شین وارن کی پیش گوئی اور بیوقوفانہ تجزیے

یہ عالمی کپ کا ایک سنسنی خیز اور یادگار میچ تھا، ایسا میچ جو کرکٹ شائقین ایک عرصے تک فراموش نہ کر پائیں گے۔ انگلستان 338 رنز کے بھارتی ہدف کے تعاقب کررہا تھا۔ طویل فاصلہ طے کر کے انگلستان کی بلے بازی لڑکھڑاتے ہوئے میچ کے آخری لمحات میں پہنچی تو اسے آخری 2 اوورز میں فتح کے لیے 29 رنز درکار تھے اور اس کی محض تین وکٹیں باقی تھیں۔ تمام مستند بلے بازوں کی رخصتی کے بعد میدان میں بھارتی کھلاڑیوں اور پرجوش ہزاروں تماشائیوں کا سامنا دو نو آموز بلے باز گریم سوان اور ٹم بریسنن کر رہے تھے۔

آخری دو اوورز کرانے کے لیے بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کے پاس زادہ آپشن باقی نہ تھے۔ ٹیم کو میچ میں واپس لانے والے ظہیر خان کے اوورز بھی مکمل ہو چکے تھے۔ اس موقع پر دھونی کے پاس صرف دو آپشن تھے کہ آیا وہ 49ویں اوور کے لیے پیوش چاؤلہ کو گیند تھمائیں یا مناف پٹیل کو۔ اگر وہ مناف کو گیند دیتے ہیں تو ان کے پاس آخری اوور میں محض پیوش چاؤلہ کا آپشن رہ جاتا ہے اور وہ ہر گز یہ نہیں چاہتے تھے کہ اک نو آموز باؤلر کو اہم ترین اور نتیجہ خیز اوور دیں۔ دوسری صورت میں پارٹ ٹائم باؤلرز کا سہارا لیں جن میں یوسف پٹھان اور یووراج سنگھ شامل تھے۔ لیکن اس صورت میں خطرہ زیادہ تھا کہ اگر ان کے اوور کے نتیجے میں بھارت کے ہاتھوں سے میچ نکل جاتا ہے تو تمام تر ذمہ داری ان پر عائد ہو جائے گی کہ انہوں نے ریگولر باؤلر کا آپشن ہونے کے باوجود جزوقتی باؤلر کا انتخاب کیوں کیا۔ بالآخر اک کپتان کی حیثیت سے انہوں نے درست ترین فیصلہ کیا کہ چاؤلہ کو گیند تھمائی۔

49 ویں اوور کی پہلی گیند کو گریم سوان نے میدان سے باہر پھینکنے کے لیے بلا گھمایا لیکن ناکام رہے لیکن اگلی ہی گیند پر سوان کی کوشش کامیاب رہی اور گیند اڑتی ہوئی مڈ وکٹ کی باؤنڈری سے باہر جا گری۔ میدان میں یکدم خاموشی چھا گئی۔ اگلی گیند پر سوان نے ایک مرتبہ پھر وہی شاٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن گیند بلے کا کنارہ لیتی ہوئی تھرڈ مین کی طرف چلی گئی اور انگلستان کو محض ایک رن ملا۔ اب اسٹرائیک ٹم بریسنن کے پاس تھی جنہوں نے بھی سوان کی دیکھا دیکھی شاٹ لگانے کی کوشش کی، گیند ٹھیک سے بلے پر نہیں آئی۔ تاہم انگلستان کو دو رنز مل گئے۔ اب انگلستان کے لیے میچ کافی پھنس گیا تھا۔ اب اسے 8 گیندوں پر 20 رنز درکار تھے یعنی اسے لازما اس اوور میں ایک اور مرتبہ گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانا تھی۔ بریسنن نے یہی سوچ کو اگلی گیند پر اک زبردست شاٹ مارا اور اسے ایک مرتبہ پھر مڈ وکٹ باؤنڈری کے باہر پہنچا دیا۔ یہ اس اوور کا دوسرا چھکا تھا۔ بھارتی تماشائیوں کو سانپ سونگھ گیا کیونکہ معاملہ اب 7 گیندوں پر 14 رنز تک آ گیا تھا اور جس طرح ان دونوں بلے بازوں نے چھکے رسید کیے تھے، اندازہ ہو رہا تھا کہ اب بھی میچ کسی بھی جانب پلٹ سکتا ہے۔ پیوش چاؤلہ اپنے کپتان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتا دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہیں اندازہ تھا کہ بریسنن ایک مرتبہ پھر گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش کریں گے اور یہی سوچ کر انہیں نے ایک سیدھی اور تیز گیند پھینکی جو بریسنن کی وکٹوں کو اڑاتی چلی گئی اور انگلستان مزید ایک وکٹ گنوا بیٹھا۔

