[کچھ یادیں، کچھ باتیں] گیند چالیس منٹ تک کہاں رہی؟

یہ غالباً 1994 ء کا سیزن تھا۔ انگلینڈ کے دورے کے دوران ہم ایک فرسٹ کلاس میچ کھیل رہے تھے۔ اس مقابلے کے دوران ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی۔ ہوا یوں کہ ہماری ٹیم کے ایک گیندباز ایک اوور کے دوران جیسے ہی امپائر کے قریب گزرے اور گیند بلے باز کی جانب پھینکی، تو بجائے وہ بلے باز کی جانب جانے کے ایک لمحے کے لیے جیسے غائب ہو گئی، امپائراور ہم سب حیران رہ گئے لیکن دوسرے لمحے سب کو احساس ہوا کہ دراصل گیند باؤلر کے ہاتھ سے اتفاقاً چھوٹ گئی تھی اور کسی طرح عین پچ کے وسط میں رک گئی۔

امپائر نے صورتحال کو سمجھنے کے بعد ’ڈیڈ بال‘ کا اشارہ کردیا۔ لیکن باؤلر جیسے ہی آگے بڑھ کر گیند اٹھانے لگا تو بلے باز نے اسے روک دیا اور امپائر سے احتجاج کیا کہ چونکہ گیند باز نے مکمل باؤلنگ ایکشن کے بعد گیند پھینکی ہے اس لیے یہ گیند ابھی تک ڈیڈ نہیں ہوئی ہے۔ لیکن امپائر نے اس احتجاج کو رد کردیا اور مصر رہے کہ یہ گیند ڈیڈ ہوچکی ہے۔بلے باز کا دعویٰ پر بھی قائم رہا۔ معاملہ طول پکڑنے لگا تو امپائرز کھیل روک کر پویلین آگئے تاکہ کرکٹ قوانین سے رجوع کر سکیں۔ اس دوران گیند وہیں پچ کے وسط میں پڑی رہی۔

پویلین پہنچ کر امپائروں نے کرکٹ قوانین کی کتابیں کھنگالیں تو یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ بلے باز کا دعویٰ بجا تھا ۔ کرکٹ قانون کے مطابق وہ گیند ابھی تک ’لائیو‘ تھی۔خیرجناب، جب امپائرز نے کھیل دوبارہ وہیں سے شروع کرنے کا اعلان کیا تو اس وقت تک 40 منٹ ضائع ہوچکے تھے۔ تمام فیلڈرز اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہوگئے اور بلے باز کو کھلی چھوٹ مل گئی کہ وہ جس طرف چاہے اور جیسے چاہے گیند کو ہٹ مارے۔ بلے باز نے للچائی ہوئی نظروں سے گیند کو دیکھا اور ایک سمت کا انتخاب کرتے ہوئے زبردست انداز سے بلا گھمایا، لیکن ’لالچ بری بلا ہے‘ کے مصداق بلا گیند کے اوپر سے ہی گزر گیا۔ وہ گیندکو بہت زورسے مارنے کی کوشش میں اپنا نشانہ خطا کرگئے۔ اس وقت بلے باز کی حالت دیدنی تھی، افسوس اور اس سے بھی زیادہ شرمندگی کی وجہ سے وہ کھسیانے انداز میں آہستہ آہستہ کریز کی جانب بڑھنے لگے۔ جب میں (یعنی سچن تنڈولکر) نے یہ دیکھا کہ بلے باز سست روی سے کریز کی جانب جارہا ہے تو لپک کر گیند اٹھائی اور وکٹوں پر مار دی۔ میں نے امپائر سے اپیل کی ۔ امپائر نے اپنے ساتھی سے مشورہ اور سوچ بچار کے بعد اسے آؤٹ دے دیا۔ کیونکہ کرکٹ قوانین کے رو سے وہ گیند ابھی تک ’لائیو‘ تھی۔ بلے باز اپنی حجت اور بے وقوفی کی وجہ سے بے حد شرمندہ ہوا اور سر جھکا کر پویلین کی جانب چل دیا۔

اس واقعے کا سب سے دلچسپ امر یہی ہے کہ ایک گیند باز کے ہاتھ سےپھینکی جانے والی گیند چالیس منٹ تک ’لائیو‘ رہی، اور یہ کرکٹ کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ثابت ہوا کہ ایک بلے باز وکٹ کیپر کے بجائے ایک فیلڈر کے ہاتھوں سٹمپ آؤٹ ہوا۔

Facebook Comments