محمد آصف برطانیہ کی جیل سے رہا

پاکستان کے تیز گیند باز محمد آصف بدعنوانی و دھوکہ دہی کے مقدمے میں اپنی نصف سزا مکمل ہونے کے بعد برطانیہ کے قید خانے سے رہا کر دیے گئے ہیں۔

محمد آصف پر آئی سی سی کی 7 سالہ پابندی بدستور عائد رہے گی (تصویر: Getty Images)

محمد آصف پر آئی سی سی کی 7 سالہ پابندی بدستور عائد رہے گی (تصویر: Getty Images)

معروف ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق انہیں گزشتہ سال نومبر میں جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں سٹے بازوں سے رقم وصول کرنےکے الزام میں قصور وار قرار دےکر ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور جمعرات کی صبح چھ ماہ مکمل ہونے پر انہیں جنوبی مشرقی انگلستان کی کینٹربری جیل سے رہا کر دیا گیا۔

29 سالہ محمد آصف نے اگست 2010ء میں انگلستان کے خلاف لارڈز میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر دو نو بالز پھینکی تھیں، اس معاملے کا قضیہ ایک اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے اگلے روز کھولا اور بعد ازاں تحقیقات ہونے پر پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے محمد آصف اور ان کے دو ساتھیوں پر کم از کم 5،5 سال کی پابندی عائد کی اور بعد ازاں برطانیہ کی عدالت نے دھوکہ دہی و بدعنوانی کے مقدمے میں تینوں کھلاڑیوں اور سٹے باز مظہر مجید کو قید کی سزائیں سنائیں۔آصف اس مقدمے کے دوسرے فریق ہیں جنہیں رہائی نصیب ہوئی ہے۔ ان سے قبل نوجوان باؤلر محمد عامر رہائی پا چکے ہیں البتہ سلمان بٹ اور مظہر مجید ابھی تک قید خانے میں ہیں اور اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ محمد عامر فروری میں اپنی چھ ماہ کی سزائے قید مکمل ہونے پر رہا ہوئے تھے جبکہ سلمان بٹ کو 30 مہینے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

محمد عامر کی جانب سے اعتراف جرم کیے جانے کے باوجود محمد آصف اور سلمان بٹ نے عدالت روبرو اقبال جرم نہيں کیا اور یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے موقف کے دفاع کے لیے عدالتی کارروائی بھگتنا پڑی جس میں بالآخر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

Facebook Comments