نمبر ون رہنے کے لیے انگلستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف لازماً فتح درکار

انگلستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز کل (جمعرات) سے لندن کے تاریخی میدان لارڈز سے ہو رہا ہے اور حالیہ ٹیسٹ مقابلوں میں آسٹریلیا کے خلاف توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھانے والے ویسٹ انڈیز کے خلاف انگلستان کو لازماً فتح حاصل کرنی ہے کیونکہ اس کی عالمی نمبر ایک پوزیشن برقرار رہنے کا دارومدار جیت پر ہے۔

اینڈریو اسٹراس کے انگلستان کو رواں سال اپنی نمبر ون پوزیشن بچانے کے لیے کافی پاپڑ بیلنا پڑیں گے (تصویر: Getty Images)

اینڈریو اسٹراس کے انگلستان کو رواں سال اپنی نمبر ون پوزیشن بچانے کے لیے کافی پاپڑ بیلنا پڑیں گے (تصویر: Getty Images)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق انگلستان اس وقت 116 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، گو کہ جنوبی افریقہ کے پوائنٹس بھی اتنے ہی ہیں لیکن انگلستان کو چند اعشاریہ کی بدولت اس پر برتری حاصل ہے جو انگلستان ویسٹ انڈیز سیریز کے برابر ہونےکی صورت میں بھی ختم ہو جائے گی اس لیےانگلستان کو بہرصورت یہ سیریز جیتنی ہے۔

سیریز 0-0 یا 1-1 سے برابر ہونے کی صورت میں انگلستان کو دو پوائنٹس سے محروم ہو جانا پڑے گا اور یوں انگلستان-جنوبی افریقہ ٹکراؤ سے قبل ہی پروٹیز کو بابائے کرکٹ پر نفسیاتی برتری حاصل ہو جائے گی۔

12 جولائی کو پاک-سری لنکا ٹیسٹ سیریز کے اختتام کے بعد اور 19 جولائی کو انگلستان-جنوبی افریقہ سے قبل سالانہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز ہوگا اور انگلستان پوری کوشش کرے گا کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے زیادہ سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرے اور یوں آسٹریلیا، پاکستان یا جنوبی افریقہ کی سالانہ ٹیسٹ چیمپئن شپ اپ ڈیٹ کے بعد سرفہرست آنے کی امیدوں پر پانی پھیر دے۔

البتہ 1-0 یا 2-1 سے فتح انگلستان کو 116 ریٹنگ پوائنٹس پر برقرار رکھے گی جبکہ 2-0 سے فتح کے نتیجے میں اسے ایک قیمتی پوائنٹ بھی ملے گا۔ اگر وہ کلین سویپ میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے پوائنٹس کی تعداد 118 ہو جائے گی۔

اگر خلاف توقع انگلستان 2-0 یا 3-0 سے ہار جاتا ہے تو اسے پہلی پوزیشن سے گر کر چوتھی پوزیشن پر جانا پڑے گا اور جنوبی افریقہ اول، آسٹریلیا دوسری اور بھارت تیسری پوزیشن پر قابض ہو جائے گا۔

علاوہ ازیں ویسٹ انڈیز کے بلے باز شیونرائن چندرپال ٹیسٹ بلے بازوں کی عالمی فہرست میں اول نمبر پر ہیں اور انہیں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے انگلش سرزمین پر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ ان کے علاوہ انگلستان کے ایلسٹر کک بھی ایسے بلے باز ہیں جو سرفہرست 10 میں موجود ہیں اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اچھی کارکردگی انہیں مزید آگے لے جا سکتی ہے۔

گیند بازوں میں انگلستان کے جمی اینڈرسن اور گریم سوان سرفہرست حریفوں ڈیل اسٹین اور سعید اجمل کے قریب آنے کی کوشش کریں گے، جو بدستور اول و دوئم پوزیشن پرموجود ہیں۔ ان کے علاوہ اسٹورٹ براڈ بھی آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔

انفرادی درجہ بندی پہلے ٹیسٹ کے اختتام پر تازہ تر ہوگی جبکہ ٹیموں کی درجہ بندی تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے خاتمے پر اپ ڈیٹ کی جائے گی جو 11 جون کو ایجبسٹن، برمنگھم میں آخری ٹیسٹ میچ مکمل ہونے کے بعد جاری ہوگی۔

ٹیسٹ کی مکمل عالمی درجہ بندی کے لیے کرک نامہ کا خصوصی صفحہ ملاحظہ کریں

Facebook Comments