براڈ کی شاندار گیند بازی، انگلستان لارڈز ٹیسٹ میں فاتح

توقعات کے عین مطابق انگلستان نے لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کو زیر تو کر لیا، لیکن ابتدائی چاروں دنوں تک جدوجہد کرنے والی مہمان ٹیم نے آخری روز ابتدائی وکٹیں جلد گرا کر میچ کو دلچسپ مرحلے میں داخل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ایلسٹر کک اور این بیل کی پانچویں وکٹ پر 132 رنز کی شراکت نے میچ کو سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ایلسٹر کک فتح سے محض 2 قدم کے فاصلے پر 79 رنز کی اننگز کھیل کے پویلین لوٹے جبکہ این بیل 63 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ جبکہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے عالمی نمبر ایک بلے باز شیونرائن چندرپال دونوں اننگز میں سنچریوں سے محروم رہے اور روایتی سست رفتار انداز سے 87 اور 91 رنز کی کلیدی اننگز کھیلیں۔

اسٹورٹ براڈ کی 11 وکٹوں نے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: Getty Images)

اسٹورٹ براڈ کی 11 وکٹوں نے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: Getty Images)

گزشتہ 31 میں سے صرف 2 ٹیسٹ میچ جیتنے والے ویسٹ انڈیز کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ان میں میچ کو اپنے حق میں رکھتے ہوئے خاتمے تک پہنچانے کی اہلیت بہت کم دکھائی دے رہی ہے۔ اپنی سرزمین پر وہ بہت سخت حریف تو ثابت ہو رہے ہیں لیکن وہاں بھی فتوحات دامن میں نہیں سمیٹ رہے اور بیرون ملک تو اس سے بھی برا حال ہے۔ بہرحال، عالمی نمبر ایک ٹیم کے خلاف اسی کی سرزمین پر جیتنا تو ایک بہت مشکل ہدف ہے لیکن ویسٹ انڈیز کو مقابلے پر گرفت پانے کے بعد گنوانے کی عادت سے چھٹکارہ پانا ہوگا۔

عالمی درجہ بندی میں اپنی سرفہرست پوزیشن بچانے کے لیے سیریز میں لازمی فتح کا ہدف لیے انگلستان نے ٹاس جیت کر اول روز ہی سے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور اگر پہلی اننگز میں شیونرائن چندر پال کی 175 گیندوں پر 87 رنز کی اننگز آڑے نہ آتی تو وہ کہیں کم تر اسکور پر مہمان ٹیم کو ڈھیر کر دیتا لیکن شیو کی یہ ناقابل شکست اننگز ویسٹ انڈیز کو 243 کے مجموعے تک لے گئی۔ ویسٹ انڈیز کی اس تباہی میں اہم ترین کردار اسٹورٹ براڈ نے ادا کیا جو جمی اینڈرسن کی جانب سے ابتدائی دونوں وکٹیں حاصل کرنے کے بعد ویسٹ انڈین مڈل آرڈر پر چڑھ دوڑے اور سوائے ایک اینڈ سے شیونرائن کے کوئی بلےباز ان کا مقابلہ کر پایا اور باقی تمام وکٹیں اسٹورٹ براڈ نے حاصل کیں۔ براڈ نے صرف 72 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں ۔ انہوں نے دوسرے روز اپنی پہلی ہی گیند پر ویسٹ انڈین کا صفایا کر کے اپنے کیریئر کے بہترین اعداد وشمار حاصل کیے۔

جواب میں انگلستان کا جواب کرارا تھا، دنیا کی مضبوط ترین شمار کی جانے والی بیٹنگ لائن اپ نے ویسٹ انڈیز کو دوسرے ہی روز میچ سے تقریباً باہر کر دیا۔ اور اس میں اہم ترین کردار انگلش قائد کا تھا جنہوں نے 213 گیندوں پر کیریئر کی 20 ویں سنچری مکمل کی اور انگلستان نے تیسرے روز کا اختتام 259 رنز پر محض تین کھلاڑی آؤٹ کی انتہائی مضبوط پوزیشن کے ساتھ کیا۔ اسٹراس کے علاوہ جوناتھن ٹراٹ نے 58 اور این بیل نے 61 رنز کی عمدہ اننگز کھیلیں جبکہ آخری لمحات میں گریم سوان کی 25 گیندوں پر 30 رنز کی اننگز نے اسکور کو 400 کی نفسیاتی حد کے قریب پہنچنے میں مدد دی اور 398 رنز پر این بیل کے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے شینن گیبریل کی تیسری وکٹ بننے کے ساتھ ہی انگلستان کی دوسری اننگز تمام ہوئی۔ اسے پہلی اننگز میں 155 کی زبردست برتری حاصل ہوئی اور اسی کے دباؤ میں آنے کے باعث ویسٹ انڈیز مشکلات کا شکار ہو گیا۔

