[آج کا دن] ثقلین مشتاق کی ورلڈ کپ ہیٹ ٹرک

عالمی کپ میں کارکردگی پیش کرنا دنیائے کرکٹ کے ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔ آپ دور جدید کے کسی بھی کے کھلاڑی سے پوچھ لیں اُس کی زندگی کا یادگار ترین لمحہ وہی ہوگا جب اس نے عالمی کپ میں کارکردگی پیش کی ہو یا پھر یہ اس کا خواب ہوگا کہ وہ کرکٹ کے اس اہم ترین ٹورنامنٹ میں اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کرے۔ بالکل اسی طرح باؤلرز کے لیے ہیٹ ٹرک کرنا اور وہ بھی عالمی کپ میں، گویا ’سونے پہ سہاگہ‘ ہے۔ عالمی کپ میں بہت ہی کم باؤلرز کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے جن میں پاکستان کے ثقلین مشتاق بھی شامل ہے جنہوں نے 1999ء میں آج ہی کے روز زمبابوے کے خلاف سپر سکس کے اہم مقابلے میں شاندار کارکردگی دکھا کر نہ صرف ریکارڈ بکس میں اپنا نام لکھوایا بلکہ پاکستان کو عالمی کپ کے سیمی فائنل تک بھی پہنچا دیا۔

11 جون 1999ء، اوول کا میدان اور پاکستان کے کھلاڑی ثقلین مشتاق کی یادگار ہیٹ ٹرک کا جشن مناتے ہوئے (تصویر: AFP)

11 جون 1999ء، اوول کا میدان اور پاکستان کے کھلاڑی ثقلین مشتاق کی یادگار ہیٹ ٹرک کا جشن مناتے ہوئے (تصویر: AFP)

اوول کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے اس مقابلے سے قبل پاکستان مسلسل تین میچز ہار کر نازک پوزیشن میں آ چکا تھا۔ اسے پہلے بنگلہ دیش کے ہاتھوں آخری گروپ میچ میں اپ سیٹ شکست سہنا پڑی، پھر رہی سہی کسر سپر سکس مرحلے میں جنوبی افریقہ اور بھارت کے خلاف پے در پے شکستوں نے پوری کر دی اور اب پاکستان کے لیے ضروری تھا کہ وہ زمبابوے کے خلاف آخری مقابلہ جیتے اور سیمی فائنل میں اپنی نشست پکی کرے اور اس نے سعید انور کی شاندار بلے بازی اور پاکستانی باؤلرز کی نپی تلی گیند بازی کی بدولت 148 رنز کے بھاری مارجن سے فتح اپنے نام کی۔ اس مقابلے میں زمبابوے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام ثقلین مشتاق نے انجام دیا جنہوں نے مجموعی طور پر اننگز کے 41 ویں اور اپنے ساتویں اوور کی اولین تین گیندوں پر زمبابوے کے آخری تین بلے بازوں ہنری اولنگا، ایڈم ہکل اور پومی ایمبانگوا کو مشہور زمانہ ’دوسرا‘ کا نشانہ بناتے ہوئے مسلسل تین گیندوں پر ٹھکانے لگا دیا اور عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دنیا کے دوسرے باؤلر بن گئے۔ ان سے قبل واحد ہیٹ ٹرک بھارت کے چیتن شرما نے 1987ء کے عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ناگپور میں کھیلے گئے مقابلے میں کی تھی۔

ثقلین مشتاق اپنے ہم وطن وسیم اکرم کے بعد ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے بھی باؤلر بنے۔ اس مقابلے سے پہلے وہ نومبر 1996ء میں پشاور کے ارباب نیاز اسٹیڈیم میں زمبابوے ہی کے خلاف ہیٹ ٹرک کر چکے تھے۔ انہوں نے گرانٹ فلاور، جان رینی اور اینڈ وٹل جیسے نسبتاً اچھے بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا۔ جی ہاں، یہ وہی مقابلہ تھا جس میں تماشائیوں کے ہنگامے کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا کھیل ضایع ہوا تھا۔

ویسے وسیم اکرم اور ثقلین مشتاق کا یہ ریکارڈ زیادہ عرصے برقرار نہ رہ سکا اور اگست 2011ء میں سری لنکا کے لاستھ مالنگا نے آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تین گیندوں پر تین حریف بلے بازوں کو آؤٹ کر کے اپنے کیریئر کی تیسری ہیٹ ٹرک کر ڈالی۔ انہوں نے 2007ء کے عالمی کپ میں جنوبی افریقہ، 2011ء کے عالمی کپ میں کینیا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف مذکورہ مقابلے میں ہیٹ ٹرکس کیں، جن میں سے اول الذکر اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں انہوں نے مسلسل چار گیندوں پر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ مالنگا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ عالمی کپ ٹورنامنٹس میں دو ہیٹ ٹرکس کرنے والے دنیا کے واحد گیند باز ہیں۔

بہرحال، عالمی کپ 1999ء میں زمبابوے کے خلاف اس آسان فتح کے ساتھ ہی پاکستان کی سیمی فائنل میں نشست یقینی ہو گئی اور جہاں اس کا مقابلہ نیوزی لینڈسے ہوا۔ جس کا احوال ہم اس دن 16 جون کو خصوصی تحریر میں بیان کریں گے۔

Facebook Comments