پاک-ہند سیریز کے کسی تیسرے ملک میں انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں: ذرائع بھارتی حکومت

پاکستان اور بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کے لیے کسی تیسرے مقام پر سیریز کھیل سکتے ہیں اور حکومت ہندوستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے حکومت ہند کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ معاملہ اب دونوں ممالک کے بورڈز کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تصفیہ طلب مسائل کو حل کریں اور سیریز طے کریں، حکومت کی جانب سے ان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری مقابلہ مارچ 2011ء میں عالمی کپ کے سیمی فائنل کی صورت میں ہوا تھا (تصویر: AFP)

پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری مقابلہ مارچ 2011ء میں عالمی کپ کے سیمی فائنل کی صورت میں ہوا تھا (تصویر: AFP)

یہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی پیشرفت ہو سکتی ہے جو رواں ہفتے خارجہ سیکرٹری سطح کی ملاقات کا نتیجہ لگتی ہے۔ پاکستان کے خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب رنجن مٹھائے کو تجویز پیش کی تھی کہ دونوں ممالک کسی تیسرے ملک میں کرکٹ کھیل سکتے ہیں ۔ جلیل عباس کا کہنا تھا کہ انہوں نے تعلقات کی بحالی کے لیے چند تجاویز پیش کی ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں آ سکتی جبکہ پاکستان بھی بھارت کا دورہ نہیں کر سکتا کیونکہ اتنے اعلیٰ سطحی دورے سے ہونے والی آمدنی سے اسے زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے کسی تیسرے ملک میں کھیلنا ہی سب سے معقول نظر آتا ہے۔

بھارتی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی تجویز کے حق میں ہے لیکن ساتھ ہی کہنا ہے کہ نشریاتی اور دیگر حقوق کے معاملے میں آمدنی کی تقسیم کا فیصلہ بھارتی و پاکستانی کرکٹ بورڈ کو کرنا ہوگا۔ ذرائع نے کہا کہ پاکستان نے واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنا اس کے لیے مالی لحاظ سے فائدہ مند نہیں۔ گو کہ کھلاڑیوں کی سیکورٹی کے معاملات دیکھے جائیں گے لیکن اب گیند بی سی سی آئی اور پی سی بی کے کورٹ میں ہے اور ہم ان کو نہیں روک رہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان آخری مقابلہ عالمی کپ 2011ء کے سیمی فائنل میں بھارتی پنجاب کے شہر چندی گڑھ میں کھیلا گیا تھا جہاں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم بھی موجود تھے۔ اس یادگار مقابلے کے بعد توقع تھی کہ فوری طور پر دو طرفہ کرکٹ بحال ہو جائے گی لیکن تقریباً ڈیڑھ سال ہونے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہو رہی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری دو طرفہ سیریز 2007ء میں کھیلی گئی تھی جب پاکستان نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد اگلے سال ممبئی میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور بالآخر 2009ء میں لاہور میں دورے پر آئی ہوئی سری لنکن ٹیم پر دہشت گردانہ حملے نے پاکستان سے بین الاقوامی کرکٹ کا خاتمہ کر دیا جس کی وجہ سے وہ اس وقت سخت مشکلات سے دوچار ہے۔

گو کہ ابھی حال ہی میں بھارت کی جانب سے تعلقات کی بحالی کے لیے چند مثبت قدم اٹھائے گئے ہیں جن میں چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کو شرکت کی اجازت دینا اور انڈین پریمیئر لیگ سیزن 5 کا فائنل دیکھنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ذکا اشرف کو مدعو کرناشامل ہے، لیکن اس کے باوجود مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

دونوں ممالک کے بورڈ سربراہان نے گزشتہ ماہ ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی اور باہمی سیریز کھیلنے پر رضامندی کا اظہار تو کیا لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند سے بعد کرنے کے بعد ہی کچھ کہہ پائیں گے کہ سیریز کب اور کہاں کھیلی جائے گی اور آمدنی کے سلسلے میں کیا معاملات ہوں گے۔

دراصل پاکستان بھارت کی جانب سے 2009ء کے طے شدہ دورے سے انکار کے باعث ہونے والی مالی نقصانات سے اب تک بحال نہ ہونے کے باعث آمدنی میں حصہ چاہتا ہے اور ویسے بھی قانوناً دو طرفہ سیریز کی باری پاکستان کی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت سالانہ میزانیہ (بجٹ) میں تقریباً75 ملین ڈالرز خسارے کا شکار ہے اور اس گھاٹے کو کم کرنے کے لیے بھارت کے خلاف سیریز پر اس کی نظریں جمی ہوئی ہیں جو بلاشبہ ایک طویل عرصے بعد بہت بڑی سیریز ہوگی۔

Facebook Comments