متنازع انٹرویو؛ یاسر حمید پر پابندی و جرمانہ عائد

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بلے باز یاسر حمید کے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی برطانوی اخبار 'نیوز آف دی ورلڈ' کو اسپاٹ فکسنگ تنازع کے بعد دیے گئے انٹرویو کے ضمن میں لگائی گئی ہے۔ اس انٹرویو میں یاسر حمید نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹر کے ساتھ لارڈز ٹیسٹ، آسٹریلیا کے خلاف اسی سال کے اوائل میں کھیلے گئے سڈنی ٹیسٹ اور ایک سٹے باز کی جانب سے رسائی پر بات کرتے پائے گئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ترجمان ندیم سرور نے بتایا ہے کہ یاسر حمید پر یہ پابندی گزشتہ سال اخبار کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ٹیم کے چند کھلاڑیوں پر اسپاٹ فکسنگ کے الزامات عائد کرنے پر لگائی گئی ہے۔ پی سی بی کے ترجمان نے اس پابندی کا کوئی عرصہ تو بیان نہیں کیا گیا لیکن فی الوقت یہ پنٹا گولر کپ اور ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی چیمپئن شپ کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یاسر حمید پر 3 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹر نے ایک عالمی ایئر لائن کے نمائندے کا روپ دھار کر برطانیہ کے شر ناٹنگھم کے ایک ہوٹل میں یاسر حمید سے ملاقات کی تھی اور یاسر حمید کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو خفیہ کیمرے سے ریکارڈ کر لیا تھا۔ انٹرویو کی وڈیو منظر عام پر آنے کے فورا بعد یاسر حمید نے بورڈ سے معذرت کر لی تھی کہ انہیں دھوکہ دیا گیا اور انہیں ایک اجنبی کے ساتھ ہر گز اس طرح کی گفتگو نہیں کرنی چاہیے تھی اور وہ ان تمام کھلاڑیوں سے بھی معذرت چاہتے ہیں جن کے دل دکھے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں یاسر حمید کی طرف سے نیوز آف دی ورلڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ انہوں نے کسی اخباری نمائندے کو اس قسم کا انٹرویو نہیں دیا جبکہ ویڈیو میں ان سے منسوب کی جانی والی تمام باتیں دراصل ان کی آواز نہیں بلکہ یہ بعد میں ڈبنگ کی گئی ہے۔ برطانوی اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے انہوں نے پی سی بی سے اجازت بھی طلب کی تھی۔

پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر یاسر حمید نے آخری بار قومی ٹیم کی نمائندگی گزشتہ سال دورہ انگلستان کے موقع پر کی تھی۔ یاسر حمید پنٹاگولر کپ میں صوبہ خیبر پختون خواہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان پر یہ پابندی پی سی بی کی انٹگریٹی کمیٹی کی تفتیش کے بعد لگائی گئی ہے۔ یاسر حمید نے گزشتہ ماہ کمیٹی کے روبرو حاضری بھی دی تھی۔

Facebook Comments