تنویر احمد نظر انداز کیے جانے پر مایوس، واپسی کے لیے پرعزم

اپنے اولین 4 ٹیسٹ مقابلوں میں 29 کے بیٹنگ اور 24.56 کے شاندار باؤلنگ اوسط کے باوجود تنویر احمد نہ صرف ایک سال سے قومی ٹیم میں جگہ پانے سے محروم ہیں بلکہ انہیں گزشتہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مرکزی معاہدے (سینٹرل کانٹریکٹ) سے بھی محروم کر دیا گیا، جس پر وہ کافی دل گرفتہ ہیں۔

تنویر احمد نے جنوبی افریقہ جیسے سخت حریف کے خلاف اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور دنیا کے بہترین بلے بازوں کی وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: AFP)

تنویر احمد نے جنوبی افریقہ جیسے سخت حریف کے خلاف اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور دنیا کے بہترین بلے بازوں کی وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: AFP)

مقامی کرکٹ میں دو بہترین سیزن گزارنے کے بعد انہیں ڈیڑھ سال قبل بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور 33 سالہ باؤلر نے جنوبی افریقہ کے خلاف ابوظہبی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں مایوس نہیں کیا اور 6 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ آغاز اس لیے متاثر کن تھا کہ انہوں نے ان میں ژاک کیلس، گریم اسمتھ، ہاشم آملہ اور مارک باؤچر جیسے جانے مانے بلے بازوں کی وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

گو کہ تنویر احمد روایتی پاکستانی تیز گیند بازوں جیسے نہیں بلکہ انہیں میڈیم فاسٹ باؤلر کہا جائے تو بہتر ہوگا، جن کی تمام تر توجہ گیند پھینکنے میں درستگی اور اپنی بھرپور کوشش اور حریف بلے باز کو حیران کر دینے پر مرکوز رہتی ہے جس کا نتیجہ بسا اوقات وکٹ کی صورت میں نکلتا ہے لیکن جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز جیسے مضبوط حریفوں کے خلاف 4 مقابلوں میں 16 وکٹیں ان کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ پاک پیشن ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم سے اپنے اخراج پر مایوس تنویر احمد کا کہنا تھا کہ وہ خود سے کیے گئے سلوک اور ٹیم سے اخراج پر حیران و انتہائی پریشان ہیں، لیکن محنت جاری رکھیں گے تاکہ ایک مرتبہ پھر قومی ٹیم میں جگہ پا سکیں۔ ”اپنے ابتدائی چار ٹیسٹ میچز میں نے جان لڑا دی، مجھے اپنے کسی میچ میں کمتر ٹیم کا سامنا نہیں رہا۔ میرے چاروں مقابلے عرب امارات میں جنوبی افریقہ، پھر نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف انہی کی سرزمین پر تھے۔ میں نے پوری جانفشانی سے باؤلنگ کی اور ہر وکٹ اور ہر رن کے لیے سخت محنت کی۔حتیٰ کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری ٹیسٹ میں میں نے پہلی اننگز میں 57 رنز بنائے اور کیونکہ وہ اسپنرز کے لیے مددگا پچ تھی اس لیے مجھے صرف 12 اوورز پھینکنے کا موقع ملا لیکن اس میں بھی میں نے 32 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو زیر کیا۔ اس کے بعد مجھے بغیرکسی وضاحت کے ٹیم سے باہر کر دیا گیا، جس پر میں بہت دل گرفتہ ہوں اور سمجھتا ہوں کہ مجھ سے نامناسب سلوک کیا گیا۔“

سری لنکا اور پاکستان کے مابین جاری ٹیسٹ سیریز کے لیے اسٹینڈبائی کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل تنویر احمد کا کہنا ہے کہ ان کا معاملہ فٹنس کا نہیں ہے کیونکہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں۔

ٹیسٹ دستے سے باہر کیے جانے کے علاوہ تنویر کو ایک اور کڑوی گولی نگلنا پڑی کیونکہ انہیں گزشتہ ماہ اعلان کردہ مرکزی معاہدوں کی فہرست میں جگہ نہیں ملی۔ تنویر کا کہنا تھا کہ یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ میرا شمار پاکستان کے 42 بہترین کھلاڑیوں میں بھی نہیں ہوتا، جن کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔

31 سالہ تنویر احمد نے کہا کہ اب میری نظر ڈومیسٹک سیزن کے آغاز پر ہیں جو میرے لیے سلیکٹرز کو متاثر کرنے اور چند لوگوں کو غلط ثابت کرنے کا بہترین موقع ہوگا تاکہ میں بین الاقوامی سطح پر ایک مرتبہ پھر واپس آ سکوں۔

4 ٹیسٹ میچز کے علاوہ تنویر کو صرف دو ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا جس میں وہ دو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے البتہ 2009-10ء کی قائد اعظم ٹرافی میں 17.12 کے اوسط سے 85 وکٹیں حاصل کر کے سب سے کامیاب باؤلر بننے والے اس کھلاڑی کو مزید مواقع دینے کی ضرورت ہے۔

یہ انٹرویو پاک پیشن انتظامیہ کی جانب سے خصوصی طور پر کرک نامہ کو ارسال کیا گیا ہے اور ان کی اجازت سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ خصوصی انٹرویو کی فراہمی پر کرک نامہ پاک پیشن کا شکر گزار ہے۔

Article Tags

Facebook Comments