اب معاملہ آخری اوور تک پہنچ گیا جہاں گیند مناف پٹیل کے ہاتھ میں تھی۔ انگلستان کو ایک اوور میں 14 رنز جبکہ بھارت کو صرف 2 وکٹیں درکار تھے۔ گریم سوان نے ابتدائی دو گیندوں پر محض تین رنز بنائے اور اسٹرائیک نئے آنے والے بلے باز اجمل شہزاد کے پاس آگئی۔ جنہوں نے مناف پٹیل کے اوور کی تیسری فل لینتھ گیند کو میدان بدر کر دیا۔ یہ ایک فیصلہ کن چھکا لگتا تھا اور اب انگلستان کو 3 گیندوں پر محض 5 رنز درکار تھے۔ بھارت کی امیدوں کا محور مناف پٹیل نے اگلی گیند پر اجمل شہزاد کو کوئی شاٹ نہ کھیلنے دیا تاہم وہ گیند کے وکٹ کیپر تک پہنچنے کے وقفے کے دوران بائی کا ایک رن لینے میں کامیاب ہو گئے۔ اب انگلستان اور فتح کا فاصلہ مزید کم ہوگیا۔ پانچویں گیند پر سوان پچ پر آگے بڑھتے ہوئے آئے اور میچ کو جلد ختم کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے اور محض دو رن بنا سکے۔ اب آخری گیند پر انگلستان کو اک یادگار فتح کے لیے دو رن درکار تھے جبکہ بھارت دو گیندیں ضائع کروا کر میچ با آسانی جیت سکتا تھا۔ ڈریسنگ رومز، میدان اور ٹیلی وژن کے سامنے موجود کروڑوں شائقین کی نظریں اب اس گیند پر مرکوز تھیں جو نتیجہ خیز ہو سکتی تھی۔ مناف پٹیل گیند کرانے کے لیے آگے آئے، سوان نے وکٹوں کو چھوڑتے ہوئے اپنی لیے کچھ جگہ بنائی اور ایک اچھی لائن لینتھ پر پڑنے والی گیند کو مڈ آف کے اوپر سے کھیلنے کی کوشش کی لیکن گیند فیلڈر کو شکست نہ دے سکی اور یوسف پٹھان نے فورا ہی گیند پکڑ کر کیپر کے ہاتھوں میں پہنچا دی لیکن اس دوران انگلستان نے ایک رن حاصل کر کے اس تاریخی میچ کو برابری کی بنیاد پر ختم کردیا۔

اس سنسنی خیز مقابلے میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ خصوصاً انگلش اننگ کے آخری دس اوورز میں کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں تھا جو دلچسپی سے خالی ہو۔ اور پھر میچ کے اختتام پر چند بیوقوفانہ سے تبصرے و تجزیے ہوتے ہیں کہ آسٹریلیا کے لیجنڈری اسپنر شین وارن نے میچ کے آغاز سے قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ میچ ٹائی ہوگا، اس لیے ہو سکتا ہے کہ میچ کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہو۔

