سلمان بٹ نے بھی کھیلوں کی ثالثی عدالت سے رجوع کرلیا

گزشتہ روز پاکستانی تیز گیند باز محمد عامر کی جانب سے کھیلوں کی ثالثی عدالت سے رجوع کیے جانے کے بعد سلمان بٹ نے بھی پابندی کے خلاف کھیلوں کی ثالثی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ سلمان بٹ کے وکیل یاسین پٹیل نے بتایا کہ ان کی قانونی ٹیم لارڈز ٹیسٹ سے متعلق اینٹی کرپشن ٹربیونل کے فیصلے اور سلمان بٹ پر عائد کی جانے والی پابندی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کررہی ہے۔

کھیلوں کی ثالثی عدالت کا بیرونی منظر

روں ماہ کے اوائل میں اینٹی کرپشن ٹربیونل نے سلمان بٹ کو اسپاٹ فکسنگ کا مرکزی کردار ٹھیراتے ہوئے ان پر 5 سال کی مکمل اور 5 سال کی مشروط پابندی عائد کی تھی جبکہ دوسرے کھلاڑی محمد عامر پر صرف پانچ سے کی مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔ اگر محمد عامر اور سلمان بٹ کی درخواستیں منظور کر کے مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے تو یہ سوئٹزرلینڈ میں قائم کھیلوں کی ثالثی عدالت کے لیے پہلا موقع ہوگا کہ وہ کرکٹ کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرے۔ تیسرے پاکستانی کھلاڑی محمد آصف کی جانب سے کھیلوں کی ثالثی عدالت میں جانے کے عندیہ کے باوجود اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

 

تینوں پاکستانی کھلاڑیوں پر گزشتہ سال دورہ انگلستان کے موقع پر دانستہ خراب گیندیں کرانے کا الزام عائد کیا گیا تھا جسے تینوں کھلاڑی رد کرتے چلے آئے ہیں۔ معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے آئی سی سی کی درخواست پر مائکل بیلوف کی سربراہی ٹربیونل قائم کیا گیا جس نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 6 تا 11 جنوری ان کھلاڑیوں کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی۔ اینٹی کرپشن ٹربیونل نے 5 فروری کو سلمان بٹ سمیت محمد آصف اور محمد عامر کو مجرم قرار دیتے ہوئے ان پر پانچ پاچ سال کی مکمل پابندی عائد کی تھی۔ اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد تفصیلی فیصلے کا اجراء 10 فروری کو کیا گیا۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں پر پہلے ہی رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کے الزام میں فردِ جرم عائد کر رکھی ہے۔ سی پی ایس کی جانب سے یہ اقدام اسپاٹ فکسنگ کیس میں پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی عائد کیے جانے کے فیصلہ سے ٹھیک ایک روز قبل اٹھایا گیا تھا ۔جس کے بعد تینوں پاکستانی کھلاڑیوں کو 17 مارچ کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں رضاکارانہ طور پر پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ پاکستانی کھلاڑیوں کے مبینہ ایجنٹ و بکی مظہر مجید پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

Facebook Comments