[اقتباسات] ”خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ“ جاوید میانداد کی آپ بیتی سے (تیسری قسط)

کپتانی نے عمران میں شدید پسند اور ناپسند بھی پیدا کی تھی۔ وہ عام طور پر کسی کھلاڑی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے میں کچھ وقت ضرور لیتے تھے مگر ایک مرتبہ وہ رائے بنالیتے تو پھر کوئی ان کو اپنی رائے بدلنے پرمجبور نہیں کرسکتا تھا۔ کچھ کھلاڑی ایسے بھی ہیں جومحسوس کرتے ہیں کہ ان کا کیریئر محض اس لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے برباد ہوگیا کہ وہ عمران کی ”نظرالتفات“ حاصل نہیں کرسکے۔ یقیناً یہ عمران کی شخصیت کا منفی پہلو ہے کہ اگر وہ سمجھ لیں کہ آپ میں کوئی نہ کوئی کسر ہے تو انہیں ان کی رائے پر نظرثانی کرنے پر مجبورکرنا تقریباً ناممکن تھا۔ بہرکیف عمران میں بطور کپتان جو بھی خرابیاں رہی ہوں ان کو چیلنج نہیں کیاجاسکا کیونکہ ان کی قیادت میں ٹیم نے نت نئی بلندیوں اور فتوحات کو چھوا۔ پھر کون تھا جواس فارمولے پر انگشت زنی کرتا جو اتنا کارگرثابت ہورہا تھا؟۔ میں البتہ کبھی کبھار عمران کی شخصیت کے اِس پہلو کے خلاف بولا کرتاتھا۔ ایسے مواقع بھی تھے جب میں نے محسوس کیا کہ عمران غلطی پر ہیں اور ان کی غلطی ہمیں میچ ہروا سکتی ہے۔ ایسے موقعوں پر میں کوشش کرتا کہ اپنی بات منواؤں اور میں منوا لیا کرتا تھا۔ اس کی بہترین مثال 1986-87ء کا بھارت کے خلاف کھیلے جانے والا بنگلور ٹیسٹ تھا، جہاں عمران فیصلہ کرچکے تھے کہ اقبال قاسم کی جگہ عبد القادر کو کھلائیں گے۔ میں محسوس کررہا تھا اس وکٹ پر قادر کی جگہ اقبال قاسم زیادہ موثر ثابت ہوں گے اور میں نے عمران پر زور دیا کہ وہ اپنا فیصلہ تبدیل کریں۔

میں نے خدا اور ملک کا واسطہ دیا تب جاکر عمران مانے اور اقبال قاسم کو بنگلور ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا: جاوید میانداد (تصویر: Getty Images)

میں نے خدا اور ملک کا واسطہ دیا تب جاکر عمران مانے اور اقبال قاسم کو بنگلور ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا: جاوید میانداد (تصویر: Getty Images)

ہمارے درمیان اچھے خاصے تلخ وترش الفاظ کا تبادلہ ہواحتیٰ کہ میں نے خدا اور ملک کاواسطہ دیا تب جاکر عمران مانے۔ مجھے نہیں یاد کہ جب قاسم نے اپنی باؤلنگ سے ہمیں تاریخ ساز کامیابی سے ہمکنار کیا تو عمران نے کسی پشیمانی کا اظہار کیاہو۔

ایک سوال جو بار بار کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا میرے اور عمران کے درمیان کوئی پیشہ ورانہ رقابت تھی؟ میراخیال ہے کہ یہ ایک احمقانہ سوال ہے۔ کیونکہ آخر یہ کیوں نہیں ہوتی؟ ہم دونوں committed performers تھے جو ہمہ وقت بہتر سے بہتر کارکردگی کی دھن میں جان لڑاتے تھے۔ اس لئے ایک دوسرے سے مقابلے کارجحان ایک فطری امر تھا۔ اس قسم کا احساس پاکستان کے بیشتر صف اول کے کھلاڑیوں بلکہ غیرملکی کھلاڑیوں میں بھی عام رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرے لوگ انکار کریں مگر میں اقرار کروں گا کہ ہاں یہ احساس پایا جاتاہے۔ ہاں، اس میں تسلیم کرنے کی اہم بات یہ ہے کہ یہ محض پیشہ ورانہ رقابت تھی جس کاسایہ ہم نےاپنی ذاتی تعلقات پر پڑنے نہیں دیا۔ میں ہمیشہ انتہائی کوشش کرتا کہ کرکٹ کے میدان کے یہ اختلافات ہمارے ذاتی تعلقات کی دنیا میں داخل نہ ہونے پائیں اور سچی بات ہے عمران بھی اس بارے میں خاصے محتاط رہے ہیں۔ عمران سے میرے ذاتی تعلقات کے بارے میں ہر قسم کی افواہیں پائی جاتی ہیں۔ ان کو کبھی پیچیدہ، کبھی ہنگامہ خیز، کبھی پریشان کن، اور کبھی کانٹوں سے آراستہ قرار دیا گیا۔ ان تمام افواہوں کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مسالہ اخبارات کے بارے میں ہمیشہ ایسا لگتا ہے کہ مجھ سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ عمران اور میں ہمیشہ بہت اچھےمراسم کا لطف اٹھاتے رہے ہیں۔ ہاں، ہم میں اختلافات ہوتے رہے ہیں اور کیوں نہ ہوتے؟ ہم کیسے کیسے میچز میں کھیلے ہیں۔ کیا کچھ داؤ پر لگتا رہا ہے کیسے کیسے حالات اور دباؤ کا ہم نے سامنا کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر قسم کے حالات میں ہماری دوستی محفوظ رہی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد عمران نے اپنی ساری کوشش اور جدوجہد لاہور میں اپنا کینسر ہسپتال مکمل کرانے میں لگادی جو انہوں نے اپنی والدہ کی یاد میں قائم کیا۔ شوکت خانم میموریل ہسپتال اور ریسرچ سینٹر ملک کے صف اول کے طبی اداروں میں سے ایک ہے۔ عمران نے ابتداء میں 1987ء ورلڈکپ مہم میں ناکامی کے بعداپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ وہ آسٹریلیا سے سیمی فائنل میں شکست کےبعد بددل ہوگئے تھے۔ لیکن یہ ریٹائرمنٹ زیادہ عرصے قائم نہیں رہی کیونکہ وہ 1988ء میں ویسٹ انڈیز کے دورے میں پاکستان کی قیادت کرنے بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے۔ اول تو عمران کو ابھی ریٹائر نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ ان میں اچھی خاصی کرکٹ ابھی باقی تھی مگر میرے خیال میں وہ اس لئے واپس آئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس سے انہیں کینسر ہسپتال کے لئے چندہ جمع کرنے میں مدد ملے گی۔ سچی بات ہے پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھی عمران کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دی اور کئی مرتبہ اپنی انعامی رقومات عطیے میں دیں۔

جاوید میانداد کی آپ بیتی "Cutting Edge" سے اقتباس

Facebook Comments