[ریکارڈز] پہلی اننگز میں ڈکلیئریشن کے باوجود شکست کھانے والی بدقسمت ٹیمیں

آسٹریلیا کے جاری دورۂ ویسٹ انڈیز میں اب تک بہت ہی زبردست معرکہ آرائی دیکھنے میں آئی ہے۔ آسٹریلیا کی قوت کااندازہ دنیا کی تمام کرکٹ ٹیموں کو بخوبی ہے لیکن جس جرات و بہادری کے ساتھ ویسٹ انڈیز اس کا سامنا کر رہا ہے اس نے سیریز کو بہت ہی دلچسپ بنا دیا ہے۔ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے برابری کی بنیاد پر خاتمے کے بعد اب سب شائقین کرکٹ کی نظریں ٹیسٹ سیریز پر مرکوز ہیں جہاں پہلا مقابلہ سنسنی خیز مراحل طے کرتا ہوا آسٹریلیا کی محض 3 وکٹوں سے فتح پر منتج ہوا۔

ڈیرن سیمی وہ بدقسمت کپتان ہیں، جن کی ٹیم کو پہلی اننگز کی عمدہ کارکردگی بھی شکست سے نہ بچا سکی (تصویر: AFP)

ڈیرن سیمی وہ بدقسمت کپتان ہیں، جن کی ٹیم کو پہلی اننگز کی عمدہ کارکردگی بھی شکست سے نہ بچا سکی (تصویر: AFP)

ایک ایسا مقابلہ جہاں تقریباً ساڑھے تین دن تک میزبان ویسٹ انڈیز کا پلڑا بھاری رہا، محض ایک سیشن کی زبردست کارکردگی آسٹریلیا کو اس طرح میچ میں واپس لے آئی کہ بالآخر فتح کو اس کی جھولی میں گرتے ہی بنی۔

یہ کرکٹ کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی پیش آنے والے ان واقعات میں سے ایک ہے جب کوئی ٹیم پہلی باری میں اننگز ڈکلیئر کرنے کے باوجود ہار جائے۔ اس مقابلے سے قبل ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں صرف 9 مواقع ایسے تھے جب کوئی ٹیم اتنی بالادست پوزیشن سے بھی مقابلہ گنوا بیٹھی۔

بدقسمتی سے یہ تیسرا موقع ہے کہ ویسٹ انڈیز اس طرح مقابلہ ہارا ہے۔ پہلی مرتبہ 1968ء کے پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میں انگلستان اور 2004ء کے اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ میں انگلستان ہی کے خلاف ویسٹ انڈيز کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے جب وہ 7، 7 وکٹوں کے مارجن سے ہارا۔

ویسے کرکٹ کی تاریخ میں سب سے پہلے یہ 'کارنامہ' پاکستان نے انجام دیا جب وہ اکتوبر 1961ءمیں انگلستان کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں پہلی اننگز ڈکلیئر کرنے کے باوجود مقابلہ ہار گیا تھا۔ پہلی اننگز 387 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر ختم کرنے کے اعلان کے بعد انگلستان نے جواب میں 380 رنز داغے اور تقریباً پاکستان کے اسکور کو جا لیا۔ اس صورتحال میں پاکستان نے دوسری اننگز میں انتہائی ناقص بلے بازی کا مظاہرہ کر کے صرف 200 رنز پر ڈھیر ہو گیا اور انگلستان کو 208 رنز کا ہدف ملا جسے وہ 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر کے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ٹیم بن گیا جو فریقِ مخالف کی پہلی اننگز میں ڈکلیئریشن کے باوجود خود فتح سمیٹنے میں کامیاب ہوا۔

اس فہرست میں سنچورین کا وہ تاریخی و بدنام زمانہ ٹیسٹ بھی شامل ہے جہاں جنوبی افریقہ کے کپتان ہنسی کرونیے کی فرمائش پر انگلش کپتان ناصر حسین اپنی ایک اننگز سے دستبردار ہو گئے تھے اور بعد ازاں سخت مقابلے کے بعد دو وکٹوں سےفتح انگلستان کے حصے میں آئی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ میچ کو محض ایک دن میں نتیجہ خیز بنانے کے لیے کرونیے نے ایک سٹے بازسے معاملات طے کر لیے تھے اور اس کی بڑی رقم بھی وصول کی تھی۔ اس کی مکمل تفصیلات کرک نامہ کی اس خصوصی تحریر میں ملاحظہ کیجیے۔

