ڈی آر ایس پر پور اعتماد ہے، مستقل و یکساں بنیادوں پر استعمال کیا جانا چاہیے: علیم ڈار

2007ء کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کی بدترین شکست اور اہم کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد پے در پے ایسے واقعات پیش آئے جن سے پاکستان کرکٹ میں ایک بدترین دور کا آغاز ہوا۔ پاکستان کرکٹ کے اس عرصہ زوال میں صرف 'علیم ڈار' ہی وہ روشن و حوصلہ افزا پہلو تھا کہ جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے نام کو زندہ رکھا۔

16 فروری 2000ء کو گوجرانوالہ میں پاک - سری لنکا ایک روزہ مقابلے سے اپنے امپائرنگ کے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرنے والے علیم ڈار کو بلاشبہ ’فخر پاکستان‘ کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مسلسل گزشتہ تین سال یعنی 2009ء، 2010ء اور 2011ء میں آئی سی سی کا بہترین امپائر کا بین الاقوامی اعزاز ’ڈیوڈ شیفرڈ ٹرافی‘ حاصل کیا جبکہ اس سے قبل وہ 2005ء اور 2006ء میں اس اعزاز کے لیے نامزد بھی ہو چکے تھے۔ علیم ڈار اور ان کے ساتھی سائمن ٹوفل ہی وہ دو امپائرز ہیں جو اس اعزاز کے آغاز سے اب تک اسے جیت پائے ہیں۔

علیم ڈار مسلسل تین سال 'دنیائے کرکٹ کے بہترین امپائر کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں (تصویر: Getty Images)

علیم ڈار مسلسل تین سال 'دنیائے کرکٹ کے بہترین امپائر کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں (تصویر: Getty Images)

علیم ڈار الائیڈ بینک، گوجرانوالہ کرکٹ ایسوسی ایشن، پاکستان ریلوے اور لاہور کی جانب سے بلے باز اور لیگ بریک باؤلر کی حیثیت سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ کھلاڑی کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایمپائرنگ کے میدان میں قدم رکھا اور بین الاقوامی کرکٹ میں زبردست شہرت حاصل کی۔

سال 2002ء میں علیم ڈار بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انٹرنیشنل پینل آف امپائرز کا حصہ بنے اور پھر انہوں نے اپنی درست فیصلہ سازی کے باعث دنیائے کرکٹ کو نہ صرف متاثر بلکہ کسی قدر حیران بھی کیا۔ اسی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 2003ء کے اوائل میں انہیں عالمی کپ کے لیے منتخب کردہ امپائروں کے دستے کا حصہ بنایا گیا، جہاں وہ بہترین کارکردگی پیش کرنے والے امپائروں میں شامل رہے۔ علیم ڈار کی معیاری فیصلہ سازی نے انہیں طویل طرز کی کرکٹ میں بھی مقام عطا کیا اور اکتوبر 2003ء میں انہوں نے ڈھاکہ میں انگلستان و بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے مقابلے میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔ اپریل 2004ء میں وہ آئی سی سی ایلیٹ پینل کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی بنے جس کے بعد سے انہیں دنیا کا بہترین امپائر سمجھا جاتا ہے۔

ڈی آر ایس یعنی ایمپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام پر کئی حلقوں بشمول کھلاڑیوں، کرکٹ بورڈز اور ایمپائرز کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے تاہم دنیائے کرکٹ کے بہترین ایمپائر کا اعزاز حاصل کرنے والے علیم ڈار اس نظام کے حامی رہے ہیں۔ معروف کرکٹ ویب سائٹ پاک پیشن کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے ایک مرتبہ پھرڈی آر ایس پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اسے مستقل اور یکساں بنیادوں پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے سب سے مالدار ترین اور فیصلوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا بھارتی بورڈ ڈی آر ایس کے سخت خلاف ہے، مسلسل تین مرتبہ دنیا کا بہترین امپائر قرار دیے جانے والے علیم ڈار کا کہنا ہے وہ نہ صرف ڈی آر ایس کے  بھرپور حامی ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ بسا اوقات یہ امپائروں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دراصل کچھ امپائروں کے لیے اپنے فیصلوں کو واپس لینا مشکل ہوتا ہے اس لیے وہ اس نظام سے مطمئن نہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امپائرز بھی انسان ہیں اور ان سے بھی غلطیوں ہوسکتی ہیں اس لیے ایک اچھا امپائر وہ ہے جو اپنی غلطیوں کو پس پشت ڈالے اور اگلی گیند پر توجہ مرکوز رکھے۔ لیکن چونکہ ایک غلط فیصلہ پورے میچ کی صورتحال کو تبدیل کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں ڈی آر ایس کا حامی ہوں۔

دستیاب ٹیکنالوجی کے استعمال کی بابت علیم ڈار نے کہا کہ اس کے ذریعے ڈی آر ایس میں یکسانیت لانے کی ضرورت ہے۔ حالیہ سری لنکا - انگلستان سیریز میں ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کو استعمال نہیں کیا گیا جس سے چند معاملات میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ جبکہ ٹیکنالوجی کا یکساں استعمال کھلاڑیوں، تماشائیوں اور امپائروں سب ہی کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر ایس یقینی بناتا ہے کہ درست فیصلے کیے جا سکیں، اس لیے ہاٹ اسپاٹ کو تمام دو طرفہ بین الاقوامی سیریز میں استعمال کرنا چاہیے، اسے آسٹریلیا و انگلستان کے درمیان ہونے والی سیریز میں استعمال کیا گیا تھا اور بلاشبہ اس نے فیصلہ سازی کے عمل میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ ہاٹ اسپاٹ کے علاوہ سپر سلو موشن کیمرے بھی امپائروں کی مدد کرتے ہیں۔ اگر یہ تمام جدید طریقہ کار ہر سیریز کے لیے استعمال کیے جائیں تو یہ ڈی آر ایس کے عمل میں یکسانیت لائیں گے اور اس کے حوالے سے پیش آنے والی شکایات کے خاتمے میں بھی مدد کریں گے۔

علیم ڈار نے ڈی آر ایس ٹیکنالوجی کے امپائروں پر اضافی دباؤ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا سمجھنا بالکل غلط ہے، میں ایک انسان ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ میں غلطیاں کروں گا، یہی وجہ ہے کہ میں ڈی آر ایس کا شدت سے حامی ہوں اور اسے فیلڈ امپائر کے کاموں میں مداخلت یا ان کی کارکردگی کو متاثر کرنے والا عنصر نہیں سمجھتا۔ حتیٰ کہ کھیل میں بہترین امپائرز بھی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور اگر ٹیکنالوجی اس غلطی کو نمایاں کرتی ہے اور انہیں درست فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے تو یہ مجموعی طور پر کھیل کے لیے اچھا ہے۔

یہ انٹروہو معروف ویب سائٹ پاک پیشن ڈاٹ نیٹ نے کرک نامہ کو خصوصی اشاعت کے لیے ارسال کیا تھا اور ان کی مکمل اجازت سے بعد از ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ انٹرویو کی فراہمی پر ہم پاک پیشن انتظامیہ کے مشکور ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments