جلد قومی ٹیم میں مستقل مقام حاصل کر لوں گا: خالد لطیف

پاکستان نے رواں سال کی دوسری اہم ترین مہم یعنی دورۂ سری لنکا کے لیے اپنے اعلان کردہ دستہ میں مقامی کرکٹ میں بہتر کارکردگی دکھانے والے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا گیا ہے۔ جن میں طویل انتظار کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کے لیے منتخب ہونے والے کراچی کے بلے باز خالد لطیف بھی شامل ہیں۔ اب تک 5 ایک روزہ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کرنے والے خالد لطیف ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو 2009-10ء کے بدقسمت دورۂ آسٹریلیا میں شامل تھے۔ وہ دورہ جب پاکستان کو کینگروؤں کی سرزمین پر تمام ہی مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا لیکن بعد ازاں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء میں آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں شکست ان کے بین الاقوامی کیریئر کے آگے ’فل اسٹاپ‘ لگاتی دکھائی دی لیکن اب ایک مرتبہ پھر موقع دیے جانے کے بعد خالد لطیف بہت زیادہ پراعتماد ہیں کہ اس مرتبہ وہ قومی کرکٹ ٹیم میں مستقبل مقام بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

سخت و انتھک محنت کا تحفہ ہے کہ میں اب دوبارہ پاکستانی ٹیم میں شامل ہوگیا ہوں (تصویر: Getty Images)

سخت و انتھک محنت کا تحفہ ہے کہ میں اب دوبارہ پاکستانی ٹیم میں شامل ہوگیا ہوں (تصویر: Getty Images)

کرک نامہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خالد لطیف کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم سے باہر ہوجانے کے بعد میں مایوس نہیں ہوا تھا، بلکہ یہ ٹھان لی تھی کہ ملکی کرکٹ میں سخت محنت کرکے دوبارہ گرین شرٹ پہنے کا اعزاز حاصل کروں گا اور اس کے لیے میں نے انتھک محنت اور مستقل مزاجی سے کام لیا۔ مایوسی سے کنارہ کشی کا نتیجہ ہے کہ آج میں دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں اور جلد ہی بین الاقوامی سطح پر ملک کی دوبارہ نمائندگی کر سکوں گا۔

خالد لطیف کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے مستعد و پھرتیلا فیلڈر ہونا کتنا لازمی ہے، اسی لیے انہوں نے اپنی فیلڈنگ پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ بیٹنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملکی کرکٹ فارم میں آنے کا بہترین ذریعہ ہے اور اسی سے ہم اپنی میچ فٹنس کا بھی ثبوت دیتے ہیں، میری فٹنس اور فارم میرے ڈومیسٹک کیریئر میں لگائے جانے والے رنز کے انبار سے ظاہر ہے اور اللہ تعالی کی جانب سے سخت و انتھک محنت کا تحفہ ہے کہ میں اب دوبارہ پاکستانی ٹیم میں شامل ہوگیا ہوں۔

ملکی کرکٹ میں کراچی ڈولفنز اور کراچی کی نمائندگی کرنے والے خالد لطیف کا کہنا تھا کہ حال ہی میں بنگلہ دیش میں ہونے والی پریمیئر لیگ میں بھی سخت محنت کی تھی، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی بڑی اننگز کھیلی تھیں اور سلیکٹرز نے میری پرفارمنس اور فٹنس کو دیکھتے ہوئے مجھے قومی ٹیم میں واپسی کا موقع دیا ہے۔ اس مرتبہ میری بھرپور کوشش ہوگی کہ پاکستانی ٹیم کا مستقل رکن بنوں اور پاکستان کے لیے فتح گر اننگز کھیلنے میں کامیاب رہوں۔

غیر ملکی کوچ کے حوالے سے خالد لطیف کا کہنا تھا کہ بورڈ نے ہمیشہ ملکی کرکٹ کے مفاد میں اچھے فیصلے کیے ہیں اور وسیع تر تجربے کے حامل ڈیو واٹمور کی کوچنگ سے پاکستانی ٹیم کو کامیابیاں سمیٹنے میں مدد ملے گی۔میں لاہور میں لگنے والے کیمپ میں ان سے باقاعدہ کوچنگ لوں گا۔

خالد لطیف جنہیں صرف ٹی ٹوئنٹی دستے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، کا اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بیٹنگ کرتا ہوں اگر میں نے ملکی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کرکٹ میں تیز اننگز کھیلی ہیں تو قائد اعظم ٹرافی اور پنٹاگولر کپ میں طویل اننگز کھیل کر یہ ثابت کیا ہے کہ میں وکٹ پر زیادہ دیر رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں۔ مجھے پوری امید ہے کہ جلد پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مستقل رکنے بننے کے بعد ٹیسٹ کیپ بھی حاصل کرلوں گا۔

کیونکہ یہ انٹرویو ’ماں کے عالمی دن‘ کے موقع پر لیا گیا، اس لیے خالد لطیف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج میں جس مقام پر ہوں اس میں میری محنت سے زیادہ میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ہے اور انہوں نے میری ایسی تربیت کی ہے کہ میں کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی ہمت نہیں ہارتا کیونکہ مجھے یقین ہوتا ہے کہ میری ماں میری کامیابی کے لیے دعاگو ہے اور ان کی دعائیں مجھے ناکام نہیں ہونے دیں گی۔

Facebook Comments