اب اس طرح کے تجزیوں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہاں، اگر کسی میچ کے آخری اوور میں کسی ٹیم کو 7 رنز درکار ہوں اور اس کا ایک بلے باز تین گیندیں نہ کھیل پائے تو شکوک و شبہات مناسب بھی لگتے ہیں لیکن جب ایک ٹیم کو ایک اوور میں 14 رنز درکار ہوں اور اس کے دونوں اینڈز پر ٹیل اینڈرز کھڑے ہوں اور وہ اپنی پوری محنت کے ساتھ میچ کو ٹائی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ میچ آخری کیسے فکسڈ ہو سکتا ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ، جو اپنے 'دلنشیں' انداز اور 'مدبرانہ' فیصلوں کے باعث 'عالمی' شہرت رکھتے ہیں، کا بیان سونے پہ سہاگہ ہے کہ میچ ٹائی ہونے کی پیش گوئی کرنے والے کو الٹا لٹکا دینا چاہیے۔ اس پر سوائے ہنسنے کے اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ پھر انہوں نے یہ کہہ کر تو گویا 'مائیک ہی توڑ دیا' کہ وہ اس معاملے کو آئی سی سی کے اگلے اجلاس میں اٹھائیں گے۔ بٹ صاحب! شاید آپ انگلستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ پر دیے گئے اپنے بیان کو بھول گئے ہیں، جس میں آپ انگلستان پر میچ فکس کرنے کا الزام لگانے کے بعد اپنا تھوکا چاٹ چکے ہیں۔

دوسری جانب ہمارے ذرائع ابلاغ کو تو چٹخارہ چاہیے۔ شین وارن کے اک ٹویٹ پر انہوں نے پورے پروگرام کر ڈالے۔ جس میں اس طرح کے بیوقوفانہ جملے تک شامل تھے کہ "کہاں ہے اب آئی سی سی؟ کیا اس کو کرپشن صرف اس وقت نظر آتی ہے جب میچ پاکستان کا ہو؟"

صدق دل سے مجھے یہ بتائیے کہ اوپر جس میچ کے سنسنی خیز لمحات کا ذکر ہوا ہے، کیا اک لمحے کے لیے بھی ایسا لگتا ہے کہ اس میچ کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہوگا؟ بالز نہ کھیل پانا، نو بالز پھینکنا یا کیچ چھوڑ دینا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن نان ریگولر بلے بازوں کا چھکے رسید کرنا کس طرح میچ کو اک طے شدہ نتیجے تک لے جا سکتا ہے۔ کیا سٹے باز اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ نان ریگولر بلے بازوں پر اپنی شرطیں لگائیں گے کہ وہ دو اوورز میں 28 رنز بنا لیں گے؟

پھر ان کے بعد بے وقوفوں کا اک پورا ٹولہ ہے جو آئی سی سی سے اس 'معاملے' کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس میں سابق فاسٹ باؤلر سرفراز نواز اور عامر سہیل بھی شامل ہیں۔ البتہ اس معاملے پر راشد لطیف اور باسط علی کی رائے بالکل عقل پر مبنی ہے جنہوں نے میچ کے فکسڈ ہونے کو بالکل خارج از امکان قرار دیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اور پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے بیوقوفانہ اور عاقبت نا اندیشانہ خبروں اور بیانات کا سلسلہ بند کرے اور کسی کے مذاق کو مذاق کی حد تک ہی لے۔ وارن کے ٹویٹ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ بات ازراہ مذاق کہی ہے بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے دونوں ٹیموں کو برابر کی ٹکر کا سمجھ کر یہ 'پیش گوئی' کی ہو۔ دوسری جانب اگر یہ معاملہ میچ فکسنگ کا ہو تو انہیں بالآخر ایسی کیا مصیبت پڑی تھی کہ انہوں نے اس پیش گوئی کو publiclyٹویٹ کرنا ضروری سمجھا۔

نجانے ہمارے بورڈ اراکین اور میڈیا کب سوچنے کے بعد بولے گا؟

Facebook Comments