وی جے ڈی کے خالق بھارتی انجینئر کا آئی سی سی پر جانب داری کا الزام

بھارت کے انجینئر وی جے دیوان، جنہوں نے حال ہی میں بارش سے متاثرہ مقابلوں کے لیے زیر استعمال ڈک ورتھ لوئس طریق کار کے مقابلے میں اپنا ایک سسٹم ’وی جے ڈی‘ متعارف کروایا تھا اور جسے گزشتہ ہفتے آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی کی جانب سے رد بھی کر دیا گیا تھا، نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل پر جانب داری کا الزام لگاتے ہوئے اسکے صدر شرد پوار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اگر غیر جانبداری سے موازنہ کیا جائے تو وی جے ڈی طریق کار ڈک ورتھ لوئس سے کہیں بہتر ہے۔

آئی سی سی ونوں طریقوں کا موازنہ کسی غیر جانب دار ماہر سے کروائے، جس کا تعلق نہ بھارت سے ہو نہ انگلستان سے: جے دیوان کا مطالبہ

آئی سی سی ونوں طریقوں کا موازنہ کسی غیر جانب دار ماہر سے کروائے، جس کا تعلق نہ بھارت سے ہو نہ انگلستان سے: جے دیوان کا مطالبہ

اگر محدود طرز کی کرکٹ کا کوئی میچ بارش یا کسی اور وجہ سے متاثر ہو جائے تو اسکور کا حساب ڈی -ایل طریق کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔ یہ نظام 14 سال پہلے 1998ء میں متعارف کروایا گیا تھا تاہم جے دیوان کا کہنا ہے کہ ڈی ایل طریق کار اپنی نہاد میں چند خرابیاں رکھتا ہے جس کو بہتر بناتے ہوئے انہوں نے نیا نظام مرتب کیا ہے۔ دیوان سمیت متعدد ماہرین کی جانب سے تنقید کے باوجود آئی سی سی نے اس طریق کار کو اب تک برقرار رکھا ہوا ہے۔

وی جے ڈی سسٹم کو رد کیے جانے پر نہ صرف خود اس کے خالق برافروختہ ہیں بلکہ بھارت کے سابق کپتان سنیل گاوسکر بھی میدان میں کود پڑے ہیں اور انہوں نے بھارت کے معروف اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں ایک تحریر میں آئی سی سی کو رگید ڈالا ہے اور یہ تک کہا ہے کہ آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی کے اراکین نے جے دیوان کے خلاف تعصب سے کام لیا ہے۔

بہرحال، آئی سی سی کے صدر کو لکھے گئے خط میں بھارتی انجینئر کا کہنا ہے کہ وہ کس طرح 12 سال سے ڈکورتھ لوئس طریق کار میں پائی جانے والی خامیوں کو منظر عام پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ 2005ء میں آئی سی سی کی جانب سے مقرر کردہ ایک ماہر نے دونوں طریقوں کا موازنہ کیا تھا اور آخر میں ڈی-ایل طریقے کے حق میں رپورٹ پیش کردی۔ اُن کے مطابق رپورٹ میں حقائق سے متعلق کئی غلطیاں تھیں اور صاف ظاہر تھا کہ مبصر کا جھکاؤ ڈی-ایل طریق کار کی جانب تھا۔ وجے کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بےضابطگی کی جانب آئی سی سی کی توجہ بھی دلائی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی کے جنرل مینیجر ڈیو رچرڈسن نے ان کی بات کو اہمیت دیتے ہوئے انہیں ہانگ کانگ مدعو کیا تاکہ وہ اپنے کام کے بارے میں پریزنٹیشن دے سکیں۔وہاں بھی وہی ’غیر جانب دار‘ ماہر ان کے پیش کردہ سسٹم پر تبصرہ کرنے والے ججوں میں سے ایک تھے۔ جے دیوان کا کہنا تھا کہ وہ جب ڈی-ایل طریقے کی خامیاں بتا رہے تھے تو اُن ’ماہر صاحب‘ کے چہرے سے ناگواری صاف عیاں تھی اور جج کم اور ڈکورتھ لوئس طریقے کے نمائندے زیادہ لگ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کے میری پریزینٹیشن کے بعد ان ہی صاحب کو دونوں طریقوں پر تبصرے کی دعوت دی گئی جس پر میں نے اپنی ناگواری کا اظہار کیا، جس پر آئی سی سی کی جانب یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ فیصلہ غیر جانب دار ہی ہو گا۔ بھارتی ماہر ریاضی کا کہنا تھا کہ افسوس کے ایسا کوئی فیصلہ آج تک سامنے نہیں آیا۔

حال ہی میں اپنے سسٹم کو رد کیے جانے پر جے دیوان کا کہنا ہے کہ میں نے جناب رچرڈسن سے یہ گزارش کی تھی کہ مجھے بھی اس پینل کا حصہ بنایا جائے کیونکہ فریق مخالف بھی اپنے طریقے کا دفاع کرنے کے لئے وہاں موجود تھے۔

انہوں نے شرد پوار کو مزید لکھا کہ آئی سی سی کی یہ ذمہ داری ہے جو سب سے بہتر سسٹم موجود ہے، اس کا انتخاب کرے۔ میں کونسل سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ دونوں طریقوں کا موازنہ کسی غیر جانب دار ماہر سے کروائے، جس کا تعلق نہ بھارت سے ہو نہ انگلستان سے۔

Facebook Comments