بھارتی باؤلرز کو شعیب اختر جیسا بننا ہوگا: سارو گانگلی

بھارت دنیائے کرکٹ ایک اہم قوت بن چکا ہے اور اس وقت عالمی چیمپئن بھی ہے لیکن اس کی ایک کمزوری جو دہائیوں سے اسے ایک عظیم ٹیم نہیں بننے دے رہی، وہ معیاری تیز گیند بازوں کی عدم موجودگی ہے۔ اسی کی وجہ سے بھارت آج تک مستقل بنیادوں پر دنیائے کرکٹ کی ایک عظیم قوت نہیں بن پایا۔ اب جبکہ وہ دنیائے کرکٹ کا حکمران ہے اور سرفہرست ٹیموں میں شمار ہو رہا ہے،لیکن کئی ماہرین خصوصاً بھارتی کھلاڑیوں کی نظر میں یہ کمی بہت کھل رہی ہے۔

بھارتی باؤلرز کو شعیب اختر کی طرح خود پر تیز سے تیز گیند پھینکنے کا بھوت سوار کرنا ہوگا (تصویر: Getty Images)

بھارتی باؤلرز کو شعیب اختر کی طرح خود پر تیز سے تیز گیند پھینکنے کا بھوت سوار کرنا ہوگا (تصویر: Getty Images)

بھارت کے معروف روزنامے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ہفتے کے روز کولکتہ میں ایک تقریب کے دوران بھارت کے سابق کپتان سارو گانگلی نے کہا ہے کہ ہمارے گیند باز تیز رفتار باؤلنگ کی قوت نہیں رکھتے۔ جب مناف پٹیل اور ظہیر خان نے قومی ٹیم میں جگہ پائی تو وہ کافی تیز تھے لیکن مرحلہ وار ان کی رفتار میں کمی آتی گئی۔ معاملہ دراصل رویے کا ہے، بھارتی باؤلرز تیز باؤلنگ پر دھیان کم دیتے ہیں اور سوچتے زیادہ ہیں۔ انہیں شعیب اختر کی طرح بننا ہوگا، جن کے ذہن پر صرف تیز سے تیز گیند پھینکنے کا بھوت سوار ہوتا تھا۔

40 سالہ گانگلی نے بھارت کے نئے بلے باز ویراٹ کوہلی کو بہت سراہا اور انہیں بھارتی کرکٹ کا مستقبل قرار دیا۔ "وہ نہ صرف مستقبل کے اسٹار کھلاڑی ہیں بلکہ بھارت کی کرکٹ کا مستقبل بھی انہی پر منحصر ہے۔" انہوں نے کہا کہ کوہلی، منوج تیواری اور چیتشور پجارا ملکی کرکٹ کے تین عظیم ناموں سچن تنڈولکر، وی وی ایس لکشمن اور راہول ڈریوڈ کی جگہ لینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ سب باصلاحیت ہیں تاہم انہیں کچھ وقت دینے کی ضرورت ہے۔

بھارتی ٹیم اس وقت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے لیے تیاریاں پکڑ رہی ہے، جس کے لیے ٹیم میں اشوک ڈنڈا جیسے نوجوان ہی نہیں بلکہ عرفان پٹھان اور لکشمی پتھی بالاجی جیسے آزمائے ہوئے کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بالاجی کی طویل عرصے بعد ٹیم میں واپسی ظاہر کر رہی ہے کہ بھارت تیز گیند بازی کے شعبے میں کس ’قحط الرجال‘ کا کا شکار ہے کہ اسے تین سال بعد ایک باؤلر کو دوبارہ ٹیم میں جگہ دینا پڑ رہی ہے۔

Facebook Comments