[آج کا دن] ’دنیائے کرکٹ کا شہزادہ‘ برائن لارا

اگر ویوین رچرڈز ’کرکٹ کا بادشاہ‘ ہے ’دنیائے کرکٹ کا شہزادہ‘ کہلانے کا حقدار صرف ایک کھلاڑی ہے وہ ہے برائن چارلس لارا۔ چھوٹے سے قد کا یہ بلے باز بدقسمتی سے اک ایسے عہد میں ویسٹ انڈین کرکٹ کے آسمان پر جلوہ گر ہوا، جب ’کالی آندھی‘ کا زور ٹوٹ چکا تھا اور انفرادی حیثیت میں چند اچھے کھلاڑی ہی رہ گئے تھے۔ لیکن اس دور میں بھی طویل اننگز کھیلنے کے شیدائی اس بلے باز نے کچھ ایسے ریکارڈ قائم کیے جو اس کی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ریکارڈ بک میں لارا کا نام دو اننگز کی وجہ سے عرصے سے جگمگا رہا ہے، ایک ٹیسٹ کرکٹ میں 400 اور دوسری فرسٹ کلاس میں 501* رنز کی ریکارڈ طویل ترین انفرادی اننگز ۔

برائن لارا نے 1990ء سے 2007ء تک محیط کیریئر میں کئی ریکارڈز اپنے نام کیے (تصویر: AP)

برائن لارا نے 1990ء سے 2007ء تک محیط کیریئر میں کئی ریکارڈز اپنے نام کیے (تصویر: AP)

2 مئی 1969ء کو ٹرینیڈاڈ میں جنم لینے والا برائن لارا نے اپنے عہد کے چند عظیم ترین باؤلرز کا جرات مندی کے سامنا کیا۔ ایک جانب وسیم اکرم اور وقار یونس تھے تو دوسری طرف دوسری طرف شین وارن اور گلین مک گرا لیکن کوئی بھی ان کو بلندیوں کو چھونے سے نہ روک سکا۔ پاکستان تو کبھی ویسٹ انڈین سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن 1999ء میں انہوں نے جس طرح آسٹریلیا کے خلاف 213 اور 153 رنز کی دو اننگز کھیل کر تن تنہا ویسٹ انڈیز کو تاریخی فتوحات سے ہمکنار کیا وہ لارا کی عظمت کی کھلی دلیل ہیں۔

دنیا نے کبھی ڈان بریڈمین کے علاوہ کسی بلے باز کو اتنی بڑی اور تیز رفتار اننگز کھیلتے نہیں دیکھا ہوگا۔ لارا دور جدید کے عظیم بلے بازوں کی فہرست میں دوسرا نام تھے جنہوں نے پاکستان میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ سچن رمیش تنڈولکر نے نومبر 1989ء میں کراچی میں جبکہ لارا نے دسمبر 1990ء میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کی ابتداء کی۔ لارا نے محض اپنے پانچویں ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میں 277 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور یہ میدان ان کو پھر ایسا بھایا کہ بعد ازاں انہوں نے اپنی صاحبزادی کا نام بھی سڈنی رکھا۔ یہ 1993ء کے ابتدائی دن اور ویسٹ انڈیز کے عظمتوں کے آخری ایام تھے۔ برائن لارا کی یہ شاندار ڈبل سنچری سیریز میں 1-0 سے خسارے میں جانے والے ویسٹ انڈیز کے اس طرح واپس لائی کہ وہ سڈنی میں کھیلا گیا تیسرا ٹیسٹ ڈرا کرنے اور بعد میں ایڈیلیڈ اور پرتھ ہونے والے دونوں ٹیسٹ جیت کر سیریز لے اڑا۔ ایڈیلیڈ میں کھیلا گیا ٹیسٹ وہی مقابلہ تھا، جس میں ویسٹ انڈیز نے تاریخ کے کم ترین مارجن یعنی 1 رن سے فتح حاصل کی تھی۔

