محمد اکرم کو باؤلنگ کوچ مقرر کیا جائے: باسط علی کا مطالبہ

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ سیریز کا آغاز ہو چکا ہے اورانگلستان کے خلاف سیریز کے بدترین نتیجے کے بعد پاکستان کے پاس یہ اہم موقع ہے کہ وہ 50 اوورز کی کرکٹ میں اپنی اہلیت کو ثابت کرے۔ یہ پاکستان کے نئے کوچنگ عملے، ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور اور فیلڈنگ کوچ جولین فاؤنٹین، کی زیر تربیت پاکستان کی پہلی ایک روزہ سیریز ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں کی آمد سے اس طرز میں قومی کرکٹ میں کتنی بہتری واقع ہوئی ہے۔

باسط علی اضافی بلے باز اور باؤلر کے طور پر شعیب ملک کو کھلانے کے حامی ہیں (تصویر: Getty Images)

باسط علی اضافی بلے باز اور باؤلر کے طور پر شعیب ملک کو کھلانے کے حامی ہیں (تصویر: Getty Images)

اس حوالے سے معروف کرکٹ ویب سائٹ 'پاک پیشن' سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق بلےباز باسط علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک باؤلنگ اور بیٹنگ کوچ کی فوری ضرورت ہے، اور کوچ ڈیو واٹمور کی مدد کے لیے باؤلنگ کوچ مقرر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں وسیم اکرم سب سے بہترین انتخاب ہیں لیکن کیونکہ وہ مصروف ہیں اس لیے محمد اکرم اس کام کے لیے درست ترین فرد ہیں۔ وہ بین الاقوامی کرکٹ بھی کھیل چکے ہیں اور ایک ماہر کوچ بھی ہیں۔ بیٹنگ کوچ کے لیے اعجاز احمد یا محسن خان کو ذمہ داری دی جانی چاہیے کیونکہ یہی وجہ شعبہ ہے جس میں پاکستان کو بہتری کی کافی ضرورت ہے۔

باسط علی بورڈ کے چیئرمین کی تبدیلی کے بعد اب دیگر عہدیداران کی تبدیلی کے بھی خواہاں ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اعجاز بٹ کے جانے کے باوجود دیگر بورڈ عہدیداران اب تک بدستور اپنا کام کر رہے ہیں جو ایک افسوسناک امر ہے۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور میرا ماننا ہے کہ بورڈ میں نئے لوگوں کو لانے کا وقت آ چکا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ سیریز کے آغاز پر باسط علی کا کہنا تھا کہ طویل المیعاد کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو اپنے بیٹنگ مسائل پر قابو پانا ہوگا۔ پاکستان کے پاس بہتر باؤلنگ اٹیک ہے اور وہ سری لنکن بلے بازوں کو پریشانی سے دوچار کر سکتا ہے جیسا کہ وہ گزشتہ سال بھر سے کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اس میں محمد سمیع کی شمولیت ایک اضافی خوبی ہوگی۔ لیکن اصل مسئلہ پاکستان کی بیٹنگ کا ہے۔ پاکستان کو چھ بلے بازوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے اور کیونکہ اس شعبے میں پاکستان کمزورہے اس لیے ایک اضافی بیٹسمین کو کھلانا بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہر علی نے ٹیسٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن میرے خیال میں وہ ایک روزہ کے لیے بہتر نہیں ہیں اور ناصر جمشید کی عدم موجودگی میں پاکستان کو شعیب ملک کو جگہ دینی چاہیے۔ گو کہ ان کی حالیہ کارکردگی اچھی نہیں لیکن وہ بہت عمدہ کھلاڑی ہیں۔ ان کی آمد سے پاکستان چھٹا گیند باز بھی مل سکتا ہے۔

باؤلنگ کوچ کی تقرری کا معاملہ فی الحال دورۂ سری لنکا کے اختتام تک موخر کیا جا چکا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ماہ قومی ٹیم کی واپسی کے بعد قرعۂ فال کس کے نام نکلتا ہے۔

پاک پیشن نے مذکورہ بالا انٹرویو خصوصی طور پر کرک نامہ کو ارسال کیا تاکہ بعد از ترجمہ اسے ہم اپنے قارئین کے لیے پیش کر پائیں۔ اس کرم نوازی پر ہم پاک پیشن انتظامیہ کے شکر گزار ہیں۔

Facebook Comments