[یاد ماضی] پاکستان کے پہلے ٹیسٹ اوپنر علیم الدین، اک عہد تمام ہوا

پاکستان کے پہلے ٹیسٹ اوپنر علیم الدین گزشتہ ہفتے انگلستان میں انتقال کر گئے، انہوں نے 25 ٹیسٹ مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کی جن میں 1954ء میں انگلستان کا تاریخی دورہ کرنے والی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے لارڈز میں پہلا ٹیسٹ کھیلنا بھی شامل ہے۔ علیم الدین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کے خلاف پھینکی گئی پہلی گیند کا سامنا کیا۔ دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے اس جارح مزاج بلے باز نے 1954-55ء میں بھارت کے خلاف 103 رنز کی ناقابل شکست سنچری داغ کر کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں تہرے ہندسے کی پہلی اننگز کھیلی۔ انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ جولائی 1962ء میں انگلستان کے خلاف ٹرینٹ برج،ناٹنگھم میں اس وقت کھیلا جب ان کی عمر 32 سال تھی اور بعد ازاں وہ 1091 ٹیسٹ رنز کے ساتھ دنیائے کرکٹ کو خیرآباد کہہ گئے۔

1954ء میں انگلستان کا یادگار دورہ کرنے والا پاکستانی دستہ، علیم الدین پیچھے کھڑے کھلاڑیوں میں بائیں سے دوسرے نمبر پر ہیں (تصویر: Getty Images)

1954ء میں انگلستان کا یادگار دورہ کرنے والا پاکستانی دستہ، علیم الدین پیچھے کھڑے کھلاڑیوں میں بائیں سے دوسرے نمبر پر ہیں (تصویر: Getty Images)

میدان اور اس سے باہر ایک پسندیدہ شخصیت سمجھے جانے والے علیم الدین مرحوم پاکستان کے سابق کپتان مشتاق محمد کے قریبی دوست تھے جنہوں نے معروف ویب سائٹ پاک پیشن ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں مرحوم کھلاڑیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بتایا اور اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ علیم الدین پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا محسوس کرتے تھے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان دوستی کا تعلق زندگی کے تمام نشیب و فراز میں برقرار رہا اور مشتاق محمد علیم الدین کے ساتھ گزارے گئے ان ابتدائی ایام کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”جب میں 12 یا 13 سال کا تھا تووہ مجھے اپنی سائیکل پر نیٹ پریکٹس کے لیے لے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے بلے بازی سکھائی اور کرکٹ میں میرے بھائیوں سے بھی میری مدد کی۔ ہماری بہت پرانی دوستی تھی۔“

بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد علیم الدین انگلستان منتقل ہو گئے جہاں وہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اور اپنے انتقال تک اسی سے وابستہ رہے۔ مشتاق نے کہا کہ ”میں جب بھی لندن جاتا تو علیم الدین کے ساتھ ہی قیام ہوتا، وہ میرے لیے بھائیوں کی طرح تھے، زندگی کی عزیز ترین ہستیوں میں سے ایک۔“

علیم الدین اجمیر، راجستھان میں پیدا ہوئے اور قبل از تقسیم ہند رنجی ٹرافی میں تاریخ کے کم عمر ترین کرکٹر کی حیثیت سے راجستھان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کیا۔ اس وقت ان کی عمر محض 12 سال اور 73 دن تھی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی منتقل ہو گئے۔ آپ 1954ء میں انگلستان کے یادگار دورے پر پاکستان کی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کرنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ مشتاق محمد نے کہا کہ ”میرے خیال میں 50 کی دہائی کے تمام کھلاڑی بہت اچھے کرکٹر تھے اور علیم الدین ان میں سے ایک تھے۔ بدقسمتی سے ان دنوں اتنی کرکٹ نہیں کھیلی جاتی تھی، لیکن ان امر میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت باصلاحیت تھے، خصوصاً علیم۔ سال میں محض چند ٹیسٹ کھیلنے کا اتفاق ہوتا اور ان میں بھی یہ کھلاڑی اپنی کارکردگی دکھا جاتے تھے۔ “

جارح مزاج بلے باز اور بہترین فیلڈر گردانے جانے والے مرحوم علیم الدین کے بارے میں مشتاق کا کہنا تھا کہ میں نے قائد اعظم اور پیٹرنز ٹرافی دونوں میں ان کے ساتھ کراچی کی نمائندگی کی اور انہیں ہمیشہ تکنیکی طور پر درست بلے باز سمجھا۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ تکنیکی لحاظ سے اتنے درست بلے باز تھے کہ میں ان جیسا بیٹسمین زندگی میں نہیں دیکھا۔

مشتاق محمد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے رو بہ زوال ہونے پر علیم الدین کو بہت تشویش تھی خصوصاً 2003ء کے بعد سے جس تیزی سے قومی کرکٹ میں گراوٹ آئی ہے اس پر پریشانی تھی اور کہتے تھے کہ ہم نے بھی کرکٹ کھیلی اور ہمیں ایک پیسہ بھی نہ ملتا تھا لیکن پاکستان کی نمائندگی کا فخر و امتیاز ہمارے لیے کافی تھا۔ آج کے کھلاڑی کو کھیلنے کے اتنے پیسے ملتے ہیں لیکن وہ ناشکری کرتے ہیں۔

یہ تحریر معروف کرکٹ ویب سائٹ پاک پیشن ڈاٹ نیٹ کی جانب سے خصوصی طور پر کرک نامہ کو بھیجی گئی اور ان کی اجازت کے ساتھ ترجمہ کر کے قارئین کے لیے پیش کی گئی۔ ہم اس پر پاک پیشن انتظامیہ کے شکر گزار ہیں۔

Facebook Comments