دورۂ انگلستان، کرس گیل کی واپسی کے امکانات روشن ہو گئے

شعلہ فشاں بلے باز کرس گیل ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ سے معاملات طے ہو جانے کے بعد اب کاؤنٹی معاہدے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ یوں وہ انگلستان کے خلاف آنے والی سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کے لیے دستیاب ہوں گے۔ گزشتہ سال بورڈ کے خلاف بیان دینے کے بعد ویسٹ انڈین ٹیم سے باہر کر دیے جانے والے کرس ایک مرتبہ پھر ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں، البتہ اب بھی اس کا انحصار بورڈ اور سلیکشن کمیٹی پر ہے۔

اگر کرس گیل کو انگلستان کے خلاف ٹیم میں شامل کیا گیا تو یہ ایک سال بعد ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کا پہلا موقع ہوگا

اگر کرس گیل کو انگلستان کے خلاف ٹیم میں شامل کیا گیا تو یہ ایک سال بعد ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کا پہلا موقع ہوگا

انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا آغاز 17 مئی سے لارڈز میں ہوگا، جس کے لیے ویسٹ انڈین دستے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ البتہ اس کے بعد تین ایک روزہ مقابلوں کے لیے گیل کے نام پر غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ارنسٹ ہلیئر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ گیل کے نام پر اس وقت تک غور نہیں کیا جائے گا جب تک وہ خود کو پیش نہیں کرتے۔ اب جبکہ گیل یہ فیصلہ کر چکے ہیں اس لیے کم از کم ان کا نام زیر غور آنے کی توقع ضرور ہے۔

جاری کردہ بیان میں کرس گیل نے کہا ہے کہ "میں نے سمرسیٹ کو تحریری صورت میں لکھ بھیجا ہے کہ میں فرینڈزلائف ٹی 20 کے لیے دستیاب نہیں ہوں گا اور یہ فیصلہ میں نے ویسٹ انڈیز کرکٹ اور اپنے شائقین سے اپنی وابستگی کے باعث کیا ہے۔ اب میں تمام طرز کی کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کے لیے دستیاب ہوں۔ میں اپنے اہل خانہ اور دوستوں سمیت گزشتہ ایک سال میں مدد کرنے والے تمام افراد کا شکر گزار ہوں خصوصاً دنیا بھر کے ان شائقین کا، جنہوں نے ہر اس جگہ میری حوصلہ افزائی کی جہاں میں نے کھیلا۔ میری نظریں ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈیز کی قومی ٹیم کا لباس پہننے، غیر کرکٹ اور بین الاقوامی کیریئر کے ایک مرتبہ پھر آغاز کرنے پر مرکوز ہیں۔

کرس گیل عالمی کپ 2011ء کے بعد سے ویسٹ انڈیز کی نمائندگی نہیں کر پائے، جبکہ وہ انڈین پریمیئر لیگ سمیت تمام طرز کی لیگ کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں، جن میں آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ اور بنگلہ دیش کی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ شامل ہیں۔

گیل نے آخری مقابلہ عالمی کپ 2011ء کے کوارٹر فائنل میں پاکستان کے خلاف کھیلا تھا۔

Facebook Comments