سپر 8 کپ میں عمدہ کارکردگی، خالد لطیف قومی ٹیم میں واپسی کے لیے پرامید

فیصل بینک سپر 8 ٹی ٹوئنٹی کپ زبردست معرکہ آرائی کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا جس میں راولپنڈی کے خوبصورت اسٹیڈیم میں ’ناقابل شکست‘ سیالکوٹ اسٹالینز نے پہلی بار سپر8 کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ میزبان و دفاعی چیمپئن راولپنڈی ریمز بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے۔ کراچی ڈولفنز کو مسلسل دوسرے سال سپر 8 کے فائنل میں شکست کا ذائقہ چکھنا پڑا جبکہ اس طرح قومی ٹی ٹوئنٹی کپ اور سپر8 کپ دونوں میں اُن کی فائنل میں شکستوں کا سلسلہ بھی مزید دراز ہو گیا ہے لیکن اس حوصلہ شکن ہار کے باوجود اُن کے اوپنر خالد لطیف کا کہنا ہے کہ وہ اس شکست سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں اور زیادہ قوت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر میدان میں جلوہ گر ہوں گے۔

خالد لطیف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کے بعد سے قومی ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے (تصویر: Getty Images)

خالد لطیف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کے بعد سے قومی ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے (تصویر: Getty Images)

فائنل میں 59 گیندوں پر 81 رنز بنانے والے خالد لطیف نے معروف ویب سائٹ ’پاک پیشن‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ”میں بھرپور فارم اور پورے اعتماد کے ساتھ سپر 8 کپ کے لیے میدان میں اترا، جو پاکستان کا عالمی معیار کا ٹورنامنٹ ہے جہاں ملک کے بہترین گیند بازوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ذاتی نقطہ نگاہ سے میں سپر 8 میں اچھی کارکردگی سے میں بہت مطمئن ہوں۔“ خالد سپر 8 کپ کے 5 مقابلوں میں 60 سے زائد کے اوسط سے 243 رنز بنا کر سب سے نمایاں بلے باز رہے۔

سپر 8 کپ کے فائنل میں شکست پر خالد لطیف کا کہنا تھا کہ ”یہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ اور سپر 8 کپ کے فائنل مقابلے میں ہماری چھٹی شکست تھی، اس لیے اسے سہنا بڑا مشکل تھا۔ گو کہ 6 فائنل مقابلوں میں پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک اچھی ٹیم ہیں لیکن ایک مرتبہ پھر شکست کا سبب غلطیوں کے ساتھ ساتھ قسمت بھی تھا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ ہم بھرپور توانائی کے ساتھ واپس آئیں گے اور فائنل میں شکستوں کے اس سلسلے کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔“ انہوں نے کہا کہ ”ہماری اننگز کا آخری اوور فیصلہ کن ثابت ہوا جس میں ہم نے 4 وکٹیں گنوائیں جبکہ بعد ازاں ہم نے عمران نذیر کا ایک کیچ بھی چھوڑا جو بہت مہنگا ثابت ہوا۔ ساتھ میں سیالکوٹ کے تجربہ کار گیند بازوں نے بھی بہت عمدہ باؤلنگ کی جس کا نتیجہ آخر میں ہماری شکست کی صورت میں نکلا۔“

پاکستان کی انڈر-19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان خالد لطیف نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپر 8 کپ میں ان کی کارکردگی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کی راہ ہموار کرے گی۔ ”کسی بھی کھلاڑی کے لیے خواب ہوتا ہے کہ اپنے ملک کی نمائندگی کرے اور میں نے اپنی بیٹنگ پر بہت محنت کی ہے اور حالیہ کارکردگی سے خوش بھی ہوں اور اب ایک بار پھر ملک کی جانب سے کھیلنے کی خواہش شدت سے جاگ اٹھی ہے لیکن یہ سلیکٹرز پر منحصر ہے کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کےی منتخب کرتے ہیں لیکن میں پرامید ہوں کہ مجھے پاکستان کی جانب سے کھیلنے کا دوبارہ موقع ملے گا۔“

خالد نے آخری مرتبہ مئی 2010ء میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی جہاں اُن کا آخری مقابلہ آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل مقابلہ تھا، جو پاکستان مائیکل ہسی کی معجزاتی کارکردگی کے باعث ہار گیا تھا۔

Article Tags

Facebook Comments