بہرحال، اس کے بعد لارا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور پے در پے طویل اننگز کھیل کر ویسٹ انڈیز کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ اپریل 1994ء میں سینٹ جانز، اینٹی گا میں انگلستان کے خلاف 375 کی ریکارڈ شکن اننگز کھیلی۔ انہوں نے 538 گیندوں پر 45 چوکوں کی مدد سے 375 رنز بنائے اور ہم وطن سر گارفیلڈ سوبرز کا 1958ء میں پاکستان کے خلاف قائم کردہ 365 رنز بنانے کا ریکارڈ توڑا۔ یہ مذکورہ سیریز کا آخری ٹیسٹ تھا اور ویسٹ انڈیز اولین تینوں مقابلوں میں انگلستان کو بدترین شکست دے کر سیریز جیت چکا تھا۔ البتہ برج ٹاؤن کے چوتھے معرکے میں شکست کا بدلہ یہاں سینٹ جانز میں لارا نے بخوبی لیا۔ محض 24 سال کی عمر میں یہ ریکارڈ بنا کر لارا نے ثابت کر دیا کہ وہ کتنے بڑے بلے باز ہیں، جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ لارا کا محض 16 واں ٹیسٹ مقابلہ تھا۔

یہ برائن لارا کے لیے یادگار ایام تھے، کیونکہ انہی دنوں میں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی طویل ترین اننگز بھی کھیلی۔ انہوں نے واروکشائر کی جانب سے ڈرہم کے خلاف کھیلتے ہوئے 501 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر پاکستان کے حنیف محمد کا 499 رنز کا ریکارڈ توڑا۔

بحیثیت مجموعی لارا نے 131 ٹیسٹ میچز میں 52.88 کے شاندار اوسط سے 11 ہزار 953 رنز بنائے ۔ جس میں 34 سنچریاں اور 48 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ان کے کیریئر کی ایک اور عظيم اننگز وہ تھی جب انہوں نے سب سے طویل انفرادی اننگز کا ریکارڈ ایک مرتبہ پھر اپنے نام کیا۔ لارا نے پہلی بار اپریل 1994ء میں انگلستان کے خلاف 375 رنز بنا کر سب سے طویل انفرادی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا تھا جو اکتوبر 2003ء میں آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے زمبابوے کے خلاف پرتھ میں 380 رنز بنا کر توڑ ڈالا تھا۔ البتہ میٹ ہیڈن زیادہ عرصے یہ ریکارڈ اپنے پاس نہ رکھ پائے اور اپریل 2004ء میں سینٹ جانز کے اسی میدان پر برائن لارا نے انگلستان کے خلاف ایک اور تاریخی اننگز کھیلی۔ گو کہ یہ اننگز گزشتہ کی طرح فیصلہ کن نہیں تھی، کیونکہ ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز ہار چکا تھا، لیکن 400 رنز کی ناقابل شکست باری کھیل کر انہوں نے ثابت کر دیا کہ انفرادی حیثیت میں وہ اس وقت دنیا کے بہترین بیٹسمین ہیں۔ 582 گیندوں پر 4 چھکوں اور 43 چوکوں پر مشتمل اس اننگز نے ان کا نام تاریخ میں امر کر دیا کیونکہ وہ اب تک واحد بلے باز ہیں جنہوں نے طویل طرز کی کرکٹ میں کواڈرپل سنچری بنائی ہے۔

اس طرح وہ تاریخ کے واحد بلے باز بن گئے جنہوں نے اپنے کیریئر میں سنچری، ڈبل سنچری، ٹرپل سنچری، کواڈرپل سنچری اور کونٹپل سنچری بنائی۔ یہ وہ اعزاز ہے جو دو عظیم ترین بیٹسمین ڈان بریڈمین اور سچن تنڈولکر بھی ان سے نہیں چھین پائے اور نجانے کب تک اس ریکارڈ پر برائن لارا کا قبضہ رہے۔ مجموعی طور پر لارا نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 9 ڈبل سنچریاں بنائیں، جو ڈان بریڈمین کی 12 ڈبل سنچریوں کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔

دوسری جانب محدود اوورز کی طرز میں انہوں نے 299 میچز کھیلے اور 40.48 کی اوسط سے 10 ہزار 405 رنز بنائے۔ اس میں 19 سنچریاں اور 63 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ وہ کرکٹ کی تاریخ کے ان چند بلے بازوں میں سے ہیں جنہوں نے 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا۔

