دورۂ سری لنکا: اعزاز چیمہ جنید خان سے بہتر ثابت ہوں گے: توصیف احمد

گزشتہ ڈیڑھ سال تک مسلسل کامیابیاں سمیٹنے کے بعد گال کے میدان میں پاکستان کی بلند پروازی کا خاتمہ ہو گیا اور 209 رنز کی بدترین شکست اسے عرش سے فرش پر لے آئی ہے۔ سری لنکا کے خلاف تاریخ کی یہ بدترین شکست قومی کرکٹ ٹیم کی کئی کمزوریوں کو نمایاں کر گئی۔ مئی 2011ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پروویڈنس ٹیسٹ کے بعد یہ طویل طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی پہلی شکست تھی اور درمیان میں قومی کرکٹ ٹیم نے عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف وائٹ واش کا عظیم کارنامہ بھی انجام دیا لیکن کہاں وہ عروج اور کہاں یہ زوال؟ اگلی ہی سیریز کے اولین معرکے میں پاکستان کو ایسی تاریخی شکست ؟ یہ تو کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا۔

ماضی میں جنید خان کی کارکردگی کو سراہنے والے توصیف اس مرتبہ ان کی فارم سے مایوس دکھائی دیے (تصویر: Getty Images)

ماضی میں جنید خان کی کارکردگی کو سراہنے والے توصیف اس مرتبہ ان کی فارم سے مایوس دکھائی دیے (تصویر: Getty Images)

یہی وجہ ہے کہ 104 بین الاقوامی میچز کا وسیع تجربہ رکھنے والے پاکستان کے سابق اسپنر توصیف احمد نے سری لنکا کے نسبتاً ناتجربہ کار باؤلنگ اٹیک کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے پاکستانی بلے بازوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے تاہم انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے محمد ایوب کی کارکردگی کو سراہا ہے جو مصباح الحق کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے تھے اور دونوں اننگز میں 25 اور 22 رنز بنائے۔ توصیف احمد نے کہا کہ ”جس وقت ایوب میدان میں بیٹنگ کے لیے آئے پاکستان سخت دباؤ میں تھا اور میرے خیال میں انہوں نے دونوں اننگز میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ وہ کچھ عرصے سے ڈومیسٹک سرکٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھاتے آ رہے تھے اور مڈل آرڈر بیٹنگ میں سخت مقابلے کے باعث انہیں بہت دیر سے پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔“ محمد ایوب کی عمر اس وقت 32 سال ہے۔

معروف ویب سائٹ ’پاک پیشن ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو میں توصیف احمد نے کہا کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے تیز باؤلر رکھتا ہو جو حریف بلے بازوں کو پریشان کر سکیں اور اس حوالے سے انہوں نے جنید خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میرے خیال میں جنید بالکل فارم میں نہیں ہیں، اور اس صورتحال میں اعزاز چیمہ اُن سے بہتر آپشن ہوتے۔ اعزاز چیمہ گال سے قبل انگلستان کے خلاف کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میں پاکستان کی فاتح ٹیم کا حصہ تھے اور سری لنکا میں ان کی جگہ جنید خان کو موقع دیا گیا تھا۔

93 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے توصیف احمد نے کہا کہ پاکستان اپنے برق رفتار باؤلنگ اٹیک کے باعث معروف ہے لیکن گال میں تیز باؤلرز بالکل غیر متاثر کن رہے۔ ہمارے باؤلر 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ارد گرد گیندیں پھینکتے رہے جبکہ ہمارے مقابلے میں سری لنکن باؤلرز 140 کلومیٹر فی گھنٹے سے زائد رفتار تک بھی پہنچےاور ساتھ ساتھ پاکستانی باؤلرز سے کہیں زیادہ بہتر لائن پر بھی گیندیں پھینکیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد سمیع بلاشبہ رفتار کے حامل ہیں لیکن ان کی لائن لینتھ کبھی کبھار بگڑ جاتی ہے اس لیے میرے خیال میں اعزاز چیمہ اِن کنڈیشنز میں سب سے عمدہ انتخاب ہوں گے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 30 جون سے کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب میں شروع ہو گا جہاں مصباح الحق ایک مرتبہ پھر ٹیم کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اپنے باؤلنگ اٹیک میں کیا تبدیلیاں لاتا ہے کیونکہ پاکستان کی سیریز میں بقا کی انحصار اب باؤلنگ پر ہے، جس کے ناکام ہونے کی وجہ سے ہی پہلے ٹیسٹ میں پاکستان دباؤ کا شکار ہوا اور بلے باز ہمت ہار بیٹھے۔

یہ انٹرویو پاک پیشن انتظامیہ کی جانب سے خصوصی طور پر کرک نامہ کو ارسال کیا گیا ہے اور ان کی اجازت سے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ خصوصی انٹرویو کی فراہمی پر کرک نامہ پاک پیشن کا شکر گزار ہے۔

Facebook Comments