آئی پی ایل فکسنگ معاملہ، پانچوں کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دی گئیں

انگلستان میں فکسنگ معاملات پر دو بڑے ہنگاموں اور پاکستانی کھلاڑیوں کی سزاؤں کی تکمیل اور مروین ویسٹ فیلڈ کیس میں پاکستان کے دانش کنیریا پر تاحیات پابندی کے بعد بالآخر بھارت میں بھی اسپاٹ فکسنگ قضیے کا فیصلہ سامنے آ ہی گیا جس نے دکن چارجرز کے گیند باز تدوری پرکاش چندر سدھیندرپر تاحیات اور اترپردیش کے شلبھ شری واستو پر 5 سال کی پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ بقیہ تین کھلاڑیوں کو ایک، ایک سال کی پابندی بھگتنا پڑے گی۔

سدھیندر کو یہ نو بال پھینکنے کی پاداش میں تاحیات پابندی سہنا پڑے گی (تصویر: India TV)

سدھیندر کو یہ نو بال پھینکنے کی پاداش میں تاحیات پابندی سہنا پڑے گی (تصویر: India TV)

یہ فیصلہ صدر بھارتی کرکٹ بورڈ این سری نواسن کی زیر قیادت انضباطی کمیٹی نے کیا۔ یہ فیصلہ معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیشن کے سربراہ روی سوانی کی پیش کردہ رپورٹ پر غور و فکر کے بعد کیا گیا ہے۔

سدھیندر اور شری واستو پر طویل پابندیوں کے علاوہ جن کھلاڑیوں کو ایک، ایک سال کی پابندی کی سزا سنائی گئی ہے ان میں موہنیش مشرا، امیت یادیو اور ابھینو بالی شامل ہیں۔

ان پانچ میں سے تین کھلاڑیوں نے ہفتے کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور پینل کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کیا، جس میں نائب صدور ارون جیٹلے اور نرنجن شاہ بھی شامل تھے۔

آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی فکسنگ کا معاملہ بھارت کے بدنام زمانہ ٹیلی وژن چینل ’انڈیا ٹی وی‘نے ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے کھولا تھا جس کے مطابق لیگ میں شریک چند کھلاڑی میچ اور اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں اور اس ضمن میں چینل نے نہ صرف متعدد کھلاڑیوں کی گفتگو کی خفیہ وڈیوز بنائیں بلکہ فرنچائزز کی جانب سے کھلاڑیوں کو ’کالا دھن‘ دینے اور دیگر ناجائز مراعات دینے کا انکشاف بھی کیا۔

اپنی مصالحہ خبروں کے باعث بھارت میں ’خاص شہرت‘ رکھنے والا ’انڈیا ٹی وی‘، بالکل ویسا ہی نام رکھتا ہے جو برطانیہ کے ’نیوز آف دی ورلڈ‘کا تھا۔ اور ٹیلی وژن چینل نے بھی کھلاڑیوں کو پکڑنے کے لیے طریقہ بھی وہی اختیار کیا جو برطانوی اخبار نے اگست 2010ء میں پاکستانی کھلاڑیوں کو پھانسنے کے لیے اختیار کیا تھا۔

'اسٹنگ آپریشن' کے نتیجے میں دکن چارجرز کے تدوری پرکاش چندر سدھیندر، کنگز الیون پنجاب کے شلبھ شری واستو اور امیت یادیو، پونے واریئرز کے موہنیش مشرا اور دہلی کے ابھینو بالی کے نام سامنے آئے جنہیں بھارتی کرکٹ بورڈ نے پہلی فرصت میں معطل کر دیا اور تحقیقاتی کمیشن بٹھا دیا جس کی رپورٹ کی بنیاد پر آج تمام کھلاڑیوں پر پابندی کا اعلان کیا گیا۔

