بنگال ٹائیگرز ڈر گئے؛ عدالتی حکم پر دورۂ پاکستان ملتوی

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کا مختصر دورۂ پاکستان، اعلان کے صرف چار روز بعد ہی ملتوی کردیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی جانب سے یہ فیصلہ ڈھاکہ ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں کیا گیا ہے جس کے مطابق بی سی بی آئندہ چار ہفتوں تک کسی کھلاڑی کو پاکستان نہیں بھیج سکتا۔ یوں رواں ماہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے دونوں بین الاقوامی میچز کا امکان ختم ہوگیا ہے۔ بی سی بی کے اس اعلان سے فی الحقیقت پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے جاری کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

عدالت کو بی سی بی کے سربراہ مصطفی کمال سے دورۂ پاکستان کا جواز پوچھنے کی بھی درخواست کی گئی ہے (تصویر: AFP)

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے سیکورٹی کے متعلق تمام تر یقین دہانیوں، بنگلہ دیش کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈز پر اضافی سیریز کھیلنے کی شرط ماننے اور پھر آئی سی سی میں نائب صدر کے لیے بنگلہ دیشی بورڈ کے سربراہ مصطفی کمال کی حمایت کا وعدہ کرنے کے بعد بڑے ناز نخروں سے راضی ہونے والا بنگلہ دیشی بورڈ اب عدالتی حکم کے باعث چار ہفتوں تک کسی کھلاڑی کو پاکستان نہیں بھیج سکتا۔

یہ عدالتی حکم اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا جارہا تھا اور پی سی بی کے غیر معمولی دباؤ کے بعد بی سی بی کی جانب سے دو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے رضامندی کو بھی حوصلہ افزاء قرار دیا جارہا تھا تاہم اب ڈھاکہ ہائی کورٹ کے حالیہ حکم نے اس امید کی کرن کو بھی کسی قدر بجھا دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان - بنگلہ دیش کرکٹ تعلقات کو خراب کرنے کی کوششوں پر انتہائی حیرت ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دو طرفہ کرکٹ میں رکاوٹ پیدا کرنے پر نہ صرف پی سی بی اور پاکستان بلکہ دنیائے کرکٹ کے تمام ہی شائقین کے لیے افسوس ناک ہے۔

بنگلہ دیشی ہائی کورٹ میں دورۂ پاکستان کے خلاف پٹیشن میں رواں ماہ کے آخر میں بنگلہ دیشی ٹیم کے تین روزہ دورہ کو ملتوی کرنے اور اسپورٹس سیکریٹری اور نیشنل اسپورٹس کاؤنسل و بی سی بی کے چیف مصطفی کمال سے اس دورے کی بابت پوچھنے کی درخواست کی گئی تھی۔ مدعی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پی سی بی بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو سیکورٹی پلان نہیں دے سکا ہے اور اگر پاکستان کسی اور غیر ملکی ٹیم کے لیے محفوظ نہیں تو بنگلہ دیشی ٹیم کو بھی ایسی صورتحال میں وہاں نہیں بھیجا جانا چاہیے۔

2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں کرکٹ کے میدان ویرانی کی تصویر بنے ہوئے ہیں جنہیں دوبارہ آباد کرنے کی کوششیں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ دسمبر 2011ء میں اس معاملے پر اہم پیشرفت نظر آئی جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں سیریز کھیلنے پر حامی بھری۔ بعد ازاں ایک 9 رکنی وفد نے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے مکمل اطمینان کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ میچ آفیشلز یعنی امپائرز و دیگر عملے کو پاکستان نہیں بھیجے گا۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی کرکٹرز کی انجمن فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) نے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کا مجوزہ دورۂ پاکستان فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

ان تمام مشکلات کے باوجود پی سی بی کے سربراہ ذکا اشرف اور بی سی بی کے درمیان مبینہ طور پر چند بیک ڈور چینلز ہوئے مذاکرات اور میں کیے گئے عہد و پیمان کے بعد مختصر دورے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اب اس معاملے کا عدالت میں چلے جانے اور ابتدائی طور پر چار ہفتوں تک اس دورے کو ملتوی کرنے کے باعث پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کا خواب جلد شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔

Facebook Comments