بنگلہ دیشی ٹیم کے مختصر دورے کا اعلان؛ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کی نوید

بالآخر ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے مجوزہ دورہ پاکستان کو حتمی شکل دیتے ہوئے دو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔ گو کہ یہ دورہ صرف 1 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے اور ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلے پر مشتمل انتہائی مختصر نوعیت کا ہے تاہم اسے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے امید کی کرن کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ مذکورہ دونوں بین الاقوامی مقابلے بالترتیب 29 اور 30 اپریل کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

Bangladesh and Pakistan flag

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے آخری بار اپریل 2008ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا (تصویر: اے ایف پی)

مارچ 2009ء میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بالکل ختم ہوگئی۔ اس دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کو عالمی کپ 2011ء کی میزبانی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے بلکہ اپنی تمام ہوم سیریز بشمول نیوزی لینڈ، انگلستان اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز بھی بیرون ملک کھیلنا پڑیں۔

پاکستان میں سیکورٹی صورتحال میں بہتری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے کوششیں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ کے نئے چیئرمین ذکا اشرف نے بھی عہدہ سنبھالتے ہی اپنا پہلا ہدف ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی قرار دیا تھا اور اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو بنگلہ دیش کے اضافی دورے پر بھی بھیجا۔ پاکستان کے اس کامیاب دورۂ بنگلہ دیش کے بعد گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ایک وفد پاکستان آیا اور یہاں کے حفاظتی انتظامات کے معائنے کے بعد مثبت ردعمل ظاہر کیا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے دورے کی تصدیق پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے بی سی بی اور حکومت بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا۔ آئی سی سی کے فیوچر ٹوؤر پروگرام کے تحت بنگلہ دیش کو سال 2012ء میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے جس میں ممکنہ طور پر 3 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں یا 2 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے پر مشتمل مجوزہ سیریز شامل ہے۔ اس حوالے سے پی سی بھی کا کہنا ہے کہ باقی مقابلوں کی حتمی تاریخوں کا اعلان دونوں کرکٹ بورڈز کی باہمی رضامندی سے بعد میں کیا جائے گا۔

بعض کرکٹ کے حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ پاکستان اس دورے کے بدلے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نائب صدارت کے لیے بنگلہ دیشی امیدوار کی حمایت کرے گا۔ تاہم چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کرک نامہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو غلط قرار دے چکے ہیں۔ آئی سی سی کی روٹیشن پالیسی کے تحت اس مرتبہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی باری ہے، جس کے لیے پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ کسی بھی ٹیم کی جانب سے تین سال بعد پاکستان کا دورہ ہوگا۔ پاکستان نے گزشتہ 12 سالوں میں صرف دو مرتبہ بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہے، جن میں سے ایک دورہ چند ماہ قبل اس خفیہ شرط کے ساتھ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش جواب میں پاکستان میں ایک سیریز کھیلے گا تاکہ یہاں کے میدانوں کی رونقیں بحال ہوں۔ جبکہ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے آخری بار محمد اشرفل کی قیادت میں اپریل 2008ء میں پاکستان کا دورہ کیا جس میں پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا گیا تھا۔

Facebook Comments