچ دے گئے۔

اب آخری مستند بلے بازوں کی جوڑی رہ گئی یعنی مصباح الحق اور عمر اکمل، اور اب تمام تر انحصار انہی دونوں پر تھا کہ وہ اننگز کو آگے بڑھائیں۔ عمر اکمل تو اپنے روایتی انداز سے تیز کھیلتے جا رہے تھے لیکن اس موقع پر جو نقصان مصباح الحق کی غیر ضروری دفاعی حکمت عملی نے پہنچایا، اس کی وجہ سے آخری لمحات میں پاکستان کے پاس اتنی گیندیں ہی نہیں بچیں کہ وہ ہدف تک پہنچ پائے۔ جب تک عمر اکمل کریز پر موجود تھے تو مصباح کے اِس رویّے کی سمجھ میں آتی تھی کہ جب دوسرے اینڈ سے تیز رفتاری سے رنز بن رہے ہیں تو بلا وجہ خطرہ مول نہ لیا جائے لیکن عمر کے لوٹ جانے کے بعد بھی اُن کے بلّے میں کوئی حرکت نہیں دکھائی دی۔

عمر اکمل نے یووراج کو ایک اوور میں ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا اور اگلے اوور میں ایک مرتبہ پھر چھکا رسید کیا اور بڑھتے ہوئے رن اوسط کو قابل رسائی رکھنے کی پوری کوشش کی۔ یووراج کی اس دھنائی کے بعد بھارتی کپتان نے اگلا اوور ہربھجن کو دے دیا جنہوں نے آتے ہی عمر اکمل کو بولڈ کر دیا۔ انہوں نے بھی وہی غلطی کی جو اسد شفیق نے کی تھی کہ ایک سیدھی وکٹوں میں آتی گیند کو کٹ کرنے کی سعی لاحاصل کی اور ایک بہت ہی نازک موقع پر پاکستان کو مشکلات سے دوچار کر گئے۔

اس کے بعد تو گویا رنز کو ’ہینڈ بریک‘ لگ گیا۔ اگلے چار اوورز میں جب تک مصباح اور عبد الرزاق کریز پر موجود رہے صرف 8 رنز بنے جبکہ پاکستان کو درکار رن اوسط 7 سے بھی بڑھ رہا تھا۔ بالآخر عبد الرزاق کےپویلین سدھارنے کے بعد کپتان شاہد آفریدی میدان میں اترے، آتے ہی اپنی بساط کے مطابق رنز کی رفتار بڑھانے کی کوشش کی۔ اوسط کچھ بہتر ہوتا ہوا نظر آیا لیکن پاکستان نے ایک بہت بڑی غلطی کی کہ آخری پاور پلے بروقت نہیں لیا حالانکہ یہی وہ وقت تھا جس کا آفریدی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ انہوں نے نجانے کس کی خاطر پاور پلے کو آخری لمحات کے لیے رکھ چھوڑا اور جب 42 ویں اوور میں ہربھجن سنگھ کی ایک فل ٹاس کو میدان بدر کرنے کی کوشش میں شاہد آفریدی آؤٹ ہو گئے تو گویا میچ کا فیصلہ ہو چکا۔پاکستان کو 48 گیندوں پر 77 رنز درکار تھے اور کریز پر صرف ایک بلے باز موجود تھے یعنی مصباح الحق۔ جنہوں نے غالباً قسم کھا رکھی تھی کہ معاملے کو آخری لمحات تک لٹکائے رکھنا ہے۔

جب آخری پانچ اوورز میں پاور پلے لیا گیا تو پاکستان کو محض 30 گیندوں پر 61 رنز کا ہدف درکار تھا جس کی کم از کم مصباح الحق سے تو توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ گو کہ انہوں نے پاور پلے کا آغاز ہی ایک چوکے سے کیا اور بعد ازاں ظہیر خان کو بھی ایک اوور میں دو چوکے رسید کیے لیکن دوسرے اینڈ سے وکٹیں روکنا اور اپنی طرف سے بڑھتے ہوئے رن اوسط کو حاصل کرنا اُن کے بس کی بات ہی نہ تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو آخری اوور میں 30 رنز کا ناقابل عبور ہدف درپیش آ گیا۔ مصباح الحق پانچویں گیند پر آؤٹ ہو گئے اور میچ کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستان 29 رنز سے شکست کھا گیا اور بھارت کا عالمی کپ جیتنے کا خواب پورا ہونے میں صرف ایک میچ کا فاصلہ رہ گیا۔