البتہ ان کی جس کارکردگی کو ناقدین کی جانب سے سب سے زیادہ سراہا گیا وہ مارچ 1999ء میں آسٹریلیا کے خلاف برج ٹاؤن ٹیسٹ میں تھی جب ان کی 153 رنز کی ناقابل شکست اننگز ویسٹ انڈیز کے لیے فتح گر ثابت ہوئی۔ معروف جریدے ’وزڈن‘ نے برائن لارا کی اس اننگز کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری بہترین اننگز قرار دیا۔ وزڈن سر ڈان بریڈمین کی 1937ء میں انگلستان کے خلاف 270 رنز کی اننگز کو تاریخ کی بہترین اننگز قرار دیتا ہے۔ اس تاریخی میچ میں جہاں اسٹیو واہ کی زیر قیادت آسٹریلیا، جسے تاریخ کے دو عظیم گیند بازوں گلین میک گرا اور شین وارن کی خدمات حاصل تھیں، نے ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 308 رنز کا بڑا ہدف دیا اور محض 105 رنز پر آدھی ٹیم گنوا بیٹھنے کے بعد اس امر کا امکان بہت کم تھا کہ ویسٹ انڈیز مقابلے میں واپس آ پائے گا لیکن کپتان لارا نے وہ کر دکھایا جس کی توقع بہت کم لوگوں کو تھی۔ انہوں نے چھٹی وکٹ پر پہلے جمی ایڈمز کے ساتھ 133 رنز جوڑے تاہم ایڈمز کے جاتے ہی دو مزید وکٹیں گر گئیں اب لارا نے کرٹلی ایمبروز کے ساتھ نویں وکٹ پر 54 رنز بنائے جس میں ایمبروز کا حصہ محض 12 رنز کا تھا۔ جب ویسٹ انڈیز فتح سے محض 6 رنز کے فاصلے پر تھا تو ایمبروز بھی آؤٹ ہو گئے۔ اب آسٹریلیا کے لیے جیتنا محض ایک گیند کی بات تھی، اور ایسا لگتا تھا کہ وہ ایڈیلیڈ 1994ء کا بدلہ لینے والا ہے لیکن لارا نے جیسن گلسپی کو خوبصورت کور ڈرائیو رسید کرتے ہوئے میچ کا خاتمہ کر دیا۔ آپ خود تصور کر سکتے ہیں کہ ٹیسٹ دیکھنے والے تماشائیوں کا ردعمل کیا ہوگا۔ حقیقتا انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ برائن لارا 256 گیندوں پر 19 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 153 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور اسی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز سیریز میں 2-1 کی ناقابل یقین برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسٹیو واہ نے اسے اپنے کیریئر کا بہترین ٹیسٹ میچ قرار دیا۔

برج ٹاؤن کی اس تاریخی اننگز سے قبل لارا نے کنگسٹن، جمیکا میں ہونے والے میچ میں بھی 213 رنز کی شاندار ڈبل سنچری بنا کر ویسٹ انڈیز فتح کی بنیاد رکھی تھی۔

البتہ لارا جیسے بلے باز کی موجودگی بھی ٹیم کے انتظامی اور نظم و ضبط کے مسائل حل نہ کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جتنے اچھے بیٹسمین تھے، اتنے عمدہ قائد ثابت نہ ہو سکے۔ گو کہ انہوں نے کئی مرتبہ خود کو مثال بناتے ہوئے ٹیم کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوا۔ ٹیم کے علاوہ دوسری جانب بورڈ بھی ان سے تعاون کرتا دکھائی نہ دیتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لارا کے پورے کیریئر میں چند ہی مقابلے ایسے تھے جن سے ویسٹ انڈیز کی اچھی یاد وابستہ ہو۔ خصوصاً 1996ء کے بعد، جب رچی رچرڈسن نے کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کیا، ٹیم مستقل زوال کی جانب گامزن ہوئی۔

ہوم گراؤنڈ پر کھیلے گئے 2007ء کے عالمی کپ میں بھی ویسٹ انڈیز توقعات پر پورا نہ اتر پایا اور ٹورنامنٹ ختم ہوتے ہی یہ ’مہر تاباں‘ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

Facebook Comments