پاک-بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی، حتمی فیصلہ جون میں

گزشتہ چند ہفتوں سے پاک-بھارت کرکٹ تعلقات میں موجود سردمہری بہت تیزی سے پگھلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور پاکستان کی جانب سے بارہا کوششوں کے باوجود بھارت کے رویے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی تھی لیکن پھر اچانک بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے رواں سال چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستان کی ٹیم پر عائد پابندی پر اپنا اعتراض واپس لے لیا اور اسی پر بس نہیں کیا کہ انڈین پریمیئر لیگ سیزن 5 کا فائنل دیکھنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کو بھی مدعو کر ڈالا۔ ان دو اقدامات نے اس امر کو تقویت بخشی کہ جلد ہی کوئی انقلابی پیشرفت ہونے والی ہے اور معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کا کہنا ہے کہ جون میں ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ہونے والا بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا سالانہ اجلاس پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی میں اہم ثابت ہوگا اور پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف کے مطابق وہاں ممکنہ طور دونوں ممالک ایک سیریز کے انعقاد کا اعلان کریں گے۔

ذکا اشرف نے گزشتہ روز اپنے بھارتی ہم منصب این شری نواسن کی عیادت بھی کی (تصویر: Associated Press)

ذکا اشرف نے گزشتہ روز اپنے بھارتی ہم منصب این شری نواسن کی عیادت بھی کی (تصویر: Associated Press)

چنئی میں آئی پی ایل کا فائنل دیکھنے کے بعد بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں موجود ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ ”اس حوالے سے حتمی فیصلہ کوالالمپور میں ہوگا، جہاں آئی سی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوگا۔ وہاں محترم شری نواسن اور میرے درمیان مذاکرات ہوں گے، اور امکان ہے کہ ہم تعلقات کی بحالی کے لیے کسی کوئی ترکیب وضع کرنے اور کچھ اعلان کرنے کے قابل ہوں گے۔“

انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ فریقین پہلے ہی دو طرفہ سیریز کے لیے گفتگو کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں آج یہ خبر زیر گردش رہی کہ پاکستان مجوزہ طور پر موسم سرما میں انگلستان کے دورۂ بھارت کے دوران اس وقت مختصر سیریز کھیلے گا، جب انگلش ٹیم کرسمس منانے واپس وطن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی سی سی آئی نے ایسی کسی سیریز کے حوالے سے ہمیں کوئی پیغام نہیں دیا۔ البتہ گیند اب بھی بھارتی بورڈ کے کورٹ ہی میں ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ کون سا موقع مناسب ہوگا، جب پاک-بھارت سیریز منعقد ہو سکتی ہے۔

دسمبر 2007ء میں دو طرفہ سیریز کے بعد دونوں ممالک ٹیسٹ کرکٹ میں مدمقابل نہیں آئے اور کیونکہ آخری مرتبہ پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو اب بھارت کی دورۂ پاکستان کی باری ہے۔ لیکن پاکستان میں مارچ 2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے اس لیے فی الحال تو پاک-بھارت مقابلوں کے لیے دو ہی مقامات ہو سکتے ہیں یا خود بھارت یا پھر کوئی اور مقام جسے پاکستان اپنے لیے پسند کرے۔

ذکا اشرف نے کہا کہ انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ پاکستانی کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں شرکت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی کیونکہ یہ کمرشل معاملہ ہے۔ میری گفتگو کا محور پاک بھارت دو طرفہ تعلقات کی بحالی تھا، جو میرے خيال میں زیادہ اہم ہے۔ اگر وہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو مدعو کرنا چاہیں، تو یہ ان کی مرضی ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ بھی ایک اچھا قدم ہوگا۔

اس کے علاوہ ذکا اشرف نے سی ایل ٹی 20 میں پاکستان کی قومی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن سیالکوٹ اسٹالینز کو مدعو کرنے کا بھی خیرمقدم کیا۔

Facebook Comments