پاک-بھارت کرکٹ بحالی، پاکستان کے لیے معاشی فائدہ ندارد

رواں ہفتے کے اوائل میں پانچ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ روابط کی بحالی پر پاکستان کرکٹ شائقین بہت خوش ہوئے ہوں گے اور بلاشبہ یہ ہے بھی خوشی کی خبر۔ کیونکہ روایتی حریف بھارت کے ساتھ میچ دیکھنے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان کرکٹ شائقین کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ امن و امان کی خراب صورتحال اور 2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے کی پاکستان کرکٹ کتنی بھاری قیمت چکا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھارت کے ساتھ کرکٹ روابط بحال کرنے کے لئے اس کی ہر جائز و ناجائز شرط کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے۔

فی الحال پاکستان کے لیے سیریز میں کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ روایتی حریفوں کے درمیان تعلقات پانچ سال کے طویل عرصے بعد بحال ہوں گے (تصویر: AFP)

فی الحال پاکستان کے لیے سیریز میں کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ روایتی حریفوں کے درمیان تعلقات پانچ سال کے طویل عرصے بعد بحال ہوں گے (تصویر: AFP)

دونوں روایتی حریفوں کے درمیان آخری باضابطہ سیریز 2007ء میں ہوئی تھی جب پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے فیوچر ٹورز پروگرام (ایف ٹی پی) کے مطابق پاک-بھارت سیریز کی میزبانی کی باری اب پاکستان کی تھی لیکن ممبئی دہشت گرد حملوں کی وجہ سے باہمی تعلقات میں خرابی، پاکستان میں امن و امان کی خراب صورت حال اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ پاکستان سے رخصت ہو چکی اور یوں بھارت کو جوابی دورہ کرنے سے انکار کا جواز مل گیا، جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ انگلستان، سری لنکا اور آسٹریلیا کے ساتھ نیوٹرل میدان پر کامیابی کے ساتھ سیریز کا انعقاد کرچکا ہے لیکن بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر بھارتی کرکٹ بورڈ کسی تیسرے ملک میں بھی پاکستان کے ساتھ کھیلنے پر آمادہ نہ تھا۔ لیکن دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ، جس نے جون میں اپنے سالانہ بجٹ میں 70 کروڑ روپے کا خسارہ ظاہر کیا ہے، اس خسارے کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت نظر آرہی تھی کہ کسی بھی طرح بھارت کے ساتھ کرکٹ روابط بحال کئے جائیں-

ایسے میں رواں ہفتے کے آغاز پر پاک بھارت سیریز کا انعقاد کا اعلان ایک طرح سے ذکا اشرف کی کامیابی ہی ہے لیکن دوسری طرف انہوں نے واضح کیا ہے کہ پی سی بی بھارت میں طے شدہ سیریز کی آمدنی میں حصہ لینے کامطالبہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ پی سی بی کے ترجمان ندیم سرور کے مطابق ”چیئرمین ذکا اشرف کی اولین ترجیح پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ روابط کو ازسر نو استوار کرانا تھا۔ ہم چاہتے تھے کسی طرح ان روابط کا آغاز کیا جائے جس کے لئے ہم گزشتہ سال اکتوبر سے بی سی سی آئی سے مذاکرات کررہےتھے۔“ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایسی تمام خبروں، جن میں پی سی بی اور بی سی سی آئی کے درمیان پاک بھارت سیریز کی آمدنی کی تقسیم پر آمادگی اور اس حوالےسے صلاح مشورے کی اطلاعات دی گئی ہیں، کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مذاکرات میں اس پر بات ہی نہیں ہوئی ہے۔“ اس سے پہلے ذکا اشرف نے 29 جون کو معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہم اس بات پر تو پہلے ہی متفق ہوچکے ہیں کہ پاکستان بھارت کرکٹ روابط بحال کئے جائیں اور بی سی سی آئی کے سربراہ این شری نواسن نے دوبارہ اس کی یقین دہانی کروا دی ہے لیکن مقام کا تعین اور آمدنی کے معاملات ابھی طہ کرنے باقی ہیں۔“

پاکستان کرکٹ بورڈ کی معاشی خراب حالت کے پس منظر میں مجھے نہیں معلوم ان روابط کےبحالی سے معاشی لحاظ سے کیا فائدہ پہنچے گا۔ ہوسکتا ہے ذکا اشرف کا خیال ہو کہ ایک مرتبہ یہ روابط بحال ہوجائیں تو پھر مستقبل قریب میں، جیسے ہی ملک کے حالات میں کچھ بہتری آئے، تو بھارت اور دیگر ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے پر آمادہ کیا جائے اور یوں مالی خسارے کو کم کیا جائے۔

Facebook Comments