ایلن ڈونلڈ نے باضابطہ اعلان سے قبل ہی بنگلہ دیشی پیشکش ٹھکرا دی

جنوبی افریقہ کے باؤلنگ کوچ ایلن ڈونلڈ نے بنگلہ دیش کے کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے حوالے سے سامنے آنے والی تمام خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ اب تک نئے ہیڈ کوچ کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی امیدواروں کی فہرست میں مک نیویل اور ڈرمٹ ریو کے ساتھ ڈونلڈ کا نام بھی سامنے آیا ہے لیکن سابق تیز گیند باز نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر ان سے رابطہ کیا گیا تو وہ صاف منع کر دیں گے۔

ایلن ڈونلڈ سے قبل ان کے ہم وطن ونسنٹ بارنیس بھی گزشتہ سال بنگلہ دیش کی پیشکش کو ٹھکرا چکے ہیں

ایلن ڈونلڈ سے قبل ان کے ہم وطن ونسنٹ بارنیس بھی گزشتہ سال بنگلہ دیش کی پیشکش کو ٹھکرا چکے ہیں

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے ایلن ڈونلڈ نے کہا کہ اب تک مجھ سے اس حوالے سے رابطہ نہیں کیا گیا، لیکن اس عہدے میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔میں اس وقت جنوبی افریقہ کی کوچنگ کر رہا ہوں، جو ہمیشہ میرا خواب رہا ہے اور اب میراکہیں اور منتقل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میری اولین ترجیح جنوبی افریقہ ہے۔

ڈونلڈ کو گزشتہ سال جون میں جنوبی افریقہ کا باؤلنگ کوچ بنایا گیا تھا، جب گیری کرسٹن نےپروٹیز کے نئے کوچ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کے بعد نئی کوچنگ ٹیم تشکیل دی تھی۔ اس وقت ڈونلڈ نیوزی لینڈ کی قومی کرکٹ ٹیم میں فرائض انجام دے رہے تھے اور ممکنہ طور پر انہیں وہاں کل وقتی باؤلنگ کوچ مقرر کیا جانا تھا لیکن عین وقت پر جنوبی افریقہ سے ملنے والی پیشکش پر وہ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وطن دوڑے چلے آئے اور پروٹیز کے نئے باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

ڈونلڈ نیوزی لینڈ سے قبل انگلستان اور زمبابوے میں کوچنگ کر چکے ہیں لیکن جنوبی افریقہ میں کام کرنے کا موقع انہیں کبھی نہیں ملا تھا، حتیٰ کہ ڈومیسٹک سطح پر بھی نہیں۔ البتہ وہ انڈین پریمیئر لیگ میں پونے واریئرز کی کوچنگ کے ساتھ بھی بطور باؤلنگ کوچ کام کر رہے ہیں۔

وہ پہلے جنوبی افریقی نہیں ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا ہے بلکہ ان سے قبل 2011ء میں جیمی سڈنز کے استعفے کے بعد انہوں نے جن کوچز کو نظر میں رکھا تھا ان میں 8 سال جنوبی افریقہ کے باؤلنگ کوچ رہنے والے ونسنٹ بارنیس بھی شامل تھے جنہوں نے بنگلہ دیشی پیشکش کو کو ٹھکرا دیا تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اسٹورٹ لا کی جگہ کون بنگلہ دیش کو قومی کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔

Facebook Comments