سری لنکا نے پاک-آسٹریلیا سیریز کی میزبانی سے انکار کر دیا

رواں سال اگست میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین محدود اوورز کی ایک اہم سیریز کا سری لنکا میں انعقاد مسئلے سے دوچار ہو گیا ہے کیونکہ اس کی تواریخ سری لنکا پریمیئر لیگ (ایس ایل پی ایل) کی تاریخوں سے متصادم ہو رہی ہیں جو اگست میں ہی منعقد ہوگی۔ اب پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء سے قبل اہم ترین مقابلوں کے لیے کسی نئے مقام کا متلاشی ہے۔

آخری پاک آسٹریلیا سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کو تمام ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا  (تصویر: Getty Images)

آخری پاک آسٹریلیا سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کو تمام ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا (تصویر: Getty Images)

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کا کہنا ہے کہ ہم آسٹریلیا کی میزبانی کے لیے نئے مقامات تلاش کر رہے ہیں۔ ہم آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے سری لنکا کے انتخاب کو حتمی شکل دے رہے تھے لیکن اگست میں پریمیئر لیگ کا انعقاد ہمارے منصوبے سے براہ راست متصادم ہو رہا ہے اس لیے ہمیں کسی اور مقام کا انتخاب کرنا ہوگا۔

سری لنکا کرکٹ نے مارچ کے مہینے میں پاک-آسٹریلیا سیریز کی میزبانی پر رضامندی کا اظہار کیا تھا، کیونکہ اس وقت ایس ایل پی ایل کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا لیکن اس مجوزہ لیگ کے حوالے سے گزشتہ ہفتے سری لنکا کرکٹ نےنیا معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق یہ رواں سال اگست میں منعقد ہوگی۔ یوں پاک-آسٹریلیا سیریز کا سری لنکا میں انعقاد کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

پاکستان مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ سے محروم ہے اور اب تک متحدہ عرب امارات سمیت انگلستان، سری لنکا اور نیوزی لینڈ میں اپنی 'ہوم سیریز' کھیل چکا ہے۔

سری لنکا کرکٹ کے سیکرٹری نشانتھا راناتنگا نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایل پی ایل کے انعقاد کا حتمی فیصلہ ہونے کے بعد اب ہمارے پاس اتنے میدان، تنصیبات اور وسائل نہیں کہ ہم پاک-آسٹریلیا سیریز بھی منعقد کر سکیں۔ اور اگر اگست میں انہی میدانوں پر بہت زیادہ کرکٹ کھیلی گئی تو ستمبر میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے وکٹیں اچھی حالت میں نہیں رہیں گی۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 5 ایک روزہ اور 3 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے کھیلے جانے ہیں جس کے لیے پاکستان نے پہلے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے بطور میزبان منتخب کرنے پر غور کیا لیکن پھر سری لنکا پر اتفاق ہوا لیکن اب اس اہم ترین سیریز کے لیے ایک مرتبہ پھر میزبان کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ اس سیریزکی اہمیت اس لحاظ سے دو چند ہو جاتی ہے کہ یہ دنیائے کرکٹ کے دوسرے اہم ترین ٹورنامنٹ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے صرف چند ہفتے قبل منعقد ہو رہی ہے اور اس کی تیاریوں میں دونوں ٹیموں کو اچھی مدد فراہم کرے گی۔

Facebook Comments