ریکارڈ ساز ٹی ٹوئنٹی، انگلستان کی شاندار جیت

ریکارڈز، ریکارڈز اور ریکارڈز اور اس کے ساتھ ویسٹ انڈیز کا دل بھی، یہ وہ سب تھا جو ٹرینٹ برج میں انگلستان-ویسٹ انڈیز سیریز کے واحد ٹی ٹوئنٹی میں ٹوٹا۔ ڈیوین اسمتھ کے 70 رنز اور بعد ازاں ڈیوین براوو کے شاندار 54 اور کیرون پولارڈ کے 23 رنز کی بدولت ویسٹ انڈیز دورے میں پہلی بار انگلستان پر حاوی دکھائی دیا۔ لیکن یہ صرف چند لمحوں کا غلبہ ثابت ہوا اور جیسے ہی انگلستان نے 173 رنز کے ہدف کا آغاز کیا، ابتدا میں کریگ کیزویٹر کی وکٹ گنوانے کے بعد ایک لمحے کے لیے بھی مقابلے کو گرفت سے نہ نکلنے دیا اور آخری اوور میں 7 وکٹوں سے فتح حاصل کر لی۔ اس میں مرکزی کردار تھا نوجوان ایلکس ہیلز کی شاندار اننگز اور روی بوپارا کے بھرپور ساتھ کا۔

ایلکس ہیلز 99 کے انفرادی اسکور پر بولڈ ہو گئے، اور ٹی ٹوئنٹی میں انگلستان کے پہلے سنچورین نہ بن سکے (تصویر: AFP)

ایلکس ہیلز 99 کے انفرادی اسکور پر بولڈ ہو گئے، اور ٹی ٹوئنٹی میں انگلستان کے پہلے سنچورین نہ بن سکے (تصویر: AFP)

ہیلز ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں انگلستان کی جانب سنچری اسکور کرنے والے پہلے بلے باز بننے جارہے تھے لیکن عین اس وقت روی رامپال کی گیند پر بولڈ ہو گئے جب انہیں تہرے ہندسے میں پہنچنے کے لیے صرف ایک رن درکار تھا۔ مقابلہ تو انہوں نے انگلستان کو جتوا دیا لیکن انتہائی دل شکستگی کے عالم میں میدان سے باہر آئے۔ انہوں نے 4 بلند و بالا چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے محض 68 گیندوں پر 99 رنز بنائے اور اس وقت میدان سے لوٹے جب انگلستان کو فتح کے لیے محض 4 رنز درکار تھے۔ ہیلز سے سے قبل انگلستان کی جانب سے مختصر طرز کی اس کرکٹ میں طویل ترین اننگز کھیلنے کا اعزاز ایون مورگن کے پاس تھا جنہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف 85 رنز بنائے تھے

’ہوم بوائے‘ ہیلز نے روی بوپارا کے ساتھ دوسری وکٹ پر 159 رنز کی ریکارڈ شراکت داری بھی قائم کی اور بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں ہدف کے سب سے کامیاب تعاقب کا بھی نیا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ رفاقت انگلستان کی جانب سے کسی بھی وکٹ کے لیے ٹی ٹوئنٹی سب سے طویل تھی جبکہ مجموعی طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں تیسری سب سے بڑی۔

دوسرے اینڈ سے روی بوپارا نے 44 گیندوں پر 59 رنز کی بہترین اننگز کھیلی جس میں ایک چھکا اور 4 چوکے بھی شامل تھے۔ وہ ہیلز کے پویلین لوٹتے ہی آخری اوور میں آؤٹ ہوئے جب انگلستان کو فتح کے لیے 2 رنز درکار تھے۔

