انگلستان نے وزڈن ٹرافی جیت کر نمبر ایک پوزیشن بچا لی

انگلستان نے گیند بازی کے شعبے میں اپنی بھرپور برتری ثابت کرتے ہوئے ویسٹ انڈین ٹاپ آرڈر کی کمزوریوں کو عیاں کر کے رکھ دیا اور یوں مسلسل ساتویں ہوم سیریز جیت کر اپنی عالمی نمبر ایک پوزیشن بچا لی۔ انگلش سرزمین پر ٹیم کی مسلسل فتوحات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ”گھر کے شیر“ کا خطاب سات سمندر کا سفر کرنے کے بعد اس کے پاس پہنچنے والا ہے۔ بہرحال، فتح میں ٹم بریسنن کی عمدہ گیند بازی کے ساتھ اینڈریو اسٹراس کی پہلی اننگز کی شاندار سنچری نے اہم کردار ادا کیا اور میچ کے چوتھے روز 108 رنز کا ہدف صرف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

ٹم بریسنن کا شاندار ریکارڈ جاری ہے کہ انہوں نے جتنے ٹیسٹ میچز میں شرکت کی وہ تمام انگلستان نے جیتے ہیں، 8 وکٹیں حاصل کرنے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

ٹم بریسنن کا شاندار ریکارڈ جاری ہے کہ انہوں نے جتنے ٹیسٹ میچز میں شرکت کی وہ تمام انگلستان نے جیتے ہیں، 8 وکٹیں حاصل کرنے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

انگلستان نے آخری مرتبہ 2008ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں شکست کھائی تھی اور اس کے بعد تک تمام سیریز میں فتوحات سمیٹی ہے۔ اور اب اس ریکارڈ کو خطرہ بھی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ہی لاحق ہے جو جولائی میں تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے سرزمینِ انگلستان پر وارد ہوگا اور نہ صرف یہ کہ سیریز جیت کے انگلش فتوحات پر روک لگا سکتا ہے بلکہ انگلستان کو عالمی درجہ بندی میں سرفہرست پوزیشن سے بھی ہٹا سکتا ہے۔

بہرحال، ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور ایک مرتبہ پھر اس کا ٹاپ آرڈر دغا دے گیا۔ ایڈرین بارتھ صفر کی ہزیمت کا شکار ہوئے اور 63 کے مجموعے تک پہنچتے پہنچتے اولین چار وکٹیں جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کے ہتھے چڑھ چکی تھیں۔ عالمی نمبر ایک بلے باز چندرپال، جو گزشتہ میچ میں مزاحمت کی واحد مثال رہے، نے مارلون سیموئلز کے ساتھ مل کر اننگز سنبھالنے کی کوشش کی لیکن 46 کے انفرادی اسکور پر ان کے آؤٹ ہونے کے بعد معاملہ تک ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دیا جب محض 136 کے مجموعے پر دنیش رام دین بھی پویلین لوٹ گئے۔ اب ویسٹ انڈیز 6 وکٹیں گنوا چکا تھا۔

اس موقع پر کپتان ڈیرن سیمی اور مارلون سیموئلز نے ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتویں وکٹ پر 204 رنز کی شاندار شراکت داری قائم کی۔ ڈیرن سیمی نے روایتی تیز رفتار انداز میں بلے بازی کی اور 156 گیندوں پر 17 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے کیریئر کی پہلی سنچری بنائی جبکہ دوسرے اینڈ پر تجربہ کار مارلون سیموئلز نے 261 گیندوں پر 16 چوکوں کی مدد سے 117 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور ویسٹ انڈیز کو مکمل تباہی سے بچا لیا۔ لیکن سیمی کی وکٹ گرتے ہی سیموئلز بھی پویلین لوٹ گئے اور آنے والے بلے باز کچھ زیادہ رنز کا اضافہ نہ کرپائے اور پہلی اننگز 370 رنز پر تمام ہوئی۔

انگلستان کی جانب سے ٹم بریسنن نے سب سے زیادہ 4 اور اینڈرسن، براڈ اور گریم سوان نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

