[آج کا دن] محمد عامرکی 20 ویں سالگرہ

اگر دنیا بھر کے کرکٹ شائقین سے بھی یہ سوال کیا جائے تو ماضئ قریب میں کس گیند باز نے عالمی منظرنامے پر سب سے زیادہ تہلکہ مچایا؟ تو اکثریت کا جواب صرف ایک ہوگا پاکستان کا ”محمد عامر“۔ یہ نوجوان جب 17 سال کی عمر میں پہلی بار عالمی سطح کے کسی مقابلے کے لیے میدان میں اترا تو کئی لوگوں کی نظریں اس پر مرکوز تھیں کیونکہ یہ بائیں ہاتھ سے باؤلنگ کرنے والے تاریخ کے عظیم ترین باؤلر وسیم اکرم کی پسند تھا اور چند ہی مقابلوں میں عامر نے اپنی اہلیت کو ثابت کر دکھایا۔

محمد عامر نے 14 ٹیسٹ کے مختصر کیریئر میں 51 وکٹیں حاصل کیں (تصویر: Getty Images)

محمد عامر نے 14 ٹیسٹ کے مختصر کیریئر میں 51 وکٹیں حاصل کیں (تصویر: Getty Images)

کرکٹ میں تبدیل ہوتے قوانین اور اس کے نتیجے میں گیند بازوں پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے دور جدید میں باؤلنگ خصوصاً تیز باؤلنگ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں جتنے اچھے باؤلر ابھرے ہیں وہ سب اسپنر ہیں اور اب بھی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست باؤلرز میں سے کافی بڑی تعداد اسپنرز کی ہے۔ اس لیے ایسے دور میں کسی ایسے تیز باؤلر کا ابھرنا اس فن کے لیے ایک نیک شگون تھا۔

انہوں نے 2009ء میں انہوں نے اپنے ڈومیسٹک کیریئر کا آغاز کیا اور نیشنل بینک کی جانب سے کھیلتے ہوئے 55 وکٹیں حاصل کیں اور فوری طور پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستانی دستے میں جگہ حاصل کی۔ ٹورنامنٹ میں اہم مواقع پر بہترین باؤلنگ کر کے ٹیم میں اپنا مقام مضبوط کیا اور بعد ازاں پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

انہوں نے ٹورنامنٹ میں کئی اہم اوورز کرائے جن میں سب سےاہم فائنل کا پہلا اوور تھا جب انہوں نے پانچویں گیند پر تلکارتنے دلشان کو صفر پر آؤٹ کیا اور پاکستان کو میچ میں ابتدا ہی سے برتری دلائی۔ شاندار کارکردگی پر محمد عامر کو وسیم اکرم کا جانشیں کہا گیا یہاں تک کہ خود وسیم اکرم نے کہا کہ 18 سال کی عمر میں میں اتنی غیر معمولی قابلیت کا حامل نہیں تھا جتنا کہ عامر ہے۔

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد انہوں نے نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور انگلستان کے دورے کیے اور اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بناتے چلے گئے اور دنیا بھر کے ماہرین نے انہیں مستقبل کا بہت بڑا اثاثہ قرار دیا۔ خصوصاً 2010ء میں انگلستان میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی سیریز میں ان کی باؤلنگ اور بعد ازاں انگلستان کے خلاف ان کی کارکردگی کسے یاد نہ ہوگی؟ ان کی ہوامیں تیرتی و گھومتی ہوئی اور ساتھ ساتھ بجلی کی کوند کی طرح وکٹوں پر لپکتی ہوئی گیندیں بلے بازوں کے لیے بھیانک خواب بن گئی تھیں۔ لیکن اک ایسے وقت میں جب وہ اپنے کیریئر کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے اُن کا نام اسپاٹ فکسنگ تنازع میں آ گیا۔ ایک روز قبل جہاں انہوں نے 50 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے کم عمر ترین گیند باز (صرف 18 سال) کا اعزاز حاصل کیا تو اگلے ہی روز برطانیہ کے اخبار نیوزآف دی ورلڈ نے شہ سرخیاں لگائیں کہ پاکستان کے تین کھلاڑی جان بوجھ کو نو بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں سٹے بازوں سے رقم لینے میں ملوث ہیں اور اس سازش میں کپتان سلمان بٹ اور تیز گیند باز محمد آصف کے ساتھ نوجوان محمد عامر کا نام بھی لیا گیا۔ تحقیقات کے بعد سب سے پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے تینوں کھلاڑیوں پر کم از کم 5، 5 سال کی پابندی عائد کی اور بعد ازاں برطانیہ کی عدالت نے دھوکہ دہی و بدعنوانی کے مقدمے میں محمد عامر کو 6 ماہ قید کی سزا سنائی۔

اب جبکہ آج محمد عامر اپنی 20 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، اس وقت دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی بحث یہ ہے کہ کیا محمد عامر دوبارہ کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے؟ اس حوالے سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں، بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا تو صاف کہنا ہے کہ وہ عائد کی گئی پابندی میں کسی طور کمی نہیں کرے گا تاہم آنے والے اجلاس میں محمد عامر کے معاملے پر غور کرنے کا ضرور کہا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں آئی سی سی نے نوجوان کھلاڑیوں کو سٹے بازوں سے محفوظ رکھنے کےلیے ایک انتباہی وڈیو میں محمد عامر کو پیش کیا ہے۔

فی الوقت تو ایسا ہی لگتا ہے کہ عامر کو ستمبر 2015ء کا انتظار کرنا پڑے گا جب ان پر عائد پانچ سال کی پابندی مکمل ہو جائے گی۔ اور اس کے ساتھ ہی میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ پانچ سال تک کرکٹ سے باہر رہنے کے بعد بھی کیا وہ اتنے ہی فٹ ہوں گے جتنے 2010ء کے وسط میں تھے؟ اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ ایک سزا یافتہ کھلاڑی کو ایک مرتبہ پھر قومی کرکٹ ٹیم میں کھلانے کا خطرہ مول لے گا؟ ان تمام سوالات کا جواب تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ امر حقیقت ہے کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے نتیجے میں جہاں دنیا کو ایک شاندار باؤلر سے محروم ہونا پڑا وہیں یہ موجودہ اور آنے والے کھلاڑیوں کے لیے ایک نشانِ عبرت ہے کہ اس معاملے پر کوئی رعایت نہیں بخشی جائے گی چاہے وہ کتنا ہی اچھا کھلاڑی اور کتنا ہی کم عمر کیوں نہ ہو۔

Article Tags

Facebook Comments