اوور میں دو باؤنسرز کی اجازت، باؤلنگ پاور پلے کا خاتمہ، ایک روزہ کرکٹ کے لیے نئی تجاویز

آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی کی جانب سے ایک روزہ مقابلوں میں کچھ تبدیلیوں کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن میں باؤلر کو ایک اوور میں دو باؤنسرز کروانے کی اجازت اور باؤلنگ پاور پلے کو ختم کرنا بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اجلاس میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ چھوٹے دائرے سے باہر فیلڈرز کی تعداد پانچ سے گھٹا کر چار کر دی جائے۔

رواں ماہ کوالالمپور میں آئی سی سی بورڈ کا اجلاس ان سفارشات کی توثیق  کرے گا

رواں ماہ کوالالمپور میں آئی سی سی بورڈ کا اجلاس ان سفارشات کی توثیق کرے گا

رواں ماہ کوالالمپور میں آئی سی سی بورڈاجلاس کمیٹی کی ان سفارشات کی توثیق کرے گا۔ اگر ان قوانین کا اطلاق ایک روزہ میچوں میں ہو گیا تو ابتدائی 10 اوورز کا پاور پلے تو اپنی جگہ موجود رہے گا مگر اس کے بعد 40 اوورز سے پہلے پہلے صرف ایک پاور پلے لیا جا سکے گا جس کا اختیار بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے پاس ہو گا۔

آئی سی سی کے ایک اعلامیہ کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد بلے بازی اور گیند بازی کے درمیان توازن قائم کرنا اور ایک روزہ مقابلوں کو ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ کے مقابلے میں ایک الگ پہچان دینا ہے۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ 16 ویں سے 40 ویں اوور کے درمیان دو پاور پلے مراحل سے کھیل پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑ سکا البتہ وکٹ کے دونوں اطراف سے نئی گیندوں کا استعمال ایک کامیاب قدم تھا۔ دونوں قوانین گزشتہ سال ہونے والے اجلاس میں پیش کئے گئے تھے۔

آئی سی سی کے جنرل مینیجر آف کرکٹ ڈیو رچرڈسن کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلیاں ون ڈے کرکٹ ، جو کہ اب بھی بے پناہ مقبولیت رکھتی ہے ، کو مزید نکھارنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ کمیٹی اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ مسلسل ترامیم نہیں ہونی چاہئیں مگر پچھلے سال سے کھیل کو بہتر بنانے کا جو عمل شروع ہوا تھا اس کو بھی مکمل کرنا چاہتی ہے۔ان کا کہنا تھا یہ تبدیلیاں جو 2011ء کے عالمی کپ کے دوران بھی کافی مقبول ہوئی تھیں اور 2015ء کے عالمی کپ سے پہلے کھیل کو مزید بہتر بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔

ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ کی زیر صدارت اس کمیٹی نے کچھ مزید سفارشات بھی پیش کیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ بارش سے متاثرہ میچوں کے اسکورز کا حساب ڈک ورتھ لوئس طریقے سے کرنے کے فیصلہ کو برقرار رکھا جائے۔بھارت کے ایک ماہر ریاضی دان وی جے دیوان نے اس سے پہلے اپنا ایک طریقہ ’وی جے ڈی میتھڈ‘ متعارف کروایا تھا مگر کمیٹی متفقہ طور پر اس بات پر راضی تھی کہ ڈک ورتھ لوئس طریقہ کار میں کوئی کجی نہیں ہے اور نہ وی جے ڈی میتھڈ نے اس سے کوئی بہتر تجویز پیش کی ہے۔

اس کے علاوہ اوور ریٹس کو بہتر بنانے کے لئے یہ سفارشات بھی پیش کی گئیں کہ پانی کے وقفے کے علاوہ کسی کھلاڑی کے لئے پانی لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

Facebook Comments