ٹاس جیت کر ”خوار“ دس سال پرانی کہانی کا کولمبو میں دہراؤ

سری لنکا کے ساتھ وہی ہوا جو دس سال پہلے انگلستان کے ساتھ ہوا تھا یعنی ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا غلط فیصلہ۔ ناصر حسین نے جب نومبر 2002ء میں ایشیز سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو ان کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ گیند باز حریف کھلاڑیوں کو دباؤ میں لے آئیں گے لیکن انہیں میتھیو ہیڈن اور رکی پونٹنگ کی شاندار بیٹنگ کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے دوسری وکٹ پر 272 رنز کی رفاقت قائم کر کے پہلے ہی روز مقابلہ اپنے پلڑے میں جھکا لیا۔ جہاں آسٹریلیا نے پہلے روز کے اختتام تک محض دو وکٹوں کے نقصان پر 364 رنز اسکور کر ڈالے۔

اسے ٹاس جیتنے کے بعد ’کرکٹ تاریخ کا بدترین فیصلہ‘ کہا جاتا ہے کیونکہ بعد ازاں آسٹریلیا نے مقابلہ 384 رنز کے بھاری مارجن سے جیتا جس میں کلیدی کردار میٹ ہیڈن کا تھا جو بدقسمتی سے پہلی اننگز میں ڈبل سنچری نہ بنا پائے او ر197 پر آؤٹ ہو گئے جبکہ دوسری اننگز میں انہوں نے 103 رنز جڑے اور مرد میدان قرار پائے۔

لگتا ہے کولمبو کو سنہالیز اسپورٹس کلب میں بھی کچھ ایسی ہی واردات ہو گئی ہے۔ گو کہ ابھی چار دن کا کھیل باقی ہے اور سری لنکا جیسی مستحکم بلے باز رکھنے والی ٹیم کی جانب سے کرارے جواب کی توقع ہے لیکن مہیلا جے وردھنے نے ’بلے بازوں کی جنت‘ پر ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کر کے پاکستان کو سیریز میں واپس آنے کا سنہرا موقع فراہم کیا ہے۔ زیر عتاب مہمان بلے باز بھی گویا اس موقع کے منتظر تھے، اوروہ رنز پر اس طرح لپکے جیسے بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔

ہمارے خیال میں سری لنکا کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے پاکستان کی بیٹنگ کو کمزور جانا اور سمجھا کہ وہ ابتدا ہی میں اسے دباؤ میں لا کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنا چاہتا تھا اور محمد حفیظ، اظہر علی اور توفیق عمر کی عمدہ بلے بازی نے اس کے ’پلان اے‘ کو تو ناکام بنا دیا ہے خصوصاً ان تینوں بلے بازوں نے جس رفتار کے ساتھ رنز بنائے ہیں اس کی ماضی قریب میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ سے امید نہیں کی گئی۔ وہ ٹیم جو ٹیسٹ میں اپنے ’ٹک ٹک‘ انداز کے باعث بدنام ہے نے پہلے روز 3.71 کے اچھے اوسط کے ساتھ رنز بنائے اور یہی وجہ ہے کہ پہلے روز کے اختتام پر 334 رنز کا بھاری مجموعہ اسکور بورڈ پر جگمگا رہا ہے۔

توفیق عمر کی برق رفتار بیٹنگ کی بدولت اوپنرز نے 78 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا جس کے بعد سری لنکن باؤلرز اور فیلڈرز کی طویل ’خواری‘ کا آغاز ہوا اور وہ پورے دن کی دوڑ دھوپ اور کوششوں کے باوجود ایک وکٹ حاصل نہ کر پائے۔

محمد حفیظ اور اظہر علی کے درمیان دوسری وکٹ پر شراکت 256 رنز تک پہنچ چکی ہے اور اب ان کی نگاہیں قومی ریکارڈ پر ہوں گی (تصویر: AFP)

محمد حفیظ اور اظہر علی کے درمیان دوسری وکٹ پر شراکت 256 رنز تک پہنچ چکی ہے اور اب ان کی نگاہیں قومی ریکارڈ پر ہوں گی (تصویر: AFP)

دورۂ سری لنکا میں مسلسل جدوجہد کرنے والےپاکستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد حفیظ نے اس موقع کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ اک ایسے وقت میں جب کرکٹ حلقوں میں یہ بات بہت زیادہ گردش کر رہی تھی کہ حفیظ کی فارم کو دیکھتے ہوئے انہیں ٹیم سے باہر کر دینا چاہیے، انہوں نے ایک شاندار اننگز کھیل کر ناقدین کے منہ بند کر دیے ہیں اور اب کیریئر کی پہلی ڈبل سنچری کی جانب گامزن ہیں۔ 18 چوکوں اور ایک چھکے سے مزین اننگز 172 رنز پر پہنچ چکی ہے اور امید یہی ہے کہ وہ کل پہلے سیشن میں یہ اعزاز حاصل کر لیں گے۔ کسی حد تک خوش قسمتی بھی ان کے ساتھ رہی، وہ ایک مرتبہ نو بال پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوئے اور ایک مرتبہ امپائر نے انہیں آؤٹ قرار نہیں دیا لیکن وہ اس سے پہلے ہی اعتماد کی بحالی کے لیے کافی رنز بنا چکے تھے۔

حفیظ نئے ریکارڈز کی جانب گامزن تو ضرور ہیں لیکن ایک ریکارڈ سے محروم ہو چکے ہیں۔ اگر وہ اپنی ڈبل سنچری اسکور کر لیتے تو تاریخ میں دوسرے پاکستانی بلے باز بن جاتے جنہوں نے ٹیسٹ کے پہلے ہی روز ڈبل سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اب تک پاکستانی تاریخ کے واحد بلے باز جنہو ں نے یہ کارنامہ انجام دیا، عامر سہیل ہیں جنہوں نے جولائی 1992ء اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں انگلستان کے خلاف پہلے روز 205 رنز بنائے تھے۔

دوسرے اینڈ سے پاکستان کے سب سے اِن فارم بلے باز اظہر علی کھڑے ہیں جو ایک مرتبہ پھر 90 کے پیٹے میں آ گئے ہیں اور 187 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 92 رنز بنا چکے ہیں اور اگر قسمت نے ساتھ دیا تو کیریئر کی تیسری سنچری بنا لیں گے۔

دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 256 رنز کی شراکت ابھی جاری ہے اور توقع ہے کہ اگر یہ اسی طرح کھیلتے رہے تو نہ صرف کئی انفرادی سنگ میل عبور کر لیں گے بلکہ دوسری وکٹ پر پاکستان کا سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ بھی توڑ دیں گے۔ اس وقت دوسری وکٹ پر سب سے طویل پاکستانی رفاقت کا ریکارڈ ظہیر عباس اور مشتاق محمد کے پاس ہے جنہوں نے جون 1971ء میں انگلستان کے خلاف ٹرینٹ برج میں 291 رنز کی شراکت داری قائم کی تھی۔

میچ کے بارے میں تو فی الحال کچھ کہنا بہت قبل از وقت ہوگا لیکن پاکستانی بلے بازوں نے سری لنکا میں مسلسل ناکامیوں کے بعد پہلے روز جس طرح اپنی اہمیت جتائی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی بیٹنگ لائن اپ میں اب بھی دم خم ہے۔

Facebook Comments