بہرحال، ویسٹ انڈیز-آسٹریلیا تازہ معرکے سے قبل آخری مرتبہ ایشیز 2006ء میں انگلستان اسی طرح شکست سے دوچار ہوا تھا جب پہلی اننگز میں 551 جیسا پہاڑ جیسا اسکور بھی اسے شکست سے نہ بچا سکا تھا۔ صرف 6 وکٹوں کے نقصان پر اتنا بھاری مجموعہ اکٹھا کرنے کے باوجود انگلستان دوسری اننگز میں شین وارن، گلین میک گرا اور بریٹ لی کی تباہ کن گیند بازی کے باعث 129 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا اور بالآخر 6 وکٹوں سے مقابلہ ہار گیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ چوتھے روز کے اختتام تک میچ کا نتیجہ نکلنے کے کوئی آثار نہ تھے کیونکہ انگلستان دوسری اننگز میں 59 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ انتہائی مستحکم پوزیشن میں تھا اور اس کی مجموعی برتری 97 رنز کی ہو چکی تھی اور 9 وکٹیں بھی باقی تھیں لیکن پانچویں روز کا پہلا سیشن ہی اس کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوا جب پہلے ہی گھنٹے میں اس کی تین مزید وکٹیں گر گئیں اور کھانے کے وقفے تک آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔ 129 رنز پر ڈھیر ہو جانے کے بعد چائے کا وقفہ ہوا اور آسٹریلیا کو آخری سیشن میں 168 رنز کا ہدف ملا جو اس نے رکی پونٹنگ اور مائیکل ہسی کی شاندار بیٹنگ کی بدولت 33 ویں اوور میں مکمل کر کے تاریخی فتح سمیٹ لی۔ یوں آسٹریلیا نے ایشیز 2006ء کا دوسرا ٹیسٹ جیت کر 3-0 کی برتری حاصل کر لی۔ بعد ازاں آسٹریلیا نے اگلے تینوں مقابلے بھی جیتے اور انگلستان کو ذلت آمیز کلین سویپ شکست سے دوچار کیا۔ یہ گزشتہ سال یعنی 2005ء کی تاریخی شکست کا زبردست بدلہ تھا جو انگلستان نے اپنی سرزمین پر سخت معرکہ آرائی کے بعد حاصل کی تھی۔

قارئینِ کرک نامہ کی دلچسپی کے لیے ہم ان نادر مواقع کی مکمل فہرست یہاں پیش کر رہے ہیں، امید ہے دلچسپ کا باعث بنے گی۔

پہلی اننگز میں شاندار بلے بازی اور اننگز ڈکلیئر کرنے کے باوجود شکست کھانے والی ٹیمیں

شکست خوردہ ٹیم فاتح اسکور پہلی اننگز اسکور دوسری اننگز شکست کا مارجن بمقام بتاریخ
پاکستان انگلستان 387/9 200/10 5 وکٹیں لاہور اکتوبر 1961ء
ویسٹ انڈیز انگلستان 526/7 92/2 7 وکٹیں پورٹ آف اسپین مارچ 1968ء
بھارت ویسٹ انڈیز 306/6 97/10 10 وکٹیں کنگسٹن اپریل 1976ء
آسٹریلیا انگلستان 401/9 356/10 18 رنز لیڈز جولائی 1981ء
جنوبی افریقہ انگلستان 248/8 0/0 2 وکٹیں سنچورین جنوری 2000ء
زمبابوے بھارت 422/9 225/10 7 وکٹیں دہلی نومبر 2000ء
ویسٹ انڈیز انگلستان 395/9 165/10 7 وکٹیں مانچسٹر اگست 2004ء
جنوبی افریقہ آسٹریلیا 451/9 194/6 8 وکٹیں سڈنی جنوری 2006ء
انگلستان آسٹریلیا 551/6 129/10 6 وکٹیں ایڈیلیڈ دسمبر 2006ء
ویسٹ انڈیز آسٹریلیا 449/9 148/10 3 وکٹیں برج ٹاؤن اپریل 2012ء

Facebook Comments