پاک-آسٹریلیا سیریز: نیا ’رولا‘، پاکستان ایک روزہ میچز چھوڑنے سے انکاری

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کی آخری و اہم ترین سیریز کی راہ میں اتنے روڑے اٹک چکے ہیں کہ اب لگتا ہے کہ یہ سیریز ہو ہی نہیں پائے گی۔ اب بار کی پاکستان نے خود ’رولا‘ ڈال دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی اجازت کے باوجود تین ایک روزہ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی پر مشتمل سیریز کھیلنا چاہتا ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا، آسٹریلین کرکٹ ایسوسی ایشن سے گفتگو کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرے گا۔ 2002ء کے پاک-آسٹریلیا شارجہ ٹیسٹ کے مناظر ابھی اتنے پرانے نہیں ہوئے (تصویر: Reuters)

کرکٹ آسٹریلیا، آسٹریلین کرکٹ ایسوسی ایشن سے گفتگو کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرے گا۔ 2002ء کے پاک-آسٹریلیا شارجہ ٹیسٹ کے مناظر ابھی اتنے پرانے نہیں ہوئے (تصویر: Reuters)

اگست اور ستمبر میں طے شدہ اس اہم سیریز کے معاملات کئی بار کھٹائی میں پڑ چکے ہیں۔ میزبان کی حیثیت سے سری لنکا کے چناؤ کے بعد اچانک معاملات پلٹا کھاتے ہیں اور سری لنکا پریمیئر لیگ کی وجہ سے سیریز کی میزبانی سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور یوں پاکستان نئے میزبان کی تلاش میں بھٹکتا پھر رہا ہے۔ گھوم پھر کر پاکستان کی گوٹ متحدہ عرب امارات ہی میں جا پھنسی ہے، جہاں اگست کے مہینے میں ایک روزہ کرکٹ کھیلنا ’جوئے شیر لانے‘ کے مترادف ہے۔ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کا بھی ماتھا ٹھنکا، جو 2002ء میں اکتوبر کے مہینے میں ٹیسٹ سیریز کھیل کر بھگت چکے تھے۔ یہاں تک کہ دونوں ملکوں کی درخواست پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے 6 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کی اجازت دے دی، جو قانوناً تین سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی میچز نہیں کھیلنے دیتا، لیکن پاک-آسٹریلیا سیریز کے مخصوص تناظر کے باعث اسے منظوری دینا پڑی لیکن اب پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نشریات کار (براڈکاسٹر) نے تجارتی بنیادوں پر محض ٹی ٹوئنٹی میچز پر اعتراض کیا ہے اور اگر ممکن ہو تو آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ تین ایک روزہ میچز بھی کھیلے۔

آسٹریلیا نے فوری طور پر اس کا کوئی جواب تو نہیں دیا ہے لیکن اتنا ضرور کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کرکٹرز ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرے گا۔ ایسوسی ایشن چند روز قبل ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

یوں یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ محض ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کا خیال ایک ’بیک اپ پلان‘ تھا اور پاکستان دراصل تین ایک روزہ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی پر مشتمل ایک سیریز کھیلنا چاہتا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹوز نے کوالالمپور میں آئی سی سی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی اور عرب امارات میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی دونوں مقابلے کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف نے کہا کہ دن کے گرم ترین حصے سے بچنے کے لیے تمام مقابلے شام میں کھیلے جائیں گے۔

ذکا اشرف نے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کو بتایا کہ ہم نے کرکٹ آسٹریلیا کے عہدیداروں کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ہم عرب امارات میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلے شام میں کھیلیں گے کیونکہ ہمارے نشریات کار نے ایک روزہ مقابلوں کے سیریز سے اخراج پر اعتراض کیا ہے۔ حتمی فیصلہ اسی ہفتے ہو جائے گا۔

دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے کوالالمپور میں پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کی تصدیق کی ہے تاہم کہا ہے کہ سیریز، مقابلوں، میدانوں اور کھیل کے آغاز کے اوقات کے بارے میں مزید تفصیلات کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔ ترجمان کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ ہم ایک دن میں ان تفصیلات کو طے کر لیں گے جس کے بعد دو تین روز میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔

Facebook Comments