بھارت سری لنکا کو زیر کر کے عالمی نمبر دو بن گیا

بھارت جو 2011ء میں عالمی کپ جیت کر بھی درجہ بندی میں ترقی نہیں پا سکا تھا، سری لنکا کے خلاف 4-1 کی فتح سمیٹ کر وہ دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ سیریز میں اگر وہ ایک مقابلے میں سری لنکا سے شکست نہ کھاتا تو حیران کن طور پر نمبر ایک پوزیشن ہتھیا لیتا۔ دوسری جانب سری لنکا پاکستان کے خلاف شاندار فتح کے بعد ایک مایوس کن شکست سے دوچار ہوا ہے۔

عرفان پٹھان نے اپنی اہلیت ثابت کر دی، قیمتی رنز بھی بنائے اور 5 وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: AFP)

عرفان پٹھان نے اپنی اہلیت ثابت کر دی، قیمتی رنز بھی بنائے اور 5 وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: AFP)

پالی کیلے میں ہونے والے پانچویں و آخری ایک روزہ میں بھارت نے گوتم گمبھیر، منوج تیواری اور مہندر سنگھ دھونی کی نصف سنچریوں کی بدولت 294 رنز کا بڑا مجموعہ اکٹھا کیا اور سری لنکا کے 102 پر 5 کھلاڑی آؤٹ کر کے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ گو کہ سری لنکا نے لاہیرو تھریمانے اور جیون مینڈس کی عمدہ بلے بازی نے آخر تک سری لنکن امیدوں کو روشن رکھا لیکن 20 رنز قبل ہی قصہ تمام ہوا۔

آخری 7 اوور میں جس وقت سری لنکا کو فتح کے لیے 43 رنز درکار تھے، عرفان پٹھان نے آل راؤنڈر تھیسارا پیریرا اور جیون مینڈس کی وکٹیں حاصل کر کے میچ کو مکمل طور پر بھارت کے پلڑے میں جھکا دیا اور سیریز میں دوسری مرتبہ 5 یا زائد وکٹیں حاصل کیں۔

سری لنکازخمی کمار سنگاکارا کی خدمات سے محروم تھا ہی لیکن اس نے کپتان مہیلا جے وردھنے کو بھی آرام کا موقع دیا اور یوں اپنی شکست کا سامان تیار کیے رکھا۔ دونوں اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں بھاری ذمہ داری تلکارتنے دلشان کے کاندھوں پر تھی لیکن وہ عرفان پٹھان کے پہلے ہی اوور میں صفر کی ہزیمت کا شکار ہوئے اور سری لنکا مقابلے میں واپس نہ آ سکا۔ اوپل تھارنگا 31، دنیش چندیمال 8، کپتان اینجلو میتھیوز 13 اور چمارا کاپوگیدرا 9 رنز بنا کر پویلین لوٹے توسری لنکا محض 102 رنز پر آدھی ٹیم گنوا چکا تھا۔

لاہیرو تھریمانے اور جیون مینڈس نے چھٹی وکٹ پر 102 رنز کی شراکت داری کے ذریعے لنکن امیدوں کے چراغ ضرور روشن کیے لیکن تھریمانے کے 77 کے انفرادی اسکور پر رن آؤٹ نے منصوبہ تلپٹ کر دیا۔ بعد ازاں فیصلہ کن ضرب 252 کے مجموعی اسکور پر پھر عرفان پٹھان نے لگائی اور پیریرا اور مینڈس کو ایک ہی اوور میں ٹھکانے لگا دیا۔ مینڈس نے 88 گیندوں پر 72 رنز بنائے۔

سری لنکا کی پوری ٹیم 46 ویں اوورمیں 274 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جب اسے فتح کے لیے محض 20 رنز کی ضرورت تھی یعنی اگر وکٹیں ہوتی تو میزبان لنکا باآسانی جیت سکتا تھا۔

عرفان پٹھان کی 5 وکٹوں کے علاوہ دو وکٹیں اشوک ڈنڈا او ایک ظہیر خان نے حاصل کی۔

قبل ازیں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور گوتم گمبھیر کے 88، منوج تیواری کے 65 اور آخری لمحات میں کپتان مہندر سنگھ دھونی کے شاندار 58 رنز کی بدولت ایک بڑا مجموعہ حاصل کر لیا۔ ان تینوں بلے بازوں کے علاوہ عرفان پٹھان نے آخر میں 28 گیندوں پر 29 رنز بنا کر اہم حصہ ڈالا۔

روہیت شرما، مسلسل پانچویں مقابلے میں ناکام ہوئے۔ گو کہ وہ اس مرتبہ صفر کی ہزیمت سے بچ گئے لیکن شاید 13 رنز کی اننگز ان کو بچنانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ اس کے مقابلے میں منوج تیواری نے مسلسل دو میچز میں عمدہ کارکردگی پیش کر کے اپنی اہمیت جتلا دی ہے۔ انہوں نے 68 گیندوں پر 65 رنز بنائے۔

گمبھیر بدقسمتی سے ایک مرتبہ پھر سنچری تک نہ پہنچ سکے اور 88 کے انفرادی اسکور پر سینانائیکے کی واحد وکٹ بن گئے۔

عرفان پٹھان کو میچ اور ویراٹ کوہلی کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس شاندار فتح کے نتیجے میں بھارت کو عالمی درجہ بندی میں دو قیمتی پوائنٹس ملے ہیں جس کے نتیجے میں وہ 119 پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔ گو کہ سرفہرست آسٹریلیا کے بھی اتنے ہی پوائنٹس ہیں لیکن اعشاریہ کے معمولی فرق سے اسے بدستور برتری حاصل ہے۔ اگر آسٹریلیا پاکستان کے خلاف سیریز میں شکست سے دوچار ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ بھارت عالمی نمبر ایک پوزیشن ہتھیا لے۔ دوسری جانب سری لنکا کو مزید دو پوائنٹس کا خسارہ ہوا ہے اور وہ 112 سے 110 تک آ چکا ہے۔ گو کہ اس کی (پانچویں) پوزیشن میں کمی واقع نہیں ہوئی لیکن پاکستان آسٹریلیا کے خلاف آنے والی سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھا کر اسے اس پوزیشن سے اتار سکتا ہے۔

Facebook Comments