انگلستان نے دوسری اننگز میں خسارے سے دوچار ویسٹ انڈیز کو اس وقت سخت مصیبت میں ڈال دیا جب 65 پر اس کی ابتدائی چاروں وکٹیں گر چکی تھیں۔ ایڈرین بارتھ 24 رنز بنانے کے بعد ٹم بریسنن کی گیندوں پر وکٹوں کے پیچھے کیچ تھما بیٹھے تو دوسرے اینڈ سے اسٹورٹ براڈ نے کیرون پاول کو ٹھکانے لگا دیا۔ ابھی اس صدمے کو ہی نہ جھیل پائے تھے کہ اگلے اوور میں کرک ایڈورڈز کے رن آؤٹ نے ویسٹ انڈین امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ڈیرن براوو نے تجربہ کار شیونرائن چندرپال کے ساتھ اننگز سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی 21 رنز بنانے کے بعد بہت ہی بھیانک انداز میں آؤٹ ہوئے۔ گریم سوان کی ایک اندر آتی ہوئی گیند کو چھوڑنے کی کوشش انہیں بہت مہنگی پڑ گئی اور گیند ان کی آف اسٹمپ کو چھوتی ہوئی نکل گئی۔ اب ویسٹ انڈیز کو کوئی معجزاتی کارکردگی کی بچا سکتی تھی۔ اور شیونراغن اور مارلون سیموئلز جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے یہ توقع عبث بھی نہیں تھی۔ سب سے پہلے تو دونوں نے یہ کیا کہ تیسرے روز مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی اور جب کھلاڑی میدان سے لوٹے تو ویسٹ انڈیز کا اسکور 120 رنز چار کھلاڑی آؤٹ تھا اور اب نتیجے کا تمام تر انحصار چوتھے روز ویسٹ انڈین بلے بازوں کی کارکردگی پر تھا۔ سیموئلز اور شیو نے پوری جان لڑا دی اور چوتھے روز کھانے کے وقفے تک اسکور میں اضافہ کرتے اور وکٹ بچاتے رہے۔ میچ بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا تھا لیکن کھانے کے وقفے کے بعد نئی گیند ملتے ہی کچھ دیر میں اسٹورٹ براڈ نے سب سے بڑی کامیابی دلائی یعنی کہ 157 رنز کی شراکت داری کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے ایک سوئنگ ہوتی ہوئی گیند پر سیموئلز کو دوسری سلپ میں کیچ کرایا۔ سیموئلز 172 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے 86 رنز بنا کر مایوسی کے عالم میں پویلین لوٹے۔

اینڈریو اسٹراس نے کیریئر کی 20 ویں سنچری داغ کر انگلش فتح کا سنگ بنیاد رکھا (تصویر: Getty Images)

اینڈریو اسٹراس نے کیریئر کی 20 ویں سنچری داغ کر انگلش فتح کا سنگ بنیاد رکھا (تصویر: Getty Images)

دوسرے اینڈ سے چندرپال دوسری اننگز میں سنچری کی جانب گامزن تھے، جسے وہ پہلی اننگز میں دیگر بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کی وجہ سے نہ بنا پائے تھے، لیکن گریم سوان کی گیند پر وہ اس وقت ایل بی ڈبلیو ہو گئے جب انہوں نے 90 میں قدم ہی رکھا تھا۔ 250 گیندوں پر محض 10 چوکوں کی مدد سے 91 رنز بنانے والے شیو نے دونوں اننگز میں اچھی بلے بازی سے ثابت کیا کہ وہ عالمی نمبر ایک بننے کے حقدار ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی بلے بازی سے حریف ٹیم پر کوئی دھاک نہیں بیٹھی، اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ایک میچ ونر کھلاڑی بھی بن سکتے ہیں۔

بہرحال، وکٹ کیپر دنیش رام دین اور کپتان ڈیرن سیمی کی بالترتیب 43 اور 37 رنز کی مزاحمت نے ویسٹ انڈیز کو 345 رنز پر پہنچا دیا اور یوں انگلستان کو میچ جیتنے کے لیے 191 رنز کا نسبتاً آسان ہدف ملا۔

براڈ ایک مرتبہ پھر انگلستان کے کامیاب ترین گیند باز رہے جنہوں نے 93 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین وکٹیں گریم سوان اور ایک، ایک وکٹ جمی اینڈرسن اور ٹم بریسنن کو ملی۔

اب انگلستان کو چوتھے روز کے آخری چند اوورز سنبھل کر گزارنے تھے۔ کریز پر پہلی اننگز کے سنچورین کپتان اینڈریو اسٹراس اور ایلسٹر کک موجود تھے۔ تاہم دوسرے اوور میں اسٹراس کیمار روچ کی خوبصورت گیند پر گلی میں کیچ تھما بیٹھے۔ اچانک اٹھ کر آتی ہوئی گیند نے ان کے بلے کا کنارہ لیا اور سیدھا کیرن پاول کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ محض چند اوورز کا کھیل باقی بچ جانے کی وجہ سے انگلستان نے 'نائٹ واچ مین' کے طور پر جمی اینڈرسن کو میدان میں اتارا۔ جو کیمار روچ اور فیڈل ایڈورڈز کے واروں کو زیادہ دیر نہ سہ پائے اور دن کے آخری اوور میں روچ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ تھما بیٹھے۔

بالآخر انگلستان کو اپنا بلے باز ہی میدان میں بھیجنا پڑا۔ کک اور ٹراٹ نے دن کی بقیہ گیندیں کھیلیں اور 10 رنز پر 2 وکٹوں کے نقصان کے ساتھ چوتھے روز کا خاتمہ ہوا اور یوں انگلستان کو آخری روز مزید 181 رنز بنانے تھے۔

پانچویں روز ویسٹ انڈیز نے گیند بازوں کے لیے سازگار کنڈیشنز کا صبح بھرپور فائدہ اٹھایا اور پہلے جوناتھن ٹراٹ کیمار روچ کی تیسری وکٹ بنے اور گیبریل نے کیون پیٹرسن کی صورت میں قیمتی ترین وکٹ حاصل کر کے تہلکہ مچا دیا۔ 57 پر 4 وکٹیں گنوا بیٹھنے کے بعد اب سنجیدگی سے بلے بازی کی ضرورت تھی اور کک اور بیل نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا اور پانچویں وکٹ پر 132 رنز جوڑ کو فتح کو یقینی بنایا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیمار روچ نے تین اور شینن گیبریل اور ڈیرن سیمی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

انگلستان کے اسٹورٹ براڈ کو 11 وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 25 مئی سے ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں شروع ہوگا۔

Facebook Comments