کیون پیٹرسن نے ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

انگلش بلے باز کیون پیٹرسن ’انڈین پریمیئر لیگ کی محبت‘ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے بہترین دور میں ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح وہ 16 جون سے ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی محدود اوورز کی سیریز کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے جبکہ ممکنہ طور پر وہ رواں سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے بھی باہر ہو گئے ہیں۔

کیون پیٹرسن کے علاوہ صرف ایک کھلاڑی ایسا ہے جس نے رواں سال آئی پی ایل کھیلا ہے (تصویر: AFP)

کیون پیٹرسن کے علاوہ صرف ایک کھلاڑی ایسا ہے جس نے رواں سال آئی پی ایل کھیلا ہے (تصویر: AFP)

ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کیون پیٹرسن نے کہا ہے کہ ”بین الاقوامی سطح پر سخت شیڈول اور اپنے جسم پر پڑنے والے بوجھ کے باعث میں نے سوچا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں آنے والی نسلوں کے لیے جگہ خالی کر دوں تاکہ وہ عالمی کپ 2015ء تک درکار تجربہ حاصل کر لیں۔ میں ایک روزہ کرکٹ میں اپنی کامیابیوں پر تہہ دل سے فخر محسوس کرتا ہوں اور اب بھی خواہش رکھتا ہوں کہ ٹیسٹ میں انگلستان کی نمائندگی کے لیے مجھے زیر غور رکھا جائے گا۔“

کیون پیٹرسن، جو حال ہی میں انڈین پریمیئر لیگ میں دہلی ڈیئرڈیولز کی نمائندگی کر چکے ہیں، گزشتہ ماہ آئی پی ایل محبت میں اس حد تک آگے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے یہ تک کہہ ڈالا کہ انگلستان آئی پی ایل سے ”حسد“ کرتا ہے۔ انگلستان کے بیشتر کھلاڑی، اور ذرائع ابلاغ بھی، دنیا کی اس سب سے بڑی لیگ کو اہمیت نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ رواں سال پیٹرسن کے علاوہ صرف ایک کھلاڑی، ایون مورگن، آئی پی ایل کھیل سکے۔ لیکن یہاں کا ماحول کیوں کو اس قدر بھایا کہ اپنی بین الاقوامی ٹیم ہی سے بپھر گئے۔ ویسے واضح رہے کہ انگلستان کیون پیٹرسن کا آبائی وطن نہیں ہے بلکہ ان کا اصل تعلق جنوبی افریقہ سے ہے، تاہم ان کے اس بیان کے سامنے آتے ہی لگتا تھا کہ پیٹرسن کو کوئی بڑا فیصلہ کرنے والے ہیں۔

پیٹرسن نے محدود طرز کی بین الاقوامی کرکٹ چھوڑنے کے باوجود آئی پی ایل میں کھیلنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور ان کا یہ اعلان اب انگلستان اور بین الاقوامی کرکٹ میں ایک نئی بحث کو جنم دے گا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہے تو وہ خودکار طور پر ٹی ٹوئنٹی کے لیے بھی نااہل ہو جاتا ہے یوں کیون پیٹرسن کا ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان دراصل محدود طرز کے دونوں کرکٹ فارمیٹس کے کیریئر کا اختتام کا پروانہ ہوگا۔ گو کہ کیون پیٹرسن نے اپنے الفاظ میں رواں سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اپنی دستیابی کا اعلان کیا ہے لیکن بورڈ قوانین میں تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں وہ ٹورنامنٹ میں انگلستان کی نمائندگی نہیں کر پائیں گے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء ستمبر میں سری لنکا میں کھیلا جائے گا جہاں انگلستان اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا۔

2004ء میں زمبابوے کے خلاف اپنے بین الاقوامی کیریئر کا بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرنے والے کیون پیٹرسن محض 31 سال کے ہیں اور اب تک 127 ایک روزہ اور 36 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلوں میں انگلستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایک روزہ میں 41.84 کے اوسط سے 4184 رنز بنائے ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں ان کا اوسط 37.93 ہے۔ ان کی عمدہ کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے آخری دونوں ایک روزہ مقابلوں میں، جو انہوں نے فروری میں پاکستان کے خلاف کھیلے، سنچریاں داغ کر انگلستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں وہ اس وقت بھی عالمی نمبر ایک بلے باز ہیں۔

کیون پیٹرسن کے اچانک اعلان سے انگلستان کو بہت دھچکا پہنچا ہوگا، کیونکہ ٹیسٹ میں نمبر ون پوزیشن کے مزے لوٹنے والا انگلستان پاکستان کے خلاف حالیہ سیریز جیت کر ایک روزہ عالمی درجہ بندی میں بمشکل چوتھی پوزیشن پر آیا ہے، اور مزید آگے بڑھنے کے سفر میں پیٹرسن جیسے کھلاڑی سے محرومی سے اس کی فتوحات کا تسلسل ٹوٹ سکتا ہے۔

’کے پی کا کیریئر‘ میچز رنز بہترین اسکور اوسط اسٹرائیک ریٹ سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے
ایک روزہ 127 4184 130 41.84 86.76 9 23 398 73
ٹی ٹوئنٹی 36 1176 79 37.93 141.51 0 7 119 32

Article Tags

Facebook Comments