بھارت کے آزمائے گئے پانچویں گیند بازوں نے 2،2 وکٹیں حاصل کر کے فتح میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور سب سے اہم بات کہ بھارت کے فیلڈرز نے کوئی کیچ نہ چھوڑا۔ یوں پاکستان کی بھیانک فیلڈنگ اس کی شکست کی سب سے بڑی وجہ بنی لیکن ذلت مصباح الحق کے حصے میں آئی۔ جنہوں نے 76 گیندوں پر 56 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی 42 گیندوں پر صرف 17 رنز بنائے تھے، جس کی وجہ سے عام تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی سست بلے بازی پاکستان کی شکست کی وجہ تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ حریف ٹیم کو کیچ چھوڑ کر چھ زندگیاں عطا کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا صرف اور صرف میچ میں ہار ہے جو بالآخر پاکستان کو ملی۔

سچن تنڈولکر کو 84 رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اور پاکستانی ٹیم کو شکست کے باوجود پاکستان بھر میں بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ ماضی کے برعکس یہ ایک حوصلہ کن امر تھا اور بلاشبہ قومی کرکٹ ٹیم کی عالمی کپ 2011ء میں کارکردگی قابل رشک تھی۔

تاریخی مقابلے کا اسکور کارڈ

بھارت بمقابلہ پاکستان

عالمی کپ 2011ء: دوسرا سیمی فائنل

30 مارچ 2011ء

بمقام: پی سی اے اسٹیڈیم، موہالی، چندی گڑھ

نتیجہ: بھارت 29 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: سچن تنڈولکر

بھارت رنز گیندیں چوکے چھکے
وریندر سہواگ ایل بی ڈبلیو ب وہاب ریاض 38 25 9 0
سچن تنڈولکر ک شاہد آفریدی ب سعید اجمل 85 115 11 0
گوتم گمبھیر اسٹمپ کامران اکمل ب محمد حفیظ 27 32 2 0
ویراٹ کوہلی ک عمر اکمل ب وہاب ریاض 9 21 0 0
یووراج سنگھ ب وہاب ریاض 0 1 0 0
مہندر سنگھ دھونی ایل بی ڈبلیو ب وہاب ریاض 25 42 2 0
سریش رینا ناٹ آؤٹ 36 39 3 0
ہربھجن سنگھ اسٹمپ کامران اکمل ب سعید اجمل 12 15 2 0
ظہیر خان ک کامران اکمل ب وہاب ریاض 9 10 1 0
اشیش نہرا رن آؤٹ 1 2 0 0
مناف پٹیل ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 8، و 8، ن ب 2
مجموعہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 260

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
عمر گل 8 0 69 0
عبد الرزاق 2 0 14 0
وہاب ریاض 10 0 46 5
سعید اجمل 10 0 44 2
شاہد آفریدی 10 0 45 0
محمد حفیظ 10 0 34 1

 

پاکستانہدف: 261 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
کامران اکمل ک یووراج ب ظہیر 19 21 3 0
محمد حفیظ ک دھونی ب مناف 43 59 7 0
اسد شفیق ب یووراج 30 39 2 0
یونس خان ک رینا ب یووراج 13 32 0 0
مصباح الحق ک کوہلی ب ظہیر 56 76 5 1
عمر اکمل ب ہربھجن 29 24 1 2
عبد الرزاق ب مناف 3 9 0 0
شاہد آفریدی ک سہواگ ب ہربھجن 19 17 1 0
وہاب ریاض ک تنڈولکر ب نہرا 8 14 1 0
عمر گل ایل بی ڈبلیو ب نہرا 2 3 0 0
سعید اجمل ناٹ آؤٹ 1 5 0 0
فاضل رنز و 8 8
مجموعہ 49.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 231

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ظہیر خان 9.5 0 58 2
اشیش نہرا 10 0 33 2
مناف پٹیل 10 1 40 2
ہربھجن سنگھ 10 0 43 2
یووراج سنگھ 10 1 57 2

Facebook Comments