ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیسٹ قربان، جنوبی افریقہ کا انوکھا فیصلہ

ٹی ٹوئنٹی جیسی مختصر طرز کی کرکٹ اصل کھیل پر کس قدر اثر انداز ہو رہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جنوبی افریقہ نے رواں سال کے آخر میں اپنا روایتی 'باکسنگ ڈے ٹیسٹ' قربان کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف ان دنوں میں تین ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلنے کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ موسم گرما کے ہوم سیزن کے لیے شیڈول ترتیب دے دیا ہے، جس کے مطابق وہ اگلے سال کے اوائل میں تین ٹیسٹ، دو ٹی ٹوئنٹی اور پانچ ایک روزہ مقابلوں کے لیے پاکستان کی میزبانی کرے گا جبکہ اس سے قبل وہ نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی، دو ٹیسٹ اور تین ایک روزہ کھیلے گا۔

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کا یہ قدم اک نئی بحث کو جنم دے گا

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کا یہ قدم اک نئی بحث کو جنم دے گا

کیونکہ جنوبی افریقہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی طرح خطِ استوا کے نچلے علاقے میں واقع ہے، اس لیے شمالی نصف کرّہ کے مقابلے میں وہاں موسم الٹ ہوتا ہے اور موسمِ گرما اُن ایام میں آتا ہے جب دنیا کی بیشتر آبادی کوئلے سینک رہی ہوتی ہے۔ بہرحال، کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے اعلان کے مطابق روایتی 'باکسنگ ڈے ٹیسٹ' کی جگہ نیوزی لینڈ کے خلاف کرسمس کے ایام میں تین ٹی ٹوئنٹی کھیلے جائیں گے۔ یہ فیصلہ دنیائے کرکٹ میں اک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ کمرشل فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے سی ایس اے کے اس فیصلے نے قدیم روایت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ان تین مقابلوں کے کے بعد نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی بلیک کیپس اور پروٹیز کے درمیان دو ٹیسٹ اور پھر تین ایک روزہ کھیلے جائیں گے۔

پاکستان کے خلاف سیریز کا آغاز یکم فروری کو پہلے ٹیسٹ مقابلے سے ہوگا جو 26 فروری تک جاری رہیں گے اور یکم مارچ سے محدود اوورز کی سیریز شروع ہوگی جس میں دو ٹی ٹوئنٹی اور پانچ ایک روزہ کھیلے جائیں گے۔

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو ژاک فال نے کہا کہ "نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے ہم نے ایک بہت اہم تبدیلی کی ہے کہ کرسمس کے ایام میں ایک روایتی ٹیسٹ کے بجائے تین ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کو جگہ دی ہے ۔ کرکٹ شائقین کے لیے انعام مزید پانچ ٹیسٹ ، آٹھ ایک روزہ اور پانچ ٹی ٹوئنٹی کی صورت میں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "میچز کی کثیر تعداد کے باعث بورڈ کو تمام صوبوں میں مقابلوں کی یکساں تقسیم میں آسانی ہوگی۔"

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان آخری مرتبہ نومبر 2010ء میں متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلی گئی تھی جس میں دو مقابلوں کی ٹیسٹ سیریز 0-0 سے برابر رہی تھی جبکہ محدود اوورز کی دونوں سیریز جنوبی افریقہ نے جیت لی تھیں۔ جبکہ پاکستان نے آخری مرتبہ 2007ء کے اوائل میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا اور یہ تقریباً 6 سال کے طویل عرصے کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ پاکستان جنوبی افریقی سرزمین پراترے گا۔

Facebook Comments