پیریرا و دلشان پاکستان کو بھاری پڑ گئے، سری لنکا نے سیریز برابر کردی

صورتحال چاہے جیسی بھی سازگار کیوں نہ ہو، ہدف کا تعاقب کرنا عرصۂ دراز سے پاکستان کے لیے بہت ہی مشکل رہا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ موسمی حالات جیسے بھی ہوں اکثر ٹیمیں پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرناچاہتی ہیں جیسا کہ سری لنکا نے اولین دونوں ایک روزہ مقابلوں میں کیا اور پہلے مقابلے میں گو کہ فیصلہ سری لنکا کے حق میں نہ گیا لیکن اسی میدان پر آج سری لنکا نے بیٹنگ کے شعبے میں اپنی برتری کو تو ثابت کیا ہی ساتھ میں پاکستان کی بلے بازی کی کمزوری کو بھی عیاں کر کے رکھ دیا۔ پالی کیلے کے خوبصورت میدان میں کھیلے گئے دوسرے ایک روزہ میں پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن اپ کے لیے 281 رنز کا ہدف پاکستان کے لیے ناممکن دکھائی دیتا تھا، تاہم اظہر علی کی 96 رنز کی اننگز نے ابتدا میں پاکستان کو بہتر پوزیشن میں رکھا لیکن سری لنکا کے ابھرتے ہوئے آل راؤنڈر تھیسارا پیریرا کی گیند بازی کے سامنے پاکستان کے دیگر بلے باز گرتے چلے گئے اور سری لنکا نے مقابلہ با آسانی 76 رنز سے جیت کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔

تلکارتنے دلشان کی 13 ویں سنچری نے مقابلے کو پاکستان کی پہنچ سے کہیں باہر کر دیا (تصویر: AFP)

تلکارتنے دلشان کی 13 ویں سنچری نے مقابلے کو پاکستان کی پہنچ سے کہیں باہر کر دیا (تصویر: AFP)

سری لنکا دوسرے مقابلے میں ایکدم مختلف روپ میں نظر آیا۔ فیلڈنگ میں تو ان کی برتری پاکستان پر ہمیشہ ہی رہی ہے لیکن آج انہوں نے بیٹنگ اور باؤلنگ بھی میں پاکستان کو مکمل طور پر آؤٹ کلاس کیا۔ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ اور اس کے بعد تلکارتنے دلشان کی شاندار سنچری اننگز نے اسے ایک بڑا مجموعہ حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس سفرمیں کپتان مہیلا جے وردھنے کے 53 اور آخری اوورز میں تھیسارا پیریرا کے 14 گیندوں پر 24 رنز نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

دلشان جنہیں خاص طور پر محدود اوورز کا بلے باز سمجھا جاتا ہے، آج اپنی اس خاصیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور محمد سمیع کی عدم موجودگی میں پاکستان کے نسبتاً کمتر باؤلنگ اٹیک کے سامنے ڈٹ گئے۔ انہوں نے ایک یادگار ناقابل شکست اننگز کھیلی اور ایک روزہ کیریئر کی 13 ویں سنچری محض 120 گیندوں پر بنائی۔

پاکستان نے ایک بہت بڑی غلطی کی کہ گزشتہ میچ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے تجربہ کار محمد سمیع کو اس میچ میں نہیں کھلایا، جس کا واضح اثر سری لنکا کی بیٹنگ پر نظر آیا جس نے ان کی جگہ کھیلنے والے ناتجربہ راحت علی کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے چار اوورز میں 34 رنز سمیٹے۔ اس کے بعد راحت کو مزید گیند بازی نہیں دی گئی اور ان کا بوجھ دیگر باؤلرز کو بانٹنا پڑا۔ صورتحال پھر بھی قابو میں تھی لیکن سری لنکا نے وکٹیں نہ گرنے کا آخر میں خوب فائدہ اٹھایا۔جب کھیل آخری پانچ اوورز میں داخل ہوا تھا تو سری لنکا 240 رنز تک پہنچنے والا تھا اور اس کی محض 3 وکٹیں ہی گری تھیں اور اسی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے آخری چار اوورز میں مزید 40 رنز جڑ دیے۔

