ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیشی بیٹنگ کا جنازہ نکال دیا

گزشتہ چند روز میں جب عالمی کپ میں دلچسپ میچز سامنے آنے لگے تھے اور آئرلینڈ کی انگلستان کے خلاف یادگار فتح اور کینیڈا کے پاکستان کے خلاف شاندار کھیل نے کرکٹ کا حسن دوبالا کر دیا تھا ایسے وقت میں 4 مارچ کو کھیلے گئے دو میچز نے شائقین کرکٹ کے دل توڑ دیے خصوصا بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والے میچ نے ۔ جہاں میرپور، ڈھاکہ کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم موجود ہزاروں بنگالی تماشائیوں کی موجودگی میں ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیشی بیٹنگ کا جنازہ نکال دیا۔ پورا میچ محض 31 اوورز میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ میزبان کے لیے اس سے بڑھ کر شرم کا مقام بھی آیا جب ویسٹ انڈین ٹیم کی میدان سے ہوٹل واپسی پر ان کی بس پر پتھراؤ کیا گیا۔

اک ایسے میچ میں جس کے بارے میں دنیا ئے کرکٹ کو یقین تھاکہ گیند اور بلے کے درمیان شاندار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا اور بنگلہ دیشی شائقین سمیت برصغیر سے تعلق رکھنے والی اکثریت کو بنگلہ دیش پر اعتماد تھا کہ وہ اچھے کھیل کا مظاہرہ کرے گی، لیکن امیدوں کے یہ چرا غ اس وقت گل ہو گئے جب بنگلہ دیش اپنی پہلی اننگ میں محض 58 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا۔ یہ عالمی کپ کی تاریخ میں کسی بھی مکمل رکنیت رکھنے والی ٹیم کا کم ترین اسکور ہے۔ بنگلہ دیش کے صرف دو بلے بازوں کی اننگ دہرے ہندسے میں داخل ہو سکی اور ان کے چار بلے باز ایسے تھے جو اپنے رنز کا کھاتہ بھی نہ کھول سکے۔

اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ ویسٹ انڈیز کی اسپن، فاسٹ اور میڈیم باؤلنگ کی مثلث نے بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن اپ کو کچل کر رکھ دیا۔ تیز گیند باز اور گزشتہ میچ کے ہیرو کیمار روچ اور میڈیم پیسر کپتان ڈیرن سیمی نے تین، تین جبکہ اسپنر سلیمان بین نے چار بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا۔

کیمار روچ محمد اشرفل کی وکٹ حاصل کرنے کے بعد شاداں و فرحاں (گیٹی امیجز)

بنگلہ دیشی بیٹنگ کی تباہی کا آغاز پہلے ہی اوور سے ہوگیا تھا جب بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اولین اوور کی تیسری گیند پر تمیم اقبال کیمار روچ کی گیند پر کپتان ڈیرن سیمی کو کیچ تھما بیٹھے۔ پھر گویا یہ سلسلہ رکنے ہی میں نہیں آیا۔ چوتھے اوور میں امر القیس (5) رنز بنا کر سیمی کا شکار بنے۔ چھٹے اوور کی پہلی گیند وکٹ کیپر بیٹسمین مشفق الرحیم (صفر) کی آخری گیند ثابت ہوئی جب وہ سیمی کا دوسرا نشانہ بنے۔ نویں اوور میں روچ نے بنگلہ دیشی اننگ کے ٹاپ اسکورر جنید صدیق (25 رنز) کو وکٹوں کے سامنے جا لیا۔ امپائر کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نے نظر ثانی (ریویو) کا مطالبہ کیا لیکن تیسرے امپائر کا فیصلہ بھی ان کے خلاف گیا۔

محض 36 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ ہو جانے کے بعد ضرورت اس بات کی تھی کہ وکٹ پر قیام کیا جاتا۔ کپتان شکیب الحسن کریز پر موجود تھے لیکن 41 کے مجموعی اسکور پر جب سلیمان بین نے شکیب کو بولڈ کیا تو گویا بنگلہ دیشی تابوت میں اہم کیل ٹھونک دی گئی۔ آگے کے تمام بلے باز کوئی قابل ذکر مزاحمت نہ کر سکے اور بنگلہ دیشی اننگ کی بساط 19 ویں اوور میں محض 58 رنز پر لپیٹ دی گئی۔ جنید کے علاوہ محمد اشرفل کی اننگ بھی دہرے ہندسے میں داخل ہوئی جو محض 11 رنز بنا سکے۔

بلے بازی کے اس ناقص مظاہرے پر گویا تماشائیوں سے بھرے اسٹیڈیم میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ تماشائیوں نے "چوکے" اور "چھکے" کے پلے کارڈز پھاڑ کر پھینک دیے اور جوق در جوق گھروں کو پلٹنے لگے۔

ویسٹ انڈیز نے محض 13 ویں اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر ہدف پورا کر لیا۔ کرس گیل 37 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔ اس اننگ کے دوران انہوں نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے 8 ہزار رنز بھی مکمل کیے۔ ویسٹ انڈیز کی گرنے والی واحد وکٹ نعیم اسلام کےہاتھ لگی۔

کیمار روچ کو ایک مرتبہ پھر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

آئرلینڈ کی انگلستان کے خلاف فتح کے بعد گروپ بی سے اگلے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات تمام ٹیموں کے لیے یکساں تھے اور یہ بات دونوں ٹیمیں جانتی تھیں کہ اس میچ میں فتح کا مطلب ہے کہ کوارٹر فائنل کی دوڑ میں برقرار رہنا۔ لیکن ویسٹ انڈیز کی تباہ کن باؤ لنگ نے نہ صرف بنگلہ دیش کی امیدوں کو زبردست ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ اس نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو بھی پریشان کر دیا ہے جو 2015ء کے اگلے عالمی کپ میں ٹیموں کی تعداد کم کر کے محض 10 کرنا چاہ رہا ہے ۔ جس میں آئی سی سی کے فل ممبرز ہی شامل ہوں گے۔ آج زمبابوے اور بنگلہ دیش کی اپنے میچز میں بدترین شکست نے ایسوسی ایٹ اراکین کے سر اور بلند کر دیے ہیں جو آئی سی سی کے ممکنہ فیصلے کے خلاف آوازیں بلند کر رہے ہیں۔

ویسٹ انڈیز اب اگلےمرحلے تک پہنچنے کی بہترین پوزیشن میں آ چکا ہے۔ تین میں سے دو میچز میں فتوحات حاصل کرنے کے بعد وہ ناقابل شکست جنوبی افریقہ کے بعد گروپ میں دوسرے نمبر پر آ چکا ہے جبکہ اس کا اگلا میچ آئرلینڈ کے خلاف ہے جس کے خلاف فتح کے بعد اس کے امکانات بہت زیادہ روشن ہو جائیں گے البتہ اسے انگلستان اور بھارت کے خلاف اپنے آخری میچز میں بھرپور کارکردگی دکھانا ہوگی۔

دوسری جانب بنگلہ دیش تین میچز میں ایک فتح اور دو شکستوں کے بعد گروپ میں آئرلینڈ سے بھی پیچھے چلا گیا ہے۔ اب جبکہ اس کےاگلے میچز میں اسے محض نیدرلینڈز کے خلاف ہی فتح مل سکتی ہےاور انگلستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف اس کی فتح کے امکانات نظر نہیں آتے۔ اس لیے ایک حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بڑا اپ سیٹ ہی اب بنگلہ دیش کو اگلے مرحلے میں پہنچا سکتا ہے۔

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments