ہیڈنگلے ٹیسٹ فیصلہ کن نہ بن سکا، بارش کے باعث بے نتیجہ

بارش نے جنوبی افریقہ کو سیریز میں بالادست پوزیشن حاصل کرنے سے تو روک دیا، لیکن بہرحال اسے ناقابل شکست برتری ضرور حاصل ہو گئی ہے۔ ہیڈنگلے میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ متعدد بار بارش کی نذر ہو جانے کے بعد فیصلہ کن مرحلے تک نہ پہنچ پایا گو کہ آخری روز چائے کے وقفے پرجنوبی افریقہ نے اننگز ڈکلیئر کرنے کے بعد میچ کو فیصلہ کن بنانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ آخری سیشن میں صرف 4 انگلش وکٹیں حاصل کر پائے اور یوں میچ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا۔

چوتھے دن کی بارش نے میچ کے فیصلے پر کاری ضرب لگائی (تصویر: AFP)

چوتھے دن کی بارش نے میچ کے فیصلے پر کاری ضرب لگائی (تصویر: AFP)

لیڈز میں صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں انگلستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن پہلا پورا سیشن ان کا حریف اوپنرز گریم اسمتھ اور الویرو پیٹرسن کے خلاف جدوجہد میں گزرا جنہوں نے پہلی وکٹ پر 120 رنز کی زبردست رفاقت قائم کی اور جنوبی افریقہ کو ابتدا ہی سے حوصلہ افزا پوزیشن پر پہنچایا۔ گریم اسمتھ بحیثیت کپتان اپنے ریکارڈ 93 ویں ٹیسٹ میچ میں 52 کے انفرادی اسکور پر پویلین لوٹے۔ وہ لارڈز میں ہونے والے اگلے ٹیسٹ میں بحیثیت کپتان سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا عالمی ریکارڈ توڑ دیں گے جو اس وقت آسٹریلیا کے عظیم کپتان ایلن بارڈر کے پاس ہے۔

بہرحال، گریم اسمتھ کے آؤٹ ہونے کے بعد پروٹیز کو گزشتہ میچ کے دونوں ہیروز ہاشم آملہ اور ژاک کیلس کی وکٹوں سے بھی محروم ہونا پڑا البتہ ابراہم ڈی ولیئرز کے 47 انفرادی رنز اور الویرو پیٹرسن کے ساتھ چوتھی وکٹ پر 97 رنز کی شراکت داری نے مزید نقصانات سے بچا لیا۔

اوول میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں کراری شکست کے مرکزی کرداروں نے تو انگلستان نے چھٹکارہ پا لیا، لیکن انہیں جس بلے بازسے سب سے کم توقع تھی، وہی ان کے خلاف اہم ثابت ہوا۔ پہلے روز کے اختتام پر جنوبی افریقہ 262 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ بہتر پوزیشن پر تھا خصوصاً الویرو پیٹرسن کی 124 رنز کے کریز پر موجودگی، پے در پے گرنے والی وکٹوں کے نقصان کا ازالہ کر رہی تھی۔ پیٹرسن نے اپنے کیریئر کی یہ چوتھی سنچری بنائی جو انگلستان کے خلاف ان کی تہرے ہندسے کی پہلی اننگز بھی تھی۔ دوسرے روز انہوں نے روڈلف کے ساتھ اسکور کو 318 تک پہنچایا۔ بدقسمتی سے خود الویرو پیٹرسن اپنی پہلی ٹیسٹ ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے البتہ کیریئر کے بہترین اسکور 182 رنز پر ان کی اننگز تمام ہوئی۔ 365 گیندوں پر 23 چوکوں سے مزین اس اننگز کے دوران الویرو 533 منٹ تک کریز پر موجود رہے اور بلاشبہ انہیں تاحیات یہ اننگز یاد رہے گی۔

ژاں پال دومنی کے 48 رنز نے جنوبی افریقہ کو 400 کی نفسیاتی حد پوری کرنے میں مدد دی اور پوری ٹیم 419 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

انگلستان کی جانب سے اسٹورٹ براڈ نے 3 جبکہ جیمز اینڈرسن اور اسٹیون فن نے 2،2 اور ٹم بریسنن اور کیون پیٹرسن نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

دوسرے روز چائے کے وقفے کے بعد جب انگلستان نے کھیل کا آغاز کیا تو انہیں اس وقت کے دنیا کے بہترین پیس اٹیک کا سامنا تھا۔ لیکن بارش کی آمد کی وجہ سے آخری سیشن میں صرف 18 اوورز کا کھیل ہی ممکن ہو سکا، جس میں انگلستان نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 48 رنز بنائے۔

لیکن تیسرادن انگلستان کی توقعات کے مطابق شروع نہ ہو سکا۔ اسے ابتدا ہی میں ایلسٹر کک سے محروم ہونا پڑا، پھر کھانے کے وقفے کے فوراً بعد کپتان اسٹراس بھی 37 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ میچ آہستہ آہستہ انگلستان کے ہاتھوں سے پھسل جاتا لیکن کیون پیٹرسن نے کیریئر کی 21 ویں اور یادگار ترین سنچری داغ کر تن تنہا مقابلے کو برابری کی پوزیشن پر لا پھینکا۔ اسی سنچری اننگز کے دوران انہوں نے 7 ہزار ٹیسٹ رنز کا سنگ میل بھی عبور کیا۔