جب 50 اوورز مکمل ہوئے تو اسکور بورڈ پر 280 کاہندسہ جگمگارہا تھا اور وہ بھی صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر۔ دلشان 119 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جنہوں نے 139 گیندوں پر ایک چھکے اور 11 چوکوں کی مدد سے یہ اننگز کھیلی۔ پاکستان کا باؤلنگ کارڈ محض ایک روز بعد بالکل ہی مختلف کہانی پیش کر رہا تھا۔ عمر گل نے 9 اوورزمیں 58 رنز کھائے، سہیل تنویر نے 51، شاہد آفریدی اور سعید اجمل نے 10،10 اوورز میں بالترتیب 50اور 49 رنز کھائے۔ واحد باؤلر جنہوں نے کسی حد تک بہتر کارکردگی دکھائی محمد حفیظ تھے جنہوں نے اپنے 8 اوورز میں صرف 30 رنز دیے اور ایک وکٹ حاصل کی۔ سہیل تنویر، شاہد آفریدی اور سعید اجمل بھی ایک، ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔

تھیسارا پیریرا (44 رنز دے کر 6 وکٹیں) نے نہ صرف کیریئر کی بہترین گیند بازی کی بلکہ کسی بھی سری لنکن باؤلر کی جانب سے پاکستان کے خلاف بہترین باؤلنگ کا نیا ریکارڈ بھی قائم کی (تصویر: AFP)

تھیسارا پیریرا (44 رنز دے کر 6 وکٹیں) نے نہ صرف کیریئر کی بہترین گیند بازی کی بلکہ کسی بھی سری لنکن باؤلر کی جانب سے پاکستان کے خلاف بہترین باؤلنگ کا نیا ریکارڈ بھی قائم کی (تصویر: AFP)

ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو ایک مستحکم آغاز کی ضرورت تھی۔ اظہر علی، جن کی ایک روزہ ٹیم میں شمولیت پر ناقدین کافی برافروختہ دکھائی دے رہے تھے، کو اپنی اہمیت ثابت کرنا تھی اور انہوں نے کچھ دیرسیٹ ہونے کے بعد بہت ہی کلاسک اسٹروکس کھیل کر پاکستان کا اعتماد بحال کیا۔ گو کہ دوسرے اینڈ سے محمد حفیظ اتنے پراعتماد نہیں دکھائی دیے اور بالآخر پہلا پاور پلے مکمل ہوتے ہی پیریرا کے خوبصورت کیچ کا شکار بن گئے لیکن دوسرے اینڈ سے اظہر کے بلے سے نکلنے والے رنز کو روکنا سری لنکا کے بس کی بات نہ لگتی تھی۔ میچ سے قبل 70 سے بھی کم اسٹرائیک ریٹ رکھنے والے اظہر سے کسی کو توقع نہ تھی کہ وہ 100 کے لگ بھگ کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز کو آگے بڑھائیں گے۔ وہ محض اپنے ساتویں ایک روزہ مقابلے میں کیریئر کی پہلی سنچری کے قریب پہنچنے والے تھے لیکن 'دوچار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا'وہ نووان کولاسیکرا کی ایک تند و تیز یارکر پر نہ صرف اپنی وکٹ گنوا بیٹھے بلکہ تہرے ہندسے میں بھی نہ پہنچ پائے۔ میچ پہلے ہی یونس خان، مصباح الحق اور عمر اکمل کے آؤٹ ہونے کے باعث ہاتھ سے نکلتا جا رہا تھا کہ اظہر علی کے آؤٹ ہونے سے آخری امید بھی ختم ہو گئی۔ یونس خان مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ پیریرا کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے سنگاکارا نے ایک آسان کیچ چھوڑ کر انہیں نئی زندگی دی لیکن وہ اس کاکوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور اسی اوور میں سنگاکارا کو غلطی کے ازالے کا آسان موقع دے ڈالا۔