ویسٹ انڈیز کی شکست میں اہم کردار باؤلنگ کے علاوہ ناقص فیلڈنگ کا بھی تھا، جس نے اہم مواقع پر انگلستان پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کا کردار ادا کیا۔ بلے بازوں نے جو پلیٹ فارم مہیا کیا اس کا باؤلرز نے سرے سے فائدہ نہیں اٹھایا اور سوائے اولین اوورز میں کریگ کیزویٹر کی وکٹ حاصل کرنے کے ان میں وکٹ حاصل کرنے کی مہارت نہ دکھائی دی۔ اہم مواقع پر روی بوپارا کا کیچ اور ہیلز کو اسٹمپ کرنے کا موقع ضایع کیا گیا اور اس کے علاوہ مس فیلڈنگ کا گناہ بھی متعدد بار سرزد ہوا یہاں تک کہ ایون مورگن نے فاتحانہ رن بھی مس فیلڈنگ کے نتیجے میں حاصل کیا۔

اس مختصر ترین فارمیٹ میں بھی ڈیرن سیمی نے 7 باؤلرز کو آزمایا اور سوائے سنیل نرائن کے تمام ہی رنز کا سیلاب روکنے میں ناکام دکھائی دیے۔ گو کہ سنیل نے بھی 4 اوورز میں 28 رنز کھائے لیکن رامپال کو اتنے ہی اوورز میں 37 اور فیڈل ایڈورڈز کو 33 رنز پڑے جبکہ انگلش بلے بازوں نے ڈیوین براوو کے دو اوورز میں 21 اور ڈیرن سیمی کے 3 اوورز میں 22 رنز لوٹے۔ وکٹیں صرف رامپال اور مارلون سیموئلز کو ملیں جنہوں نے بالترتیب 2 اور ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور اپنے اہم ترین بلے باز کرس گیل کو ابتدا ہی میں گنوانے کے باوجود اس کا ایک اینڈ کافی دیر تک محفوظ رہا جہاں سے ڈیوین اسمتھ انگلش گیند بازوں کے چھکے چھڑا رہے تھے۔ لیکن دوسرے اینڈ کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں تھی جہاں سے 7 ویں اوور میں 30 رنز پر 3 وکٹیں گر چکی تھیں۔ اس موقع پر اسمتھ نے براوو کے ساتھ مزید نقصان کو روکا اور رنز کو تیزی سے آگے بڑھایا۔ دونوں نے اگلے 9 اوورز میں 77 رنز جوڑے اور آخری اوورز میں ’دھماکہ بلے بازی‘ کے لیے میدان صاف کر دیا اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا براوو اور پولارڈ نے۔ ویسٹ انڈیز نے آخری 8 اوورز میں ڈیوین براوو کے بلے سے اگلنے والے رنز کی بدولت 107 رنز بنائے۔ اسمتھ 54 گیندوں پر 5 چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 70 رنز بنا کر اسٹیون فن کی دوسری وکٹ بنے جبکہ ڈیوین براوو 36 گیندوں پر 3 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 54 اور کیرون پولارڈ 13گیندوں پر 2 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 23 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

فن کی دو وکٹوں کے علاوہ کے علاوہ ایک، ایک وکٹ گریم سوان اور اسٹورٹ براڈ کو بھی ملی۔

ایلکس ہیلز کو شاندار بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اور بلاشبہ وہ ستمبر میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اعزاز کے دفاع کے لیے انگلش ٹیم کا اہم حصہ ثابت ہوں گے۔

ویسٹ انڈیز ایک مایوس کن دورۂ انگلستان کے بعد اب نیوزی لینڈ جائے گا۔ انگلستان میں اس کے تمام مقابلے یا تو شکست پر منتج ہوئے یا بارش کی زد میں آ کر ختم ہوئے اور ایک مرتبہ بھی اسے فتح کا ذائقہ چکھنا نصیب نہ ہوا۔

دوسری جانب بلند حوصلہ انگلستان چند روز بعد آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا آغاز کرے گا جس کے بعد وہ جنوبی افریقہ کے خلاف مکمل سیریز کھیلے گا۔

Facebook Comments