اسٹورٹ لا نے بنگلہ دیشی کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

بنگلہ دیش کے دورۂ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی کوچ اسٹورٹ لا نے اپنے عہدے سے حیران کن طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے کوچ نے رواں سال جون تک کے لیے بنگلہ دیش کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا لیکن انہوں نے معاہدے کے اختتام سے تقریباً ڈھائی ماہ قبل ہی اپنی ذاتی وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے تاہم معاہدے کے مطابق وہ جون 2012ء تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ لیکن اس کے باوجود اتنے اچانک استعفیٰ دینے کی فوری وجہ دورۂ پاکستان کا اعلان کرنے کو سمجھا جا رہا ہے۔ گو کہ وہ ابھی جون کے اختتام تک بنگلہ دیش کے ہیڈ کوچ رہیں گے اور اس دوران اپریل کے آخری ایام میں ہونے والے دورۂ پاکستان میں بھی ذمہ داریاں انجام دیں گے لیکن چند ہفتے قبل جب پاک-بنگلہ سیریز کے انعقاد کی خبریں بہت زیادہ گردش میں تھیں، ایک خبر سامنے آئی تھی کہ اسٹورٹ لا نے بورڈ حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ اس کے ساتھ نہیں جائیں گے اور اب جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ بنگلہ دیش رواں ماہ کے اختتام پر ایک ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے کے لیے پاکستان روانہ ہوگا، اسٹورٹ لا کا استعفیٰ دے دینا عجیب سا لگتا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ اعلان اسی دھمکی کا تسلسل ہو۔

اسٹورٹ لا نے گزشتہ سال جولائی میں بنگلہ دیش کے کوچ کا عہدہ سنبھالا تھا (تصویر: AFP)

اسٹورٹ لا نے گزشتہ سال جولائی میں بنگلہ دیش کے کوچ کا عہدہ سنبھالا تھا (تصویر: AFP)

بہرحال، اسٹورٹ لا نے استعفیٰ دینے کو اپنے لیے ایک افسوسناک مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ میں ڈیڑھ سال برصغیر میں گزارنے کے بعد اب گھر واپس جاؤں گا، اس عرصے میں میں نے بنگلہ دیش کے علاوہ سری لنکا کی بھی کوچنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میری زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن گزشتہ چند سالوں میں میں نے اس حقیقت کو پایا ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لیے اب ان کو وقت دینا چاہتا ہوں۔

بنگلہ دیش نے اسٹورٹ لا کی زیر تربیت چند ہفتے قبل ایشیا کپ 2012ء کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا اور انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کے ہاتھوں دو رنز سے شکست کھائی۔ اس مقابلے سے قبل بنگلہ دیش نے عالمی چیمپئن بھارت اور سری لنکا کو شکست دی اور حیران کن طور پر فائنل میں جگہ پائی۔ اِسے بلاشبہ بنگلہ دیش کی کرکٹ تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے اور ٹیم کو اس مقام تک پہنچانے کے بعد اسٹورٹ لا کی اچانک روانگی بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے یقیناً ایک بہت بڑا دھچکا ہوگی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جون تک معاہدے کے پابند اسٹورٹ لا ٹیم کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں یا نہیں۔ جو 2009ء کے بعد پاکستانی سرزمین پر ہونے والے پہلے بین الاقوامی مقابلے ہوں گے۔ اگر اسٹورٹ پاکستان نہیں آتے تو یہ امر واضح ہو جائے گا کہ ان کے استعفے کی وجوہات دراصل خاندانی نہیں بلکہ بورڈ حکام کے ساتھ اختلافات تھے، جنہوں نے اُن کی رائے کو پس پشت ڈالتے ہوئے دورۂ پاکستان کی منظوری دی۔

اسٹورل لا نے گزشتہ سال عالمی کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد استعفیٰ دینے والے بنگلہ دیشی کوچ جمی سیڈنز کی جگہ جولائی میں ایک سال کی مدت کے لیے عہدہ سنبھالا تھا۔

Facebook Comments