قبل ازیں، مصباح اور اظہر کے درمیان شراکت داری پاکستان کے لیے سب سے اہم تھی اور دونوں نے 49 رنز تو جوڑے لیکن ایک تو رنز بنانے کی رفتار کو برقرار نہ رکھ پائے اور جب اہم ترین موقع پر پیریرا نے مصباح کو وکٹوں کے سامنے جا لیا تو میچ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا۔ عمر اکمل بہت بہت زیادہ بدقسمت رہے، جو اکثر و بیشتر ان کے ساتھ ہوتا ہے، کہ گیند ان کے بلے کو چھوئے بغیر وکٹوں کے پیچھے گئی لیکن امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دے کر پاکستان پر فیصلہ کن ضرب لگادی جو 139 پر اپنی چوتھی وکٹ گنوا بیٹھا۔اس کے بعد اظہر علی کی باری آئی جو 119 گیندوں پر 12 چوکوں کے ساتھ 96 رنز بنا کر بولڈ ہوئے۔ کولاسیکراکی گیند نے ان کی لیگ اسٹمپ کے پرخچے اڑادیے اور ساتھ میں ان کا دل بھی توڑ دیا۔

اظہر علی بدقسمت رہے، نہ وہ اپنی پہلی ایک روزہ سنچری مکمل کرپائے اور نہ پاکستان فتح یاب ہو پایا (تصویر: AP)

اظہر علی بدقسمت رہے، نہ وہ اپنی پہلی ایک روزہ سنچری مکمل کرپائے اور نہ پاکستان فتح یاب ہو پایا (تصویر: AP)

آنے والے بلے باز شاہد آفریدی، سہیل تنویر اور دیگر کچھ زیادہ مزاحمت نہ کر پائے اور پوری ٹیم 47 ویں اوور میں محض 204 پر ڈھیر ہو گئی۔

سری لنکا کی جانب سے تھیسارا پیریرا نے نہ صرف اپنے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 44 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں بلکہ یہ پاکستان کے خلاف کسی بھی سری لنکن باؤلر کی سب سے عمدہ کارکردگی بھی رہی۔ان کے علاوہ کولاسیکرا اور لاستھ مالنگانے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

میچ کے بہترین کھلاڑی کے لیے منتظمین کافی پریشانی سے دوچار ہوئے ہوں گے کیونکہ بیک وقت سری لنکا کے دو کھلاڑیوں دلشان اور پیریرا نے فتح گر کارکردگی دکھائی تھی لیکن پاکستان کی ابتدائی عمدہ بلے بازی کے بعد اسے آؤٹ کلاس کرنے میں اہم کردار ادا کرنے پر پیریرا کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا اور بلاشبہ وہ اس کے درست ترین حقدار تھے۔

سیریز برابر ہونے کے بعد اب دونوں ٹیمیں کولمبو کا سفر کریں گی جہاں سیریز کے آخری تینوں ون ڈے کھیلےجائیں گے۔ اگلامقابلہ 13 جون کو ہوگا جہاں دونوں میں کوئی ایک ٹیم برتری حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان کو اپنی بیٹنگ اور فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دیناہوگی اور یہ خیال رکھناہوگا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں وننگ کمبی نیشن کو نہ توڑے جیسا کہ انہوں نے آج محمد سمیع کو باہر بٹھا کر اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری۔ دوسری جانب سری لنکا کو اپنے آل راؤنڈرز پر مکمل بھروسہ کرنا ہوگا خصوصاً تھیسارا پیریرا جس طرح کھیل کے تینوں شعبوں میں مستقل عمدہ کارکردگی دکھا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی کی حیثیت سے نمایاں ہوں گے۔

Facebook Comments