ایشیز سیریز: انگلستان اعزاز کے دفاع میں کامیاب

بالآخر 24 سال کے طویل انتظار کے بعد وہ لمحہ آن پہنچا جس کا 'بارمی آرمی' کو انتظار تھا۔ آسٹریلیا کے تابوت میں بالآخر آخری کیل ٹھونک ہی دی گئی اور انگلستان نے آسٹریلیا کو ایشیز 2010-11ء کے آخری ٹیسٹ میں اننگ اور 83 رنز کی ہزیمت سے دوچار کر کے ربع صدی میں پہلی بار آسٹریلیا میں ایشیز سیریز جیت لی۔

آسٹریلیا کی اس شکست کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ اس کو سیریز کے پانچ میں سے ہارے گئے تین ٹیسٹ میچوں میں اسے اننگ کی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ آسٹریلیا کو کسی سیریز کے تین میچوں میں اننگ کی شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی ہو۔

سڈنی کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والے حتمی مقابلے سے قبل ہی آسٹریلیا گویا کہ شکست تسلیم کر چکا تھا۔ چوتھے ٹیسٹ میں کپتان رکی پونٹنگ کا درست فیصلوں کے باوجود امپائرز سے جھگڑنا ظاہر کر رہا تھا کہ آسٹریلوی کپتان سیریز اور اپنی کپتانی کو ہاتھ سے نکلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ چوتھے میچ میں فیصلہ کن برتری اور ایشیز کا اعزاز برقرار رکھنے کے بعد انگلستان واضح طور پر برتر پوزیشن میں نظر آ رہا تھا۔ اور آخری میچ سے قبل پونٹنگ کا زخمی ہونا اور قیادت مائیکل کلارک کے ہاتھ آنا ہی ظاہر کر رہا تھا کہ بڑے عرصے بعد انگلستان آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر شکست سے دوچار کرنے کے قریب ہے۔

میچ کی سب سے خاص بات انگلستان کی پہلی اننگ میں ایلسٹر کک، این بیل اور میٹ پرائیر کی شاندار سنچریاں تھیں۔ کک بدقسمتی سے اپنی ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے اور 189 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔

میچ میں ایک یادگار کارکردگی دکھانے والے جیمز اینڈرسن فتح سے سرشار (گیٹی امیجز)

پہلے روز جب آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ تو کیا لیکن اینڈرسن اور ٹم بریسنن کی نپی تلی گیند بازی کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور پوری ٹیم اسکور بورڈ پر محض 280 کا ہندسہ جوڑ سکی اور میدان انگلستان کے بلے بازوں کے لیے چھوڑ دیا جنہوں نے سڈنی کی بیٹسمین فرینڈلی پچ کا بھرپور استعمال کیا اور اتنا مجموعہ اکٹھا کر لیا جو آسٹریلوی کی دباؤ کا شکار بیٹنگ لائن اپ دو اننگ میں بھی پورا نہ کر سکی۔ انگلستان کی پہلی اننگ کے اسکور 644 رنز کے جواب میں 364 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسری اننگ کا آغاز کیا تو وہ پہلی اننگ کا ری پلے ہی ثابت ہوئی۔ ٹیل اینڈرز سے کچھ مزاحمت ضرور کی اور شکست کو کچھ وقت کے لیے ٹالا لیکن ہار آسٹریلیا کا مقدر بن چکی تھی۔ اسٹیون اسمتھ ناقابل شکست 51 اور پیٹر سڈل 43 رنز کے ساتھ نمایاں اسکورر رہے اور دوسری اننگ میں آسٹریلیا 281 رنز بناکر آل آؤٹ ہو گیا اور انگلستان کو ایک ہی سیریز میں اننگ سے تیسری فتح نصیب ہوئی۔

اینڈرسن اینڈ کمپنی نے دونوں اننگز میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ کو جس بری طرح کچلا اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود آسٹریلیا دونوں اننگ میں 300 کے ہندسے تک بھی نہ پہنچ سکا۔ پہلی اننگ میں 280 پر ڈھیر ہو جانے والی آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ دوسری اننگ میں بھی 281 تک ہی پہنچ سکی۔ ان میں سے بھی 110 رنز آخری کی تین وکٹوں نے بنائے۔

ایلسٹر کک کو 189 رنز بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ سیریز میں شاندار 766 رنز بنانے پر انہیں سیریز کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ یہ وہ ایلسٹر کک ہیں جن کی پاکستان کے خلاف چند ماہ قبل کھیلی گئی ہوم سیریز میں بڑی مشکل سے جگہ بنی تھی اور سیریز سے قبل آؤٹ آف فارم ہونے کے باعث انہیں کئی مقابلوں سے محروم ہونا پڑا تھا۔ ایشیز 2010-11ء بلاشبہ ان کے لیے زندگی کی سب سے یادگار سیریز ہوگی۔

واضح رہے کہ انگلستان نے آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر آخری مرتبہ 1986-87ء کی ایشیز سیریز میں مائیک گیٹنگ کی قیادت میں  2-1 سے شکست دی تھی۔ اس سیریز کی خاص بات کرس براڈ کی تین سنچریاں تھیں۔ چوتھے ٹیسٹ میں انگلستان نے اننگ کی فتح حاصل کر کے سیریز اپنے نام کی۔

Facebook Comments