کرکٹ آسٹریلیا میدان میں کود پڑا، پاک-آسٹریلیا سیریز پر اہم پیشرفت کا امکان

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل اہم ترین سیریز کے معاملات ابھی تک لٹکے ہوئے ہیں اور پاکستان کی میزبان ڈھونڈنے میں ناکامی نے بڑے مسئلے کھڑے کر دیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان رواں سال اگست میں 5 ایک روزہ اور 3 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی ایک سیریز طے شدہ ہے اور وطن عزیز میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر یہ سیریز کسی اور ملک میں کھیلنا ہوگی لیکن متحدہ عرب امارات میں اگست کے مہینے میں شدید گرمی کے باعث پاکستان کو کسی اور میزبان کی ضرورت تھی اور سری لنکا کے ساتھ اس حوالے سے تمام معاملات طے ہو گئے کہ اچانک سری لنکا پریمیئر لیگ کو حتمی صورت ملتے ہی سری لنکا نے میزبانی سے ہاتھ اٹھا لیا اور اب پاکستان گو مگو کی کیفیت سے دوچار ہے۔

متحدہ عرب امارات کے میدان عالمی معیار کے ضرور ہیں لیکن موسم گرما میں یہاں دن میں کھیلنا تقریبا ناممکن ہے (تصویر: AFP)

متحدہ عرب امارات کے میدان عالمی معیار کے ضرور ہیں لیکن موسم گرما میں یہاں دن میں کھیلنا تقریبا ناممکن ہے (تصویر: AFP)

گو کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک روزہ میچز کے بجائے 7 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کروانے کی تجویز مسترد کر چکی ہے اور ملائیشیا میں انعقاد بھی زیر غور ہے لیکن اگر عرب امارات کا انتخاب ہوتا ہے تو وہاں سخت صحرائی گرمی کے باعث کم از کم ایک روزہ مقابلوں کا انعقاد تو ممکن نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ عرب امارات کرکٹ بورڈ نے مطالبہ کیا تھا کہ اس سیریز کو صرف ٹی ٹوئنٹی مقابلوں تک محدود کر دیا جائے جو رات کے وقت کھیلے جائیں۔ اور بلاشبہ یہ تجویز دونوں ملکوں کے نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس سیریز کے فوراً بعد سری لنکا میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے فی الوقت کسی بھی سیریز میں زيادہ سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں گی تعداد 3 رکھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ 7 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی درخواست رد ہوئی ہے لیکن اب کرکٹ آسٹریلیا کے معاملے میں کودنے ممکن ہے کہ آئی سی سی 5 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی منظوری دے دے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو جیمز سدرلینڈ نے کہا ہے کہ ”کیونکہ پاکستان کو سیریز کے انعقاد کے حوالے سے چند مسائل درپیش ہیں، ایک تو موسم کے مسائل اور گرمی کی شدت ہے جس سے متحدہ عرب امارات میں کھیلنے کے دوران سابقہ پیش آتا ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ معقول لگتا ہے کہ اگر میچز وہاں کھیلے جائیں تو گرمی سے بچنے کے لیے ایک روزہ کی تعداد کو گھٹا کر ان کی جگہ ٹی ٹوئنٹی کھیلے جائیں۔ گو کہ اس حوالے سے ہمارے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے لیکن ایک مرحلے پر ہمیں آئی سی سی سے بات کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ آئی سی سی کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی تعداد کا تعین کرنا اچھی بات ہے لیکن اس حوالے سے ہی طے کرنا سب سے پہلے پاکستان کا کام ہے کہ سیریز کا فارمیٹ کیا ہوگا کیونکہ وہ میزبان ہے۔ انہیں سب سے پہلے ایک مقام چاہیے جہاں وہ سیریز منعقد کر سکیں اور غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر وہ موزوں ترین فارمیٹ آئی سی سی کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔“

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے پر کرکٹ آسٹریلیا کی زبان کھلنے کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اگر آئی سی سی 5 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سیریز کی اجازت دیتا ہے تو یہ سیریز دونوں ملکوں کے لیے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کی تیاری کا زبردست پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔

Facebook Comments