ایسا لگتا تھاکہ ویسٹ انڈیز میچ میں مکمل انداز میں واپس آ چکا ہے لیکن گیند بازوں کا امتحان ابھی باقی تھا۔ جو انگلستان کی مضبوط باؤلنگ لائن اپ کے سامنے ناکام ثابت ہوئے خصوصاً کپتان اینڈریو اسٹراس اور کیون پیٹرسن نے ان کے حوصلوں کو کافی گرا دیا۔ جنہوں نے تیسری وکٹ پر 144 رنز جوڑے۔ کیون پیٹرسن نے 114 گیندوں پر ایک چھکے اور 11 چوکوں کی مدد سے 80 رنز بنائے جبکہ دوسرے اینڈ پر اینڈریو اسٹراس نے اپنے کیریئر کی 21 ویں سنچری بنائی، جو مسلسل دوسرے مقابلے میں ان کی تہرے ہندسے کی اننگز تھی۔ وہ 22 چوکوں کی مدد سے 303 گیندوں پر 141 رنز بنا کر اس وقت آؤٹ ہوئے جب انگلستان ویسٹ انڈیز کے 370 رنز تک پہنچنے سے محض 7 قدم کے فاصلے پر تھا۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد انگلستان نے آخری تین وکٹوں پر بھی 65 رنز جوڑ ڈالے اور ویسٹ انڈیز پر 58 رنز کی حوصلہ افزا برتری حاصل کر لی۔

روی رامپال 3 اور کیمار روچ، ڈیرن سیمی اور مارلون سیموئلز 2،2 وکٹوں کے ساتھ نمایاں گیند باز رہے جبکہ شین شلنگفرڈ نے ایک وکٹ حاصل کی۔

اب میچ کا سب سے اہم مرحلہ آ چکا تھا، اور مہمان ٹیم کو مقابلے میں موجود رکھنے کا انحصار ابتدائی بلے بازوں پر تھا، جو ابھی تک سیریز میں کوئی قابل ذکر کارکردگی پیش نہ کرپائے تھے۔ لیکن اس مرتبہ حال تو پہلی اننگز سے برا رہا۔ جمی اینڈرسن نے اپنے دوسرے اور تیسرے اوول میں دونوں اوپنرز کو ٹھکانے لگا کر انگلستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ اور بعد ازاں سوائے پہلی اننگز کے سنچورین مارلون سیموئلز کے کوئی بلے باز قابل ذکر مزاحمت نہ کر پایا۔ اینڈرسن اور بریسنن کا مقابلہ ان کے بس کی بات ہی نہ لگتا تھا اور سیموئلز کے 76 رنز کے باوجود پوری ٹیم 165 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

دونوں گیند بازوں نے 4،4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک، ایک وکٹ براڈ اور سوان کو ملی۔ یوں میچ میں بریسنن کی وکٹوں کی تعداد 4 ہوگئی۔

محض 108 رنز کے ہدف کا تعاقب انگلستان نے بہت اطمینان کے ساتھ کیا اور 31 ویں اوور میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر ہدف کو جا لیا۔ گرنے والی واحد وکٹ کپتان اینڈریو اسٹراس کی تھی جنہوں نے پہلی وکٹ پر ایلسٹر کک کے ساتھ 89 رنز کی شراکت داری قائم کی اور 45 رنز بنانے کے بعد سیموئلز کی وکٹ بنے۔ کک 43 اور جوناتھن ٹراٹ 17 رنز پر ناقابل شکست رہے۔

تین میچز کی سیریز کے ابتدائی دونوں معرکے جیتنے کے بعد انگلستان وزڈن ٹرافی جیت چکا ہے اور برمنگھم میں ہونے والا تیسرا و آخری ٹیسٹ محض رسمی کارروائی اور ویسٹ انڈیز کے لیے عزت بچانے کا آخری موقع ہوگا ۔ یہ مقابلہ 7 جون سے ایجبسٹن کے تاریخی میدان میں شروع ہوگا۔

ٹم بریسنن کو شاندار باؤلنگ پر میچ کا بہترین باؤلر قرار دیا گیا۔

Facebook Comments