کیون پیٹرسن کی 149 رنز کی اننگز کی بدولت انگلستان نے تیسرے روز کا خاتمہ 351 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ سے کیا، یعنی جنوبی افریقہ کے پہلی اننگز کے اسکور سے محض 68 رنز کے فاصلے پر۔ مرد بحران میٹ پرائیر 20 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے اور انگلش ٹیم چوتھے دن کے کھیل سے قبل پرسکون نیند لے سکی۔

البتہ چوتھے روز صبح کی دوسری ہی گیند پر کیون پیٹرسن کے پویلین لوٹنے اور بعد ازاں 425 پر پوری ٹیم کے ڈھیر ہو جانے نے میچ کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیا لیکن بارش نے فیصلہ کن کردار ادا کر ڈالا۔

کیون پیٹرسن کی 149 رنز کی اننگز نے میچ کو انگلستان کے ہاتھوں سے نکلنے سے بچایا (تصویر: AFP)

کیون پیٹرسن کی 149 رنز کی اننگز نے میچ کو انگلستان کے ہاتھوں سے نکلنے سے بچایا (تصویر: AFP)

عمران طاہر نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کی جبکہ دو،دو وکٹیں مورنے مورکل، ویرنن فلینڈر اور ڈیل اسٹین کو اور ایک وکٹ ژاک کیلس کو ملی۔

جب جنوبی افریقہ نے کھانے کے وقفے سے قبل ہی میدان میں اپنی دوسری باری شروع کی تو لگتا تھا کہ ایک مرتبہ پھر وہ بالادست پوزیشن حاصل کر لے گا لیکن پھر تمام دن کی بارش نے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ دو سیشن میں محض 17 اوورز کا کھیل ہوسکا جس میں جنوبی افریقہ نے 39 رنز بنائے۔ اب ایک دن میں میچ کا فیصلہ آنا تو بہت ہی مشکل لگتا تھا لیکن جنوبی افریقہ نے پانچویں روز اوپنرز ژاک روڈلف اور گریم اسمتھ کی سنچری شراکت داری کی بدولت چائے کے وقفے تک اسکور بورڈ پر 258 رنز جوڑ لیے اور اننگز ڈکلیئر کر دی تاہم اس کے لیے ان کے 9 کھلاڑی آؤٹ بھی ہوئے۔ روڈلف 69 اور گریم اسمتھ 52 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے باز رہے۔

پروٹیز کی اتنی زیادہ وکٹیں گرانے میں مرکزی کردار اسٹورٹ براڈ نے ادا کیا جنہوں نے کیون پیٹرسن کی جانب سے ابتدائی تینوں وکٹیں سمیٹنے کے بعد ایک اینڈ سے تباہی مچا دی۔ ابراہم ڈی ولیئرز، ژاک کیلس، دومنی، فلینڈر اور آخر میں مورنے مورکل کی وکٹیں حاصل کر کے انہوں نے میچ کو دلچسپ مرحلے میں داخل کر دیا۔

جنوبی افریقی قائد گریم اسمتھ کو اپنی باؤلنگ پر بھرپور اعتماد تھا اس لیے انہوں نے آخری سیشن کے لیے انگلستان کو 253 رنز کا ہدف دیا۔ دن کے کم از کم 39 اوورز ابھی باقی تھے یعنی کسی حد تک یہ قابل عبور ہدف تھا اور انگلستان نے ایلسٹر کک کے ساتھ کیون پیٹرسن کو اوپنر بھیج کر اپنے عزم کا اظہار بھی کیا لیکن چوتھے ہی اوور میں پیٹرسن کے آؤٹ ہونے اور بعد ازاں 75 کے مجموعے پر کپتان اینڈریو اسٹراس کے لوٹنے نے اس مقصد کو سخت دھچکا پہنچایا۔ جس کے بعد جوناتھن ٹراٹ اور این بیل نے مقابلے کو جنوبی افریقہ سے دور کرنے کے لیے دفاعی کھیل پیش کیا اور بالآخر اننز 130 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ مکمل ہوئی اور مقابلہ بے نتیجہ ثابت ہوا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ویرنن فلینڈر، ڈیل اسٹین اور ژاں پال دومنی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

کیون پیٹرسن کو شاندار اننگز پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں 16 اگست سے لارڈز کے تاریخی میدان میں تیسرا و آخری ٹیسٹ کھیلیں گی جہاں انگلستان کو اپنی عالمی درجہ بندی کی نمبر ایک پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے لازماً فتح حاصل کرنا ہوگی بصورت دیگر وہ نہ صرف سیریز بلکہ ایک سال پہلے حاصل کردہ سرفہرست حیثیت سے بھی محروم ہو جائے گا۔

Facebook Comments