انڈر 19 ایشیا کپ جیت کر ورلڈ کپ کی تیاری کریں گے: بابر اعظم

پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈر 19 ایشیا کپ کے لیے 16رکنی دستے کا اعلان کردیا ہے ۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے اوپنر بابر اعظم ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ صبیح اظہر قومی انڈر 19 ٹیم کے کوچ ہوں گے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا انڈر 19 ایشیا کپ ٹورنامنٹ ہوگا جو 21 جون سے یکم جولائی تک ملائیشیا میں کھیلا جائے گا۔

بابر اعظم قومی سینئر کرکٹ ٹیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایشیا کپ لانے کے خواہاں

بابر اعظم قومی سینئر کرکٹ ٹیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایشیا کپ لانے کے خواہاں

انڈر 19 ورلڈ کپ کے بعد جونیئر سطح کے اس دوسرے بڑے ایونٹ میں قیادت کے فرائض انجام دینے والے بابر اعظم نے ’کرک نامہ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے حوصلے کافی بلند ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ پاکستان کی جونیئر ٹیم قومی ٹیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایشیا کپ کا ٹائٹل پاکستان لائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ”مجھے اپنی ٹیم کی صلاحیتوں پر پورا پورا یقین ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری ٹیم دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے ہم جانتے ہیں کہ جونیئر ورلڈکپ سے قبل یہ ٹورنامنٹ میگا ایونٹ کی تیاریوں کے لیے سنہرا موقع ہے جس سے ہم بھرپور مستفید ہونا چاہتے ہیں۔“

ایشیا کپ میں پاکستان کا مقابلہ بھارت اور سری لنکا جیسی مضبوط ٹیموں سے ہوگا اور نوجوان کپتان پرامید ہیں کہ ان کی ٹیم روایتی حریف کے علاوہ بحر ہند کے جزیرے سے تعلق رکھنے کھلاڑیوں کو بھی زیر کرلے گی۔

”ہم جانتے ہیں کہ بھارت ہمارے لیے کبھی بھی آسان حریف نہیں رہا لیکن جس طرح ہماری ٹیم باؤلنگ اٹیک مضبوط اور بیٹنگ لائن اپ مستحکم ہے، یقیناً روایتی حریف کے لیے ہم مشکلات کا سبب بنیں گے جبکہ ہم سری لنکا کو بھی آسان حریف تصور نہیں کرتے، اس لیے اُن سے بھی نمٹنے کے لیے اچھی اور مرتب حکمت عملی تیار کریں گے۔“ بابر اعظم کا ماننا ہے کہ ”جونیئر سطح کی کرکٹ پر اٹیکنگ کرکٹ زیادہ کام آتی ہے، لیکن اس کے باوجود حریف ٹیم کو دیکھ کر حکمت عملی تیار کی جائے گی۔“

”میچ کی حکمت عملی تیار کرنا اکیلے کپتان کا کام نہیں ہے، اس کے لیے کوچ اور ٹیم انتظامیہ کی مشاورت بھی شامل حال ہوتی ہے۔ صبیح اظہر جس طرح ڈومیسٹک سرکٹ سمیت ’اے‘ ٹیموں کے لیے کامیاب کوچنگ کرچکے ہیں، اس کے بعد ہمیں یقین ہے کہ انڈر 19 سطح پر بھی پاکستانی ٹیم کو اُن سے کافی فائدہ ہوگا۔“

دنیا بھر کے کپتانوں کی طرح بابر اعظم بھی اپنی ٹیم کی صلاحیتوں کے نہ صرف متعرف ہیں بلکہ انہیں یقین ہے کہ نوجوان کرکٹرز کے حوصلے کسی طرح کم نہیں۔ ”ہماری ٹیم نوجوان ضرور ہے لیکن ہمہ وقت کرکٹ میں مصروف رہتی ہے، اور ایشیا کپ میں ہمیں اندازہ ہوجائے گا کہ بین الاقوامی سطح پر ہماری ٹیم کی کتنی مستحکم ہے لیکن اس کے باوجود میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جس ٹیم میں سمیع اسلم، عمر وحید، عثمان قادر، ضیاء الحق، احسان عادل اور میر حمزہ جیسے کھلاڑی ہوں وہ کسی بھی ٹیم کا دھڑن تختہ کرسکتی ہے۔“

قومی سینئر کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں میں جس طرح زیادہ تر گیند بازوں کا کردار اہم رہا ہے اسی طرح بیٹنگ کی ناکامی میں اس کے اوپنرز کی ناکامی بڑی وجہ رہی ہے، تاہم بابر اعظم کا ماننا ہے کہ انڈر 19 ٹیم کو ان دونوں شعبوں میں ملکہ حاصل ہے۔ ”میں خود اوپنگ بیٹسمین ہوں اور میرا ساتھی بھی انتہائی مستعد اوپنر ہےع اس لیے میں اس بات کی ضمانت لے سکتا ہوں کہ جس طرح ہم سخت محنت کررہے ہیں اس کے بعد یقینی طور پر پاکستانی جونیئر ٹیم کو اوپننگ کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اللہ ہماری محنت کا نتیجہ ضرور دے گا اسی طرح ہمارے تیز اور اسپن باؤلرز بھی انتہائی قابل بھروسہ ہیں اور ہماری ٹیم کو ایک متوازن سائیڈ کہا جاسکتا ہے۔“

ایشیا کپ سے قبل پاکستانی جونیئر ٹیم چار پریکٹس میچز بھی کھیلے گی، جسے جونیئر کپتان نہ صرف ایشیا کپ بلکہ جونیئر ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے بھی اہم قرار دیا ہے۔ بابر اعظم ذاتی طور پر رکی پونٹنگ ، مہندر سنگھ دھونی اور شاہد آفریدی کے قائدانہ انداز کے دلدادہ ہیں۔

انڈر 19 ایشیا کپ کے لیے اعلان کردہ ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی:

بابر اعظم (کپتان)، احسان عادل، اختر وحید کیانی، انعام الحق، سلمان آفریدی، سمیع اسلم، سید سعد علی، سید فراز علی، شاہد الیاس، شوکت علی، عثمان قادر، عزیز اللہ، عمر وحید، محمد ضیاء الحق، محمد نواز اور میر حمزہ۔

ٹیم مینجمنٹ

ہارون رشید (ٹیم منیجر)، صبیح اظہر (کوچ)، ڈاکٹر سہیل سلیم (فزیوتھراپسٹ)، یاسر ملک (ٹرینر) اور عثمان ہاشمی (اینالسٹ)۔

Facebook Comments