واضح رہے کہ پانچ میں سے چار کھلاڑی ماضی میں متنازع انڈین کرکٹ لیگ کا حصہ رہ چکے ہیں اور انہیں بعد ازاں "معاف" کرنے کے بعد آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت دی گئی۔تاحیات پابندی کا شکار ہونے والے سدھیندر 2010-11ء سیزن میں مدھیہ پردیش کو رنجی ٹرافی کے ایلیٹ ڈویژن میں پہنچوانے میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں اور 2011-12ء میں وہ سیزن کے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے گیند باز رہے جس کی بنیاد پر انہیں آئی پی ایل میں دکن چارجرز نے خرید لیا۔

خفیہ وڈیو کے مطابق انہوں نے آئی پی ایل، رنجی ٹرافی یا بین الاقوامی سطح پر کسی بھی سطح کے میچ میں مقررہ اوور میں نو بال یا باؤنسر پھینکنے کے ذریعے اسپاٹ فکسنگ پر رضامندی ظاہر کی تھی اور دوسری وڈیو میں مبینہ اسپورٹس ایجنٹوں سے اگلی ملاقات میں انہوں نے ایک نو بال کےلیے 50 ہزار روپے کا مطالبہ کیا اور ڈیل ’ڈن‘ ہوئی۔ اگلے روز یعنی 30 مئی 2011ء کو ایک اندور لیگ نامی ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں ایک بہت ہی بڑا نو بال پھینکا جس پر کمنٹیٹر تک حیران رہ گئے۔

5 سالہ کی طویل پابندی کی سزا پانے والے اترپردیش کے شلبھ شری واستو 2000ء میں سری لنکا میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے وال ےباؤلر تھے۔ 2011ء میں انہیں کنگز الیون پنجاب نے اپنی ٹیم میں شامل کیا۔

شلبھ شری واستو نے فون کال پر مبینہ ایجنٹ سے گفتگو کے دوران ایک نو بال کے عوض 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا اور پھر باضابطہ ملاقات کے دوران شلبھ نے کئی حیران کن انکشافات بھی کیے جن میں سے سب سے اہم یہ تھا کہ فرنچائزز اپنے کھلاڑیوں کو معاہدے کی رقم کے علاوہ بھی کالا دھن دیتی ہیں یعنی وہ ظاہری معاہدے کے برعکس کھلاڑیوں کو بہت بڑی رقوم اضافی صورت میں بھی دیتی ہیں۔

ایک سال کی پابندی کا نشانہ بننے والے کھلاڑی موہنیش مشرا نے خفیہ وڈیوز میں مشرا انکشاف کیا تھا کہ آئی پی ایل میں اس کا معاہدہ 30 لاکھ روپے تھا، اسے ایک کروڑ 45 لاکھ روپے فرنچائز کی جانب سے دیے گئے یعنی کہ ایک کروڑ 15 لاکھ روپے کا کالا دھن۔ اور انہوں نے تو یہ تک کہہ ڈالا کہ ”بی سی سی آئی کے اگر علم میں نہ ہوتا کہ کھلاڑیوں کو کالا دھن مل رہا ہے، تو یہ کام ہوتا ہی نہیں۔“

22 سالہ یادیو گوا کی جانب سے کھیلنے والے آل راؤنڈر ہیں اور گو کہ وہ کنگز الیون کی فہرست میں ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے آئی پی ایل کیریئر کا آغاز نہیں کیا تھا یعنی کہ ان کا معاملہ 'بن کھلے مرجھانے' والا ہی ہو گیا۔ ہماچل پردیش سے تعلق رکھنے والے ابھینو بالی پر بھی ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

ان تمام سزاؤں کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے ان تمام کھلاڑیوں کو معطل کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت میں فکسنگ کا جن بوتل سے باہر آیا ہو، ماضی میں بھارت کے تین معروف بین الاقوامی کھلاڑی محمد اظہر الدین، اجئے جادیجا اور منوج پربھاکر میچ فکسنگ الزامات میں سزائیں بھگت چکے ہیں